• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلام آباد کا سیاسی ماحول اور سردی دیکھ کر بچپن کی ابتدائی جماعتوں میں پڑھی جانے والی وہ کہانی یاد آ جاتی ہے جس میں خیمے کے باہر کھڑا اونٹ یخ بستہ رات میں اپنے مالک سے کہتا ہے کہ اجازت ہو تو منہ خیمے کے اندر کر لوں، باہر بہت سردی ہے۔ اجازت ملنے پر وہ پہلے منہ پھر تھوڑی سی گردن اور تھوڑی تھوڑی کرتے ساری گردن خیمے کے اندر کر لیتا ہے اور پھر دھیرے دھیرے وہ جب سارے کا سارا خیمے میں گھستا ہے تو اونٹ کے مالک کو باہر نکلنا پڑ جاتا ہے۔ اسلام آباد کے سیاسی خیمے کو بھی اسی قسم کے حالات کا سامنا ہے لیکن میرا مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی گفتگو مجھے راس نہیں آتی اس لئے میں احتراز سے کام لینے میں ہی عافیت سمجھتا ہوں۔ بہ قول استاد عبیر ابوذری کہ:
پلس نوں جے میں آکھاں چور تے فیدا کی
پچھوں کردا رہواں ٹکور تے فیدا کی
اسلام آباد کی کشادہ اور پرسکون سڑکوں پر رات بھر درختوں سے خشک پتے جھڑتے رہتے ہیں اور صبح جب ان پر ہم چلتے ہیں تو پائوں سے کرچ کرچ کی آوازیں بہت بھلی لگتی ہیں بالکل ویسے ہی جیسے ایک دیہاتی شہر آیا تو کپڑے کی ایک مارکیٹ سے گزرتے ہوئے کپڑا پھٹنے کی آواز سنی تو وہ دکان میں چلا گیا اور دکان دار سے کہا جتنا کپڑا تم نے پھاڑا اتنا اور پھاڑو۔ اس نے ویسا ہی کیا۔ دوبارہ، سہہ بارہ دکان دار سے ایسا کرایا گیا تو دکان دار نے دیہاتی سے پوچھا! آپ نے لینا کتنا ہے تاکہ ایک ساتھ پھاڑوں تو دیہاتی بولا! اس نے کپڑا وغیرہ نہیں خریدنا، بس کپڑا پھٹنے کی جو آواز ہے ’’جھر‘‘ وہ سننی ہے، بہت اچھی لگتی ہے۔ پشتو میں اس کو دل پشوری کرنا کہتے ہیں۔ خیبر پختون خوا اور سندھ کی حکومتیں ابھی تک دل پشوری کرتی آ رہی ہیں، دونوں صوبوں میں سن 2014ء میں کوئی قابل ذکر کام نہ ہوا اور سال ختم ہو گیا۔ مجموعی طور سے 2014ء رنج و الم، تھر پیاس اور دھرنے کا سال تھا، دسمبر 2014ء تو کبھی نہ بھولنے والا مہینہ بن گیا ہے۔ 16؍دسمبر سانحہ پشاور، ڈیڑھ سو گھروں میں صف ماتم، 25؍دسمبر کراچی کی ٹمبر مارکیٹ کے شعلے، 13؍گھرانے بے گھر اور 29؍دسمبر کو لاہور کی نئی انار کلی کے پلازہ کی آگ 13؍انسانی جانیں لے گئ الغرض 2014ء بے سروسامانی، کسمپرسی اور ملال میں گزر گیا۔
2015ء اس حوالے سے رحمتوں اور برکتوں والا سال ہو گا کہ اس میں دو بار عید میلادالنبیؐ منائی جائے گی۔ پہلی بار ماہ رواں 4؍جنوری کو اور دوسری بار 23؍د سمبر کو۔ ہم اسلام آباد کے رہنے والوں کو سال کے آغاز میں ہی میٹرو بس سروس کا تحفہ مل رہا ہے۔ اسلام آباد کے سارے انتظامی دفاتر چونکہ ریڈ زون میں ہیں جہاں ویگن، بس اور ٹیکسی کو جانے کی اجازت نہیں ہے، پرائیوٹ کار بہ طور ٹیکسی ریڈ زون تک کم از کم 500 سے 800 روپے لیا کرتی تھی مگر اب وہی سفر میٹرو بس سے 20 روپے میں ہوا کرے گا۔ پنجاب اور وفاقی حکومت نے راولپنڈی، اسلام آباد کے روزانہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد کو آسان، آرام دہ، ایئرکنڈیشن اور سستی ترین سفری سہولیات فراہم کر کے سفید پوش پروری کا ثبوت دیا ہے۔ راولپنڈی، اسلام آباد میں تقریباً 24؍کلومیٹر کا یہ منصوبہ 10؍مہینوں کی قلیل مدت میں تکمیل کو پہنچا ہے۔ اگر دھرنے کی وبا نہ ہوتی تو یکم جنوری کو میٹرو نے چل پڑنا تھا مگر اب 31؍جنوری کو ہم اسلام آباد کے شہری، تاریخ کے نئے اسلام آباد میں داخل ہو رہے ہیں۔
وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کے ساتھ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ جب کبھی کوئی اجتماعی کام کرنے لگتے ہیں تو اپنے پرائے سارے تنقید کرنے لگ جاتے ہیں۔ 1998ء میں ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ کیا تو دنیا کے منصف راہ میں حائل ہونے کی کوشش کرتے رہے۔ اس سے پہلے موٹر وے شروع کی تو واویلا مچ گیا۔ قومی اسمبلی میں محترمہ بے نظیر بھٹو سے اعتزاز احسن تک نے کہا جی ٹی روڈ کی مرمت کرو، موٹر وے کی عیاشی کی یہ قوم متحمل نہیں ہو سکتی لیکن جب موٹر وے بن گئی تو سب سے پہلے ان ہی لوگوں نے استفادہ کیا جو مخالفت کرتے تھے۔ لاہور میں میٹرو بس کا آغاز ہوا تو اسے عمران خان نے جنگلا بس کہہ کے تمسخر اڑایا لیکن لاہور کے پوش علاقوں کے گھروں میں کام کرنے والی خواتین سے کوئی جا کے پوچھے جو جھولیاں اٹھا اٹھا کے شہباز شریف کو دعائیں دیتی ہیں، جو روزانہ ٹھوکر نیاز بیگ سے شاہدرہ تک میلوں کا سفر 20؍روپے میں طے کرتی ہیں۔ جو رکشے والا تین، چار سو روپوں میں کروایا کرتا تھا، میٹرو بس کی کراچی میں اشد ضرورت ہے۔ کورنگی، ملیر، سہراب گوٹھ اور منگھوپیر سے صدر تک اگر میٹرو بس چلے تو عام آدمی کی زندگی کئی اقسام کے جھمیلوں سے بچ جائے۔ میٹرو بس سروس میں روپوں کے ساتھ ساتھ وقت کی بے انتہا بچت ہے، یہی عام آدمی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ وہ اکثر تاخیر سے منزل پر پہنچتا ہے۔
2014ء کتابوں کے حوالے سے بہت بہتر رہا، کم از کم مجھے بےتحاشا کتابیں ملیں لیکن پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ یہاں اگر کتاب چھپے تو لکھنے والا مقروض ہو جاتا ہے اور اگر امریکہ اور یورپ میں چھپے تو قلم کار کروڑ پتی بن جاتا ہے۔ کراچی سے راشد اشرف صاحب نے چراغ حسن حسرت کی زندگی پر خوبصورت کتاب بھجوائی جس میں انہوں نے اقرار کیا کہ ’’ہم تم کو نہیں بھولے‘‘ پاکستان میں ماضی قریب میں لکھنے والوں کی ایک لمبی قطار ہے جو چراغ حسن حسرت کو اپنا قلمی مرشد مانتی ہے۔ جناب راشد اشرف اور میری ایک قدر مشترک ہے کہ میں کبھی اقتدار پر بیٹھے لوگوں سے تعلقات رکھتا ہوں اور نہ ہی ذاتی غرض سے کبھی ان سے ملتا ہوں، یہی حالت راشد اشرف صاحب کی ہے کہ انہوں نے ابن صفی8سے مولانا عبدالسلام نیازی تک جس کسی پر بھی قلم اٹھایا تو غرض و غایت سے بے نیاز ہو کر زمانہ جن کو بھلانے میں لگا رہا، راشد اشرف نہ خود انہیں بھولے نہ کسی کو بھولنے دیا۔
سہیل احمد گوئیندی صاحب نے بھی لاہور سے میری لائبریری میں بے تحاشا اضافہ کیا مگر ملک مقبول احمد اور ان کے رفیق خاص علامہ عبدالستار عاصم نے تو حد کر دی ہے، اگر گوئیندی صاحب نے یہ کہہ کر ہماری حوصلہ افزائی کی کہ آپ ایک پبلی کیشنز کے ایم ڈی ہیں تو ملک مقبول صاحب نے کہا کہ فلاں اکیڈمی آپ کی ہوئی، سچّی بات ہے بہت ہی نایاب کتب جو مجھے کہیں سے دستیاب نہیں ہوتیں، وہ ملک مقبول صاحب اور علامہ عبدالستار صاحب خود کو مشکل میں ڈال کر فراہم کر دیتے ہیں۔ چند دنوں پہلے علامہ صاحب نے اپنا مرتب کیا ہوا پانچ جلدوں پر محیط بڑے سائز کا قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا بھیجا ہے جو ڈھائی ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں قیام پاکستان اور قائداعظم کے بچپن سے وفات تک کے حالات پر جتنا بھی آج تک برعظیم میں کام ہوا ہے وہ یکجا کر دیا گیا ہے۔ طلبا کیلئے انتہائی مفید اور ہر لائبریری کی ضرورت ہے۔
تازہ ترین