| |
Home Page
جمعرات 24 ذیقعدہ 1438ھ 17 اگست 2017ء
October 21, 2016 | 12:00 am
ثقافت، تاریخ اور زبانوں سے دوری قوموں میں تنگ نظری پیدا کرتی ہے، ڈاکٹر نعمان الحق

Todays Print

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) آئی بی اے کراچی کے مشیر برائے سماجی علوم ڈاکٹر سید نعمان الحق نے کہا کہ نوآبادیاتی نظام نے عوام کو ان کی تاریخی اور سماجی میراث اور زبانوں سے دورکردیاجس سے سنگین سماجی مسائل پیداہوئے اور قومیت پرستی کو فروغ ملاجس کا ایک سیاہ ترین باب مسئلہ فلسطین ہے ۔ہمارے ملک میں تعلیم ایک کاروبار بن چکا ہے اور ہمارے طلبہ کو ان کی عظیم تاریخ اور میراث سے دور کیا جارہاہے ۔ہماری قوم ایک معلق کیفیت کا شکارہیں جو ایک قومی المیہ ہے ،ثقافت،تاریخ اور زبانوں سے دوری قوموں میں تنگ نظری پیداکرتی ہے جبکہ وہ ہی افراد روشن خیالی اختیار کرپاتے ہیں جو اپنی تاریخ اور ثقافت سے جڑے رہتے ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے کلیہ سماجی علوم کے زیر اہتمام کلیہ سماجی علوم کی سماعت گاہ میں منعقدہ ممتاز سلسلہ لیکچر کے تحت منعقدہ لیکچر بعنوان ’’ کثیرالثقافتی معاشرے میں برداشت کافروغ ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر نعمان الحق نے مزید کہا کہ اقبال کے بارے میں گفتگو کرنا فیشن ہوا کرتاتھا مگر اب آئوٹ آف فیشن ہوچکا ہے ۔ہمارے نوجوان دانشورانہ سوچ سے دور ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ دانشورانہ قحط الرجال کا شکارہے ۔اُردو اور انگریزی کے مابین ایک خلیج پیدا کردی گئی ہے، ٹیکنالوجی کو بغیر سوچے سمجھے اور سماجی اقدار کے ساتھ ملحق کئے بغیر اپنا لینے سے معاشرتی مسائل جنم لیتے ہیں ہمارامعاشرہ سوک سینس سے عاری ہے ۔نوجوان طالبعلموں میں ڈائیلاگ اور مثبت سوچ کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر کی جانب سے مذکورہ لیکچر سیریز کا انعقاد لائق تحسین عمل ہے اور یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیئے ۔اس موقع پر رئیس کلیہ سماجی علوم پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر نے کہا کہ ہمارے طالب علموں کو کسی نے پڑھنے اور تحقیق کرنے سے نہیں روکا بلکہ ان کو عصر حاضر میں ماضی کے مقابلے میں کافی زیادہ اور بہتر مواقع اور سہولیات میسر ہیں اور اب یہ ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے کہ وہ علمی اور تحقیقی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے ہوئے ملک اور قوم کی ترقی میں اپنا مثبت کرداراداکریں۔ہمارے طلبہ یا تو شدید احساس برتری کا یا پھر شدید احساس کمتری کا شکاررہتے ہیں۔میں نے خود جامعہ کراچی سے تعلیم حاصل کی اور بیرون ممالک میں بھی تدریسی فرائض انجام دیئے مگر کبھی جامعہ کراچی کو خیر باد نہ کہا اور نہ کہنے کا کوئی ارادہ ہے۔