| |
Home Page
بدھ 02 ذیقعدہ 1438ھ 26 جولائی 2017ء
October 21, 2016 | 12:00 am
جے کے ایل سی مندوب کی کشمیر ایشو پر ایم ای پیز کو بریفنگ

Todays Print

لندن (جنگ نیوز) جے کے ایل سی مندوب نے جموں و کشمیر کے معاملے پر کشمیریوں کا موقف ارکان یورپین پارلیمنٹ (ایم ای پیز) اور دیگر آفیشنلز کے سامنے پیش کیا جوکہ قبل ازیں اس معاملے کو بھارت اور پاکستانی حکومتوں کے درمیان ایک تنازع کے طور پر دیکھتے تھے۔ نجیب افسر نے ایم ای پیز سے گفتگو میں جموں و کشمیر کے لوگوں کو13اگست 1948 کو اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت دیے گئے حق خود ارادیت پر عملدرآمد کے لیے زور دیا۔ نجیب افسر نے بتایا کہ بھارتی مسلح فورسز کی جانب سے102روز سے نافذ کرفیو نے وادی میں روزمرہ کی زندگی کو مفلوج کردیا ہے اور بنیادی ضروریات کی فراہمی سے انکار کردیا گیا۔ اس دوران100 سے زائد نہتے شہریوں کو ہلاک، ہزاروں کو پیلٹ گنز کے استعمال سے اندھا اور زخمی، ہزاروں نوجوانوں کو لاپتہ کردیا گیا۔ فورسز نے ہزاروں کشمیریوں بشمول سیاسی قیادت کو جیلوں میں مقید کردیا۔ حتیٰ کہ انسانی حقوق کے علمبردار خرم پرویز کو بھی نہیں بخشا گیا۔ انہیں جنیوا میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام انسانی حقوق کی کانفرنس میں شرکت سے روک دیا گیا اور سچ بولنے کی پاداش میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا۔ ایم ای پی راجر ہیلمرز نے وفد کو حمایت کا یقین دلایا اور کہا کہ حق خودارادیت ایک بنیادی اصول ہے جو جموں و کشمیر کے لوگوں کو ہرصورت دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس امر کی یقین دہانی بھی کرائی کہ وہ اس معاملے کو متعلقہ حکام کے سامنے پیش کریں گے۔ وفد نجیب افسر، چوہدری محمد اشرف، سردار نسیم خان، نظام بھٹی، اسلم مرزا اور عابد زمان پر مشتمل تھا۔