• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسی سال جنوری میں اپنے بتیس سالہ بیٹے سید علی احتشام کی تدفین کے بعد باقی ماندہ اہلِخانہ کی دلجوئی کرتے ہوئے میں نے انہیں اللہ کی رضا پر سرِتسلیم خم کرتے ہوئے صبر و شکر اور خاندان کو بکھرنے کی بجائے متحد ہونے کی تلقین کی۔ اللہ بخشے، ہمارے والدین ہمیشہ کہتے تھے کہ اللہ اولاد کا دُکھ کسی دشمن کو بھی نہ دکھائے مگر اس دعا کے مفہوم کی ٹھیک سمجھ مجھے اس سانحہ کے بعدہی آئی۔ آج پشاور کے سانحہ میں پھول جیسے معصوم بچوں کا درندوں کے ہاتھوں اس دنیا سے چلے جانا ایک ایسا صدمہ ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے پھر بھی خیالات کا اظہار کرنا اپنا قومی فرض سمجھتا ہوں۔ میری رائے میں یہ جو کچھ بھی ہوا اس کے ذمے دار ہم خود ہیں ۔ ملکی تاریخ پر نظر ڈالئے تو آپ کو سیاسی قائدین کی سیاسی بصیرت کا فقدان ،عسکری قیادت کی عسکری معاملات کے علاوہ سیاسی معاملات میں خود اعتمادی اور بٹی ہوئی قوم کی بے حسی جیسی خامیاں نظر آئیںگی جنھوں نے آج ہمیںاس چوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اس صدی میں 9/11 نے دنیا کو یکسر تبدیل کر دیا مگر ہم ٹس سے مس نہ ہوئے۔ہمیں ہر شے میںاپنے خلاف کہیں نہ کہیں سے سازش ہوتی ہوئی نظر آئی اور ہر کام میں کوئی چھپا ہوا ہاتھ نظر آیا۔ ہم نے منافقت کا عملی مظاہرہ کیا اور قومی سطح پر مبالغہ آرائی کو بروئے کار لاتے ہوئے ایسی بے عمل حکمت عملیاںمرتب کیں جن کا مقّد ر روزِاول سے ناکامی کے سوا کچھ نہ تھا اس لئے وہ ناکام ہوتی رہیںمگر ہم نے ان ناکامیوں کوکامیابیاں بنا کر خوب ڈھول بجائے اور قومی مفاد کے نام پر ذاتی مفاد پرستی کو فروغ دیا۔امریکہ نے9/11 کے فوراً بعدبہت سی دوررس اصلاحات نافذ کیں۔بہت سے سیکورٹی محکموں کو یکجا کر کے ایک موثر
Home Land Security کے نام سے ادارہ بنایا۔ انٹیلی جنس کی ازسر نو تنظیم کی۔ دہشت گردوں کی مالی امداد کی ترسیل کو روکنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر قانون سازی کی اوریہاں تک کہ فوجی عدالتیںبھی بناڈالیں۔ ہم سے فقط 6عدد رعایتیں مانگیں تو ہم نے کمال فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دگنی دے ڈالیں۔ دہشت گردی میں پاکستان کی سرزمین استعمال نہ کرنے کی گزارش کی تو ہم نے ٹال مٹول سے کام لیا۔Do More کہا تو بولے No More ، یہ جنگ ہماری نہیں، جوں ہی امداد ملی تو جنگ ہماری ہو گئی۔وہ کہتے کہتے تھک گئے کہ اسامہ بن لادن ہمارے ہاں قیام پذیر ہے اورہم کالے چشمے پہنے انکار کرتے کرتے اتنے ڈھیٹ ہوئے کہ اسامہ نے تنگ آکر اپنی برآمدگی کا اعلان ازخودکر ڈالا مگر ہمارے نامی گرامی تجزیہ کاروں کے مطابق، صدام حسین کا پھانسی پر لٹکنا اوراسامہ کا چھاپے میں دبوچ لیا جاناکسی بیرونی سازش کا حصہ تھا۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے امریکہ نے جب 2001؁ء میں Patriot نامی قانون نافذ کیا تو اس وقت ہم سیاسی Patriotبنانے میں مشغول تھے ۔ اس تیرہ سالہ دہشت گردی کی جنگ کے دوران ہم نے Enlighten Moderation کے تقریباًسات سال ، NROکے پانچ سال او رگذشتہ دو سالوں سے الیکشن میں مجوزہ دھاندلی ڈھونڈنے میں گزار ڈالے۔ اس اثنا میں جو سانحہ بھی ہوا اس پرحکمرانوں نے خوب مذمت کی،سخت نوٹس لینے کے بیانات جاری کیے اور پھرہاتھ پر ہاتھ دھرے دوسرے سانحہ کا انتظار کیا۔ قارئین کرام آج قوم جاگ اٹھی ہے شائد ہمارے جیسے" کُبّے" کوایسی لات ہی کی ضرورت تھی ۔میں خوش ہوں کہ شائداب قوم کی قسمت بھی جاگ اٹھے گی۔ میں پُر امید ہوں مگر پھر بھی کچھ تحفظات رکھتا ہوں جو آپ سے شیئرکرنا چاہتا ہوں ـ"شائد کہ اُتر جائے تیرے دِل میں میری بات" ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم " جُز" کی بجائے " کُل" پر توجہ دیں اور انتہاپسندی کے رحجانات چاہے وہ سیاسی ، مذہبی یا معاشرتی ہوں ان کے خاتمے کے لئے جامع اقدامات کرتے ہوئے حکومت کی رٹ قائم کریں جو بدقسمتی سے آج ایک ریڑھی بان پر بھی ختم ہو چکی ہے۔ اگر ہم صرف دہشت گردی کے اوپر چڑھ دوڑیںگے تو علامتی علاج کر رہے ہوں گے اور مرض کو جڑ سے نہیں اکھاڑ سکیں گے۔ اس وقت قوم جذباتی طور پر طیش میں ہے جب کہ ہمیں طیش کی بجائے ہوش میں رہ کردوررس اقدامات کی ضرورت ہے، خدا نخواستہ اگرہمارے قائدین نے اہم نکات کو ہاتھ سے جانے دیا اور غیر ضروری اقدامات میں گھرے رہے تو اس بارحالات کو سدھارنا مشکل ہو جائے گا۔ اس پہچان کے لمحے میں ہم نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آج کے بعد کسی قسم کی انتہاپسندی ،دھونس یا دھمکی چاہے وہ سیاسی یا مذہبی ہو، نہیں چلنے دی جائیگی۔ یہ سب کچھ عمل سے ہو گا جس کا بدقسمتی سے فقدان رہا ہے اور اب بھی موجود ہے۔ اس سلسلے میں میری سفارش ہے کہ بدترین حالتِ جنگ میں ہونے کی وجہ سے ملک میںایمرجنسی کا نفاذ ناگزیرہے۔ یہ کام ہمارے قائدین خلوص نیت سے سر جوڑکر بیٹھ کر خوش اسلوبی سے کر سکتے ہیں۔ موجودہ وزیراعظم ہی کی قیادت میں واضح قومی نمائندگی کی حامل جماعتوں کی نمائندگی پر مشتمل یہ نمائندہ کابینہ تین سال کے لئے چُنی جائے اورمختصرترین ہو جس کو قومی اسمبلی سے منظور شدہ قومی ایجنڈہ دیا جائے جو انتہاپسندی کے خلاف مہم ، معاشی استحکام اور دوررس قومی اصلاحات جن کا تعلق صاف وشفاف الیکشن،جمہوریت کی بقا،انصاف اور قانون کی بالادستی سے ہو۔ان حالات میں وزارتِ داخلہ کا قلمدان فوج کی صوابدید پر چھوڑنے میں کوئی مضائقہ نہ ہو گا۔ یاد رہے کہ یہ ہمارے قائدین کے لئے بھی ـ" پہچان کا لمحہ" ہے۔ سفارشات تو اور بھی بہت سی ہو سکتی ہیں لیکن ضروری بات یہ ہے کہ ہم نے اس بار اپنے ہدف سے نہیں ہٹنا اور اگر خدانخواستہ ہٹ گئے یا ڈھیلے پڑ گئے تو یہ جاگی ہوئی قوم دہشت گردی کے ساتھ ساتھ قائدین کو بھی سلا دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
تازہ ترین