| |
Home Page
اتوار 29 صفر المظفر 1439ھ 19 نومبر 2017ء
October 21, 2016 | 12:00 am
ٹیکسی قانون برطانیہ بھر میں ریفارم کرنے کی ضرورت ہے،کونسلر ابرارحسین

Todays Print

شفیلڈ(پ ر)جی ایم بی کے نمائندے اور برن گریووارڈ شفیلڈ کے سابق کونسلر ابرار حسین نے کہا ہے کہ ٹیکسی قانون کوبرطانیہ بھر میں ریفارم کرنے کی ضرورت ہے ۔دوسرے شہروں سے لائسنس ہولڈر عوام کے لیے خطرناک ہیں۔اس وقت ہم نے دوسرے شہروں سے آکر شفیلڈ میں ٹیکسی کرنے والوں کے خلاف آن لائن پٹیشن کے ساتھ ساتھ مقامی ایم پی کو یہ خط بھی لکھا جا رہا ہے کہ ڈی ریگولیشن ایکٹ 2015 بحران کی شکل اختیار کر گیا ہے اور ہم گورنمنٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس غیر منصفانہ ایکٹ کو ختم کرے۔ دوسرے شہروں سے آکر جب کسی بھی شہر میں کام کرتے ہیں تو مقامی کونسل کا ان ڈرائیور پر کوئی کنٹرول نہیں ہوتااور مسافر حضرات کو کوئی پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کہاں اس ڈرائیور کے خلاف کمپلین لانچ کریں۔مقامی ڈرائیور اس قانون کے بننے کے بعد اپنے روزگار سے محروم ہورہے ہیں اورمقامی لوگ کرائے پر جو پیسے خرچ کرتے ہیں وہ مقامی سطع پر استعمال نہیں ہوتے۔ برطانیہ کی بے شمار لوکل کونسلز نے ٹیکسی ڈرائیور ز کو ٹیکسی ٹیسٹ پاس کرنے کے لیے ایک مشکل ٹیسٹ رکھا ہے۔ مثال کے طور پر اس وقت شفیلڈ میں ٹیکسی ٹیسٹ پاس کرنے کے لیے تین مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے سب سے پہلے انگلش اور حساب کا ٹیسٹ پاس کرنا پڑتا ہے اور اس کے بعد نالج اور ڈرائیونگ ٹیسٹ پاس کرنا پڑتا ہے اور شفیلڈ میں ٹیکسی ٹیسٹ پاس کرنے کے لیے ایک سال کا عرصہ درکا ر ہے لیکن بدقسمتی سے برطانیہ کی کچھ کونسلز ڈرائیوروں کو ایک انتہائی احسان ٹیسٹ کے بعد ٹیکسی لائسنس ایشو کر دیتے ہیں اور ڈی ریگولیشن ایکٹ 2015کا فائیدہ اٹھاتے ہوئے دوسرے شہروں کے اندر جا کر ٹیکسی کرتے ہیں۔ جی ایم بی کے نمائندے سابق کونسلر ابرار حسین کا کہنا ہے کہ ہم کسی بھی کونسل کے خلاف نہیں ہیں ہمارا گورنمنٹ سے یہ مطالبہ ہے کہ جس کونسل میں ٹیکسی ڈرائیور کو ٹیکسی لائسنس ایشو ہوا ہے وہ اسی کونسل کے اندرکام کرے اور جب وہ دوسرے شہروں کے اندر جا کر کام کرتے ہیں تو مقامی ڈرائیورز کی حق تلفی ہوتی ہے۔