| |
Home Page
بدھ 24 ربیع الاوّل 1439ھ 13 دسمبر2017ء
شکیل انجم
August 22, 2015 | 12:00 am
ہم اور ہمارے قومی ادارے

Todays Print News

حکومتیںیہ جانتی ہیں کہ قومی اداروں کا استحکام ان کے قیام سے کہیں زیادہ دشوار عمل ہوتا ہے۔صرف ایک حکم نامے پر ادارے قائم ہوجاتے ہیں لیکن انہیں مضبوط بنیادوں پر استوار کر کے قومی اثاثہ بنانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے اداروں کے استحکام کےلیے ان کے معاشی اور انتظامی حالات بہتر بنانے کےلیے حکومت کی توجہ مبذول کرائی ہے۔اور اہم قومی اداروں کی معاشی ابتری پر خفگی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو اس جانب دھیان دینے کی ہدایت کی ہے۔اور کہا ہے کہ اگر حکومت قومی اداروں کو زندہ رکھنے اور فعال بنانے کےلیےفنڈز مہیا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی تو انہیں بند کر دے۔محدود معاشی وسائل میں دہشت گردی کے خلاف بڑی جنگ کیونکر لڑی جاسکتی ہے؟ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر حکومت اپنے طے شدہ ایجنڈے پر کام کرتی ہے اور اس حوالے سے ان کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔پاکستان میں اداروں کی نت نئی تخلیق اور تشکیل کا عمل ہر دور اور ہر قسم کے حالات میں جاری رہتا ہے۔لیکن اکثر ادارے مستحکم بنیادوں پر قائم نہیں رہ سکتے کیونکہ ہر حکومت اپنی ضرورت کے مطابق معروضی حالات سے نبٹنے کےلیےعارضی بنیادوں پرادارے قائم کرتی ہے اور اربوں روپے کے اخراجات سے وقتی ضروریات اور ذاتی مفادات کےلیےقائم کیےجانےوالے یہ ادارے ارتقائی عمل کے دوران ہی دم توڑ جاتے ہیں۔ ایک ادارے کے غیر فعال ہونے کے منفی اثرات دوسرے اداروںپر بھی پڑتے ہیں۔ اور ادارے کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں۔غیر مؤثر ہونے والے قومی اداروںمیں نیشنل کاونٹر ٹیرازم اتھارٹی (NATCA)بھی ہے جو دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں بھی غیر فعال ہوچکا ہے۔جبکہ مقتدر حلقوں کی جانب سے غیر سنجیدہ اقدامات اور پالیسوں کی وجہ سے پولیس کو مستحکم اور مضبوط ادارہ بنانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔اس کی وجہ شائد یہ ہو کہ پولیس کمانڈ کے چنائو میں میرٹ کا خیال نہیں رکھا گیا۔تاہم حکومت کی جانب سے پولیس کو مستحکم ادارہ بنانے کی غیر مؤثر کو ششیں ہیں۔ جہاںحکومت کی کوتاہیوںپر تنقید لازم ہے وہاں اچھے اعمال کی تعریف بھی ضروری ہے۔موجودہ دور میں بہترین اقدام سول انٹیلی جینس ایجنسی ، انٹیلی جنس بیورو کو ایک مضبوط اور مستحکم ادارہ بنانے کی کوشش ہے۔بلاشبہ حکومت نے انٹیلی جینس بیورو کوفعال بنانے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ مستقبل میں ملک کی بنیاد مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو گا۔اس ادارے کی تشکیل نو اور استحکام کےلیےبنیادی اصول کو اہمیت دی گئی ہے۔اور اس کے لیے ایک پیشہ وراعلیٰ اقدار کا حامل سربراہ کا انتخاب کیا گیا۔جو ادارے کی تشکیل کے ساتھ ساتھ استحکام کےلیے بھی کلیدی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ڈائریکٹرجنرل آئی بی آفتاب سلطان کا تعلق اس قبیلے سے ہے جو اپنی زندگی میں کچھ کر گزرنے پر یقین رکھتے ہیں۔بہتری کےلیےجدوجہد ان کی خصلت میں شامل ہے۔آفتاب سلطان نے جب حکومتی خواہش پر آئی بی کو فعال اور مستحکم ادارہ بنانے کا فیصلہ کیا تو اس کی ابتدا ادارے کو غیر مناسب لوگوں کو پاک کرنے اور پیشہ ور ، ایماندار اور کچھ گزرنے کی اہلیت اور استطاعت رکھنے والے افسروں کا انتخاب کیا۔ابتدائی چند مہینوں میں ہی تطہیر کا عمل مکمل کیا اور ادارے کے استحکام کی جانب توجہ دی۔صوبوں سے آئی بی کے سربراہوں کے انتخاب نے ادارے کے استحکام کی بنیاد رکھی ہے اور آج یہ ادارہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرنے کے قابل ہوگیا ہے۔بلاشبہ اس ادارے کو جدید تقاضوں سے مزین کرنے اور استحکام کے راستے پر چلانے میں حکومت کا اہم کردار ہے۔جس کےلیے ادارے کے انتظامی معاملات میں عدم مداخلت کی پالیس اپنائی گئی۔ جدید دنیا میں انٹیلی جینس ایجنسیاں دہشت گردی اور انتہا پسندی کےخاتمے کے علاوہ منظم جرائم کے توڑ کےلیے بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ لیکن پاکستان میں ان سے وہ کام نہیں لیا جا سکاجس کی ملک کو ضرورت تھی۔دنیا بھر میں پاکستان شائد واحد ملک ہے جو بے سروسامانی کی حالت اور انتہائی محدود وسائل میں بھی تقریباً ڈیڑھ دہائیوں سے حالت جنگ میں ہے۔ان حالات میں آئی بی کا فعال کردار دہشت گردی اور دہشت گردوں کو نشانہ بنانے میں اہم رہا۔اس سے قبل یہ ادارہ حکومتوں کی عزم توجہی کا شکار ہو کر غیر فعال ہو کر رہ گیا تھا۔ لیکن نئی کمانڈ نے پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنے پر بھرپور دھیان دیا اور Intellegence Led Policingپر توجہ دی ۔اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو قابل عمل خفیہ معلومات فراہم کرکے دہشت گردوں کو نشانہ بنانے میں اپنافعال کردار ادا کیا۔ کراچی،خیبرپختونخوا اور پنجاب میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں باقی انٹیلی جینس ایجنسیوں کے ساتھ فعال قومی ادارے کے طور پر حصہ لیا۔اس ادارے کو ایک مضبوط قومی اثاثہ بنانے کےلیے حکومت نے قابل تعریف کردار ادا کیااور ادارے کے سربراہ کو تمام تر پیشہ ورانہ صلاحیتںبروئے کار لانے کےلیے فری ہینڈ دیا۔جس کے نتیجے میں افراد کے تکنیکی صلاحیتوں کی تعمیر کی گئی اور ان صلاحیتوں میں اضافہ کیا گیا۔اس مشن کو آگے بڑھانے کےلیےخالصتاً میرٹ کی بنیا پرپولیس سروس سے پیشہ ورانہ صلاحیتوںکے حامل افسران کا انتخاب کیا گیا۔ابتدائی ارتقائی عمل مکمل کرنے کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اترنے کا موقع آیا تو اس ادارے کے پاس باصلاحیت اور پیشہ ور افراد کا ذخیرہ موجود تھا۔جنھوں نے اپنی کمانڈ کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے اس جنگ میں بھرپور حصہ لیا۔
اگرچہ انٹیلی جینس بیورو، حساس انٹیلی جینس ایجنسی کا مقابلہ تو نہیں کرسکتا لیکن اس ادارے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کےلیے مدد گار ثابت ہوسکتا ہے۔لیکن اس کےلیے فعال اور قابل عمل معلومات کے تبادلے کےلیے انٹیلی جینس ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون کی ضرورت ہے۔جس کا قومی ایجنڈے میں نیشنل ایکشن پلان کے ذریعے اظہار بھی کیا گیا ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں ایک قوم بننے کی استطاعت اور توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم ملک کے دشمن کے خلاف ایک آہنی دیوار بن کر کھڑے ہوجائیں۔