| |
Home Page
جمعہ یکم محرم الحرام 1439ھ 22 ستمبر 2017ء
عابد تہامی
June 30, 2016 | 12:00 am
راہ نجات!

Raahe Nijaat

دنیا میں پاکستان ان ممالک کی فہرست میں پہلے نمبروں پر آتا ہے جہاں لوگ دل کھول کر چیرٹی کرتے ہیں ، ایک اخباری رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال ساڑھے چار کھرب روپے کے عطیات ، صدقات ، خیرات اور زکوٰۃ، غربا ، مساکین ، اور یتیموں پر خرچ کئے جاتے ہیں۔ پاکستان میں ایدھی فائونڈیشن سے لیکر شوکت خانم ، چھیپا سے لیکر فلاح انسانیت اور اسطرح کے سینکڑوں ادارے انسانوں کے دکھ درد بانٹ رہے ہیں ۔ آج کے کالم میں چند ایسے ادارے جنکا میںنے ذاتی طور پر بڑا قریب سے مشاہدہ کیا ہے ۔ انکی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے مخیر حضرات سے اپیل کرنی ہے وہ نیکی کے اس کام میں تعاون کر کے اللہ کی قربت حاصل کر سکتے ہیں ، خلق خدا کو خوش کرنا دراصل خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کے مترادف ہے ۔ اللہ ہم سب کو ایسا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ( آمین ) آخرمیں چند ایسے مستحق افراد کے حوالے سے مخیر حضرات سے اپیل بھی ہے کہ وہ اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈالیں ۔
سندس فائونڈیشن! پاکستان میںتھیلے سیمیا میںمبتلا لوگوں کا اندازہ ایک لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ ہر سال سات ہزار تک نئے مریضوں کا اضافہ ہوتا ہے۔ تھیلے سیمیا، ہیموفیلیا ، بلڈ کینسر اور خون کی دیگر بیماریوں میں مبتلا بچوں کو سندس فائونڈیشن انکی ضرورت کا خون گزشتہ 18برس سے مفت فراہم کررہاہے۔ اب یہ ادارہ منو بھائی کی زیر سرپرستی کام کررہا ہے ۔ ہمیں اپنے عطیات اور زکوٰۃ دیتے وقت اس ادارہ کو نہیں بھولنا چاہئے ۔ اسکا اکائونٹ فیصل بنک علامہ اقبال ٹائون لاہور کی برانچ میں ہے۔ 0465005180111005
الخدمت فائونڈیشن ! بے سہارا اور دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف عمل الخدمت فائونڈیشن کا قیام 1990ء میںعمل میں آیا ۔ یہ پاکستان میں رضا کاروں کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے ، آفات سے بچائو ہمیشہ اسکی پہلی ترجیح رہی۔ ویسے اسکا دائرہ کار صحت ، تعلیم ، کفالت یتامیٰ، صاف پانی، مواخات اور دیگر سماجی خدمات تک پھیل چکا ہے۔ اسوقت ملک بھر میں اسکے تحت 15میٹر نٹی ہومز، 19جنرل اسپتال ، 158کلینک اور ڈسپنریاں ، ایک سو ڈائیگناسٹک سینٹرز، دس بلڈبنک اور 271 ایمبولینس خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ اسوقت پاکستان میں 42لاکھ سے زائد یتیم بچے ہیں جنکی بڑی تعداد کو تعلیم صحت کی سہو لتیںمیسر نہیں ، الخدمت آر فن سپورٹ پروگرام کے تحت تمام صوبہ جات بشمول آزادکشمیر ، گلگت ، بلتستان اور فاٹا میں 6ہزار کی کفالت کر رہا ہے۔ مواخات پروگرام کے تحت بلا سود 9کروڑ 85لاکھ سے زائد قرضے دے چکا ہے۔ اس سال بھی رمضان المبارک میں 45ہزار خاندانوں کو خشک راشن تقسیم کیا گیا۔
اخوت! پاکستان میں قرضہ حسنہ کا سب سے بڑا پروگرام ہے، اخوت بھائی چارے کے اسلامی اصولوں پر قائم ایک ایسا ادارہ ہے جو گزشتہ پندرہ برسوں سے غربت کے خاتمے کیلئے سرگرم عمل ہے ۔اس ادارے کی اہم حکمت عملی چھوٹے قرضوں کی فراہمی ہے ۔ اخوت عطیات کیلئے مخیر حضرات اور حکومت سے رجوع کرتا ہے۔ اخوت پنجاب حکومت کے پروگرام وزیراعلیٰ اسکیم پر بھی عملدرآمد کا ذمہ دار ہے۔ یہ پروگرام اب تک 27ارب روپے سے زیادہ رقم کے قرضے تقسیم کر چکا ہے جنکی واپسی کی شرح اللہ کے فضل سے سو فیصد کے قریب ہے۔ لاہور سے شروع ہونیوالا یہ کام پاکستان کے چاروں صوبوں میں پھیل چکا ہے اور اب تک اس کی 5سو برانچیں کام کر رہی ہیں۔ نیکی کے اس سفر میں ہمیں مدد گار بننا چاہئے۔ غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ! غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کا رجحان دور دراز اور پسماندہ دیہاتوں کے کم وسیلہ خاندانوں کی جانب ہے جنکی مالی مجبوریوں کی وجہ سے تعلیم تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔ گزشتہ بیس سال سے یہ ٹرسٹ اسی فلسفے کی بنیاد پر تعلیمی منصوبہ چلا رہا ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں کے پسماندہ دیہاتوں میں ٹرسٹ کے 672 اسکول ہیں جہاں 75ہزار سے زائد کم وسیلہ خاندانوں کے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جن میں سے تقریباً 42ہزار طلبہ و طالبات یتیم و مستحق ہیں اور انکی مکمل تعلیمی سرپرستی ٹرسٹ کی جانب سے کی جارہی ہے۔ ایک یتیم یا مستحق بچے کی سالانہ تعلیمی کفالت 12ہزار جبکہ اسپیشل بچے کی کفالت 20ہزار روپے ہے۔ ٹرسٹ کے یہ تمام پروجیکٹس مخیر حضرات کے عطیات سے چل رہے ہیں ۔ اسکا رابطہ دفتر -5ای ، ثمن برگ جوہر ٹائون لاہورہے۔
کوئی اپنی بیٹی سمجھے گا ! بٹگرام ضلع دیر کی بارہ سالہ حافظ قرآن لیلیٰ جو پانچویں کلاس کی ہونہار طالبہ ہے ۔ اسکے دونوں گردے ناکارہ ہو چکے ہیں۔ وہ ایک مزدور کی بیٹی ہے جو اپنے وسائل اور قرض لیکر بیٹی کا ہر مہینے دو سے تین مرتبہ ڈائیلسز کروا رہا ہے ۔ ڈاکٹروں نے تجویز کیا ہے کہ بچی کا گردہ تبدیل کروایا جائے ۔ باپ اپنی بیٹی کو اپنا ایک گردہ دینا چاہتا ہے اسکی تبدیلی کیلئے ڈاکٹروں نے ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے کا خرچہ بتایا ہے۔ لیلیٰ کی کلاس فیلوز اور ٹیچرز نے اس معصوم بچی کیلئے کچھ چندہ اکٹھا کیا ۔ مگر یہ تو صرف 39ہزار روپے ہیں۔ باپ نے بیت المال میں درخواست دی تو انہوں نے کہا کہ یہ زکوٰۃکا کیس ہے ، بیت المال سے پیسے نہیں دیئے جا سکتے تو باپ نے محکمہ زکوٰۃدیراپر میں 28فروری 2016ء کو درخواست جمع کروائی ۔ مگر آج تک وہ امداد حاصل کرنے سے محروم ہے۔ مخیر حضرات سےگزارش ہے کہ لیلیٰ کو اپنی بیٹی سمجھتے ہوئے اسکا علاج کروا دیجئے ۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے۔ والد 0308-5895077
نابینا خاندان ! یہ میرا قصور نہیں ، میری تو آنکھیں نہیں میںریٹائرڈ اسکول ٹیچر ہوں خدا تعالیٰ نے مجھے 4بیٹیاں اور چھ بیٹے عطا فرمائے۔ مگر یہ سارے کے سارے نابینا ہیں۔ میں پھر بھی ناشکری نہیں کرتا ۔ یہ اس رب کا فیصلہ ہے ، جو مجھے تسلیم ہے۔ اب میں ریٹائرڈ ہو چکا ہوں ، اتنی سکت نہیں کہ لیا ہوا قرض اتار سکو ں ۔ مخیر حضرات مجھے اس قرض سے نجات دلوائیں اور سرکاراپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرے تو میرے بچوں کیلئے کوئی وسائل پیدا کرے۔ میرے تمام بچے نعت خوانی کرتے ہیں اور ہمارا گزارا ختم القرآن کے شکرانے پر ہی ہوتا ہے۔ محمد آصف ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر ، تیمور گرہ، خبیر پختوانخوا
بیٹی کو کس طرح رخصت کروں! میں ایک چوکیدار ہوں۔ میری تنخواہ چار ہزار روپے ہے ۔ میری تین بیٹیاں تھیں ۔ دوکی شادی کرچکا ہوں ۔ تیسری بیٹی کی دو سال قبل منگی کی تھی ۔ اب سسرال والے شادی کا تقاضا کر رہے ہیں مگر میرے وسائل نہیں۔ میں زکوٰۃ کیلئے درخواستیں دے چکا ہوں ۔ متعلقہ آفس یہی کہتا ہے کہ پیسے نہیں ، میں مخیر حضرات سے درخواست کرونگا کہ میری بیٹی کی شادی کروا دیں مجھے نقد پیسوں کی ضرورت نہیں۔ ایک مجبور والد ہوں، ڈھیروں دعائیں ہی دے سکتا ہوں—فیض محمد محلہ حاجی طور ے ، ڈاکخانہ شبقدر 0305-9173755
مجھے زہر دے دیں ! ڈاکخانہ شوگر ملز پشاور سے ٹیکسی ڈرائیور نصرت خان نے لکھا ہے کہ میری بیوی کو دل کا دورہ پڑا ۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ اسکا ایک والو بند ہے اور جلد آپریشن کی ضرورت ہے ۔ سرکاری اسپتال نے اگست کی تاریخ دی ہے لیکن ڈاکٹروں نے جلد آپریشن کا مشورہ دیا ہے۔ اس کیلئے میں نے حکومت کے تمام دروازے کھٹکھٹائے ہیں ۔ بیت المال اور زکوٰۃ کے دفتروں میں بھی درخواستیں دے رکھی ہیں مگر کوئی امید دکھائی نہیں دے رہی۔ میری بیوی کہتی ہے کہ مجھے زہر دے دو ،مگر میرا پھر بھی یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ئی سبب پیدا کریگا اور کوئی خدا ترس ایک انسان کی زندگی بچانے کیلئے ضرور مدد کو آئیگا۔ 0308-5320404