دکانوں اور شادی ہالوں کی بندش کے اوقات کار پر نظرثانی کی جائے، کراچی چیمبر
| |
Home Page
منگل 02 شوال المکرم 1438ھ 27 جون 2017ء
October 21, 2016 | 12:00 am
دکانوں اور شادی ہالوں کی بندش کے اوقات کار پر نظرثانی کی جائے، کراچی چیمبر

Todays Print

کراچی(اسٹاف  رپورٹر)ایوان تجارت و صنعت نے تجارتی تنظیموں سے مشاورت کے بعد حکومت سندھ کی جانب سے دکانیں،شاپنگ سینٹر7 بجے  اور شادی ہالز10بجے بند کرنیکی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مارکیٹیں اور تجارتی مراکز 9بجے ،شاپنگ مال10بجے اورشادی ہال 11بجے بند کئے جائیں تاہم انہیں کاروبار بند کرنے کیلئے مزید ایک گھنٹے کا وقت دیا جائے۔اس ضمن میں جمعرات کو ایوان تجارت وصنعت کراچی میں تاجر تنظیموں کے اجلاس کے بعد ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب میں بزنس مین گروپ کے چیئرمین سراج قاسم تیلی نے صدر چیمبر شمیم احمدفرپوکی موجودگی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی شہر کے عوام کے طرز زندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے 7بجے دکانوں اور مارکیٹوں کو بند کرنافوری طور پر ممکن نہیں ہے اس لئے حکومت سندھ کو چاہیے کہ وہ دکانوں کی بندش کے اوقات پر نظر ثانی کرتے ہوئے اس میں 2گھنٹے کی توسیع کردی جائے جبکہ شادی ہالز کے بند کرنے کے اوقات میں بھی ایک گھنٹے کا اضافہ کیا جائے۔پریس کانفرنس میں کراچی چیمبر کے سینئر نائب صدر آصف نثار،نائب صدر محمدیونس سومرو،عبدالمجید میمن،رفیق جدون،الیاس میمن،حامد محمود،ہارون رشید چاند،عبدالصمد،اسلم بھٹیدرشہوار اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ کراچی چیمبر میں منعقد اجلاس میں تمام تاجروں نے متفقہ رائے پر فیصلہ کیا کہ وہ دکانیں 9سے 10بجے تک بند کردیں گے۔سراج قاسم تیلی نے تاجرنمائندوں کو بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اوقات کار کے تعین کیلئے صوبائی وزیر تجارت وصنعت منظوروسان کی سربراہی میں ایک 4  رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو ہمارے تجویز کردہ اوقات کار کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کو آگاہ کرے گی جس کے بعدآئندہ دو سے تین روز بعدوزیراعلیٰ باضابطہ اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی چیمبرتجارتی تنظیموں کا نمائندہ ادارہ ہے جسے یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ شہر کی بزنس کمیونٹی کے حقوق کا تحفظ کرے۔انہوںنے حکومت سندھ سے کہا کہ اگرکسی مارکیٹ کے دیر تک کھلنے کے خلاف پولیس براہ راست کاروائی کے بجائے کے سی سی آئی کی قیادت سے رابطہ کرے تاکہ متعلقہ ایسوسی ایشنز کے نمائندوں کو بلاکر اوقات کے فیصلے پر عملدرآمدیقینی بنایا جاسکے ۔