| |
Home Page
پیر 25 محرم الحرام 1439ھ 16 اکتوبر 2017ء
October 21, 2016 | 12:00 am
افغان آئی ڈی پیز بحران حل کرنے کیلئے ہنگامی توجہ، وسائل کی ضرورت ہے

Todays Print

لندن (جنگ نیوز) اپنے ہی ملک میں بے گھر ہونے والے افراد (آئی ڈی پیز) پر اقوام متحدہ کے ایک ماہر چلوکابیانی نے گزشتہ روز حکومت افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ ہزاروں آئی ڈی پیز کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اپنے اقدامات میں تیزی لائے ان کا کہنا تھا کہ بگڑتی ہوئی سیکورٹی صورتحال کے باعث لوگوں کے دربدر ہونے کی ایک نئی لہر آسکتی ہے۔ جنگ زدہ ملک کے دورے کے اختتام پر مسٹر بیانی نے بین الاقوامی برادری سے بھی درخواست کی کہ اس مشکل وقت میں ہیومنٹیرین اور ترقیاتی کاموں میں شراکت جاری رکھیں۔ اپنے ہی ملک میں بے گھر ہوجانے والوں کے انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب نے تنازع کی شدت میں اضافے اور آئی ڈی پی اعداد و مار پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے مطابق سال 2016ء کے ابتدائی دس ماہ میں 323000سے زائد افغان اپنے ملک کے مختلف علاقوں میں دربدر ہو گئے۔ دربدری کے اس رجحان میں گزشتہ چار برسوں سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ انسانی بنیاد پر کام کرنے والے شراکت داروں کے انتباہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سال کے اختتام تک مزید آئی ڈی پیز بے گھر ہو سکتے ہیں۔ اب تک ان کی ضروریات کے لئے مختص توجہ اور وسائل پائیدار حل کے لئے ان کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ مسٹر بیانی نے کہا کہ افغانستان میں اندرونی طور پر بے گھر ہونے والوں کے بحران کو ہنگامی توجہ اور اضافی وسائل کی ضرورت ہے۔