| |
Home Page
جمعہ یکم محرم الحرام 1439ھ 22 ستمبر 2017ء
June 30, 2016 | 12:00 am
برطانیہ: ریفرنڈم کے بعدسیاسی جماعتوں میں قیادت کی کشمکش شروع

Todays Print

لندن (جنگ نیوز) یورپی یونین سے متعلق ریفرنڈم کے نتائج نے برطانیہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی طرف سے وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑنے کے اعلان کے بعد کنزرویٹو پارٹی کی قیادت کے لئے کئی امیدوار سامنے آ چکے ہیں جبکہ لیبر پارٹی کے سربراہ جرمی کوربن پر پارٹی کی سربراہی چھوڑنے کے لئے دباؤ بڑھ گیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے بدھ کے روز دارالعوام کے اجلاس کے دوران لیبر پارٹی کے رہنما جرمی کوربن کو ’قومی مفاد‘ میں پارٹی کی صدارت کو چھوڑنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ خدا کے لئے عہدہ چھوڑ دو۔ ریفرینڈم میں برطانوی عوام کے فیصلے آنے کے بعد کیمرون وزارت عظمیٰ کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرچکے۔ لیبر رہنما جرمی کوربن پر ریفرنڈم میں متاثر کن کارکردگی نہ دکھا پانے پر پارٹی کے اندر سے عہدہ چھوڑنے کا دباؤ بڑھا رہا ہے۔ لیبر پارٹی کے سابق سربراہ ایڈ ملی بینڈ کا کہنا ہے کہ لیبر پارٹی کو اس مرحلے میں ترقی پسندانہ انداز میں ڈھالنا ہوگا نہ کہ دائیں بازو کے ردعمل کے طور پر۔ ایسا شخص جو پارلیمانی پارٹی کے75فیصد اراکین کی حمایت کھو چکا ہو وہ پارٹی کا سربراہ نہیں رہ سکتا۔ ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ کچھ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ ریفرنڈم میں نسل پرستانہ رویہ کو قانونی حیثیت دی گئی ہے اور ہم سب کو مل کر کہنا ہے کہ آپ ایسا ہمارے نام پر نہیں کرسکتے۔ ادھر کنزرویٹو پارٹی نے نئے پارٹی لیڈر کے لئے نامزدگیاں شروع کر دی ہیں۔ لندن کے سابق میئر بورس جانسن جو یورپ کو چھوڑنے کی مہم میں پیش پیش تھے، ان کا کنزرویٹو پارٹی کا نیا سربراہ بننے کے امکانات زیادہ ہیں۔ بورس جانسن کے علاوہ کئی دوسرے امیدوار بھی میدان میں آچکے ہیں۔