| |
Home Page
منگل 05 محرم الحرام 1439ھ 26 ستمبر 2017ء
October 21, 2016 | 12:00 am
نوجوانوں کو دہشت گردی سے دور رکھنے کیلئے مسلم کونسل بریٹن کا متبادل پروگرام

Todays Print

لندن (جنگ نیوز) برٹش مسلم لیڈرز برطانوی مسلمان نوجوانوں کو دہشت گردی سے دور رکھنے کے لیے حکومت کی پریوینٹ سٹرٹیجی کے متبادل کے طور پر اپنا ایک پروگرام تیار کررہے ہیں۔ پروگرام میں حکومت کا تعلق بھی شامل ہوگا۔ یہ پروگرام حکومت کی متنازعہ پریوینٹ سٹرٹیجی کا متبادل ہے۔ مسلم کونسل آف بریٹن (ایم سی بی) برطانیہ بھر میں500چیرٹیز سکولز اور مساجد کی نمائندگی کرتی ہے جو اس نئے متبادل پروگرام کے پس پردہ ہے۔ یہ اینٹی ریڈیکلائزیشن سکیم ہے جس میں برطانیہ میں مسلم سوسائٹی کے تمام مکتبہ ہائے فکر کی خواہشات کی جھلک نمایاں ہے۔ ایم سی بی نے کہا کہ ہماری ملحقہ چیرٹیز اور اداروں نے مسلم کونسل آف بریٹن سے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے گراس روٹ لیول رسپانس تیار کرے۔ دہشت گردی کا حقیقی چیلنج موجود ہے۔ ہم دیکھتے ہیں بکھری ہوئی مسلم فیملیز کے متعدد بچے، ماں اور باپ شام کا رخ کررہے ہیں۔ برطانوی اخبار گارڈین سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بات ایم سی بی نے کیں۔ پولیس اور سیکورٹی ایجنسیز کی نگرانی میں چلنے والے حکومتی پریوینٹ پروگرام کے تحت اپریل2016ء تک کے ایک سال میں ریفرنسز کی تعداد8000تک پہنچ گئی۔ نئی سکیم کی تیاری پریوینٹ پروگرام کے لیے براہ راست چیلنج ہے اور اس پر تشویش بڑھ سکتی ہے کیونکہ یہ لوگوں کو حکومتی انشی ایٹیو سے دور کرے گی۔ اس نئے انشی ایٹیو میں مساجد کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوگی۔ علاوہ ازیں انفرادی طور پر پروگرم کے لیے ریفر کیاجاسکے گا۔ کمیونٹی لیڈرز کے پینل، سابق پولیس آفیسرز اور ذہنی صحت کے پروفیشنلز اور دیگر ایجنسیز اس نئے پروگرام کو سپورٹ کررہے ہیں۔ سابق میٹرو پولیٹین پولیس چیف سپرنٹنڈنٹ ڈل بیبو نے کہا کہ پریوینٹ سٹرٹیجی ایک زہریلا برانڈ تھا، یہ کوئی رائٹ سائنس نہیں ہے، آپ ذرا پیچھے جائیں کہ ہم نے کس طرح آئی آر اے کو شکست د ی۔ جب ہم آئی آر اے کو ڈیل کررہے تھے تو ہمیں کیتھولک کمیونٹیز کو اعتماد میں لینے کی ضرورت تھی۔ ایم سی بی نے کہا کہ مسلمانوں کو امتیازی کائونٹر ایکسٹریم ازم لمٹس ٹیسٹ سے گزارنے سے صرف ٹیررازم نریٹیو کو تقویت ملتی ہے۔ پریوینٹ سٹرٹیجی اس مسئلے کو بڑھا رہی ہے اور یہ بالکل ہے کہ اسے برطانیہ بھر کی مسلم کمیونٹیز کی سپورٹ حاصل نہیں ہے اور دہشت گردی کا شدید اور حقیقی خطرہ موجودہ ہے۔