مسلم ممالک سعودی عرب کی طرح شرعی حدود نافذ کریں، قاری عبدالرشید
| |
Home Page
منگل یکم ذیقعدہ 1438ھ 25 جولائی 2017ء
October 21, 2016 | 12:00 am
مسلم ممالک سعودی عرب کی طرح شرعی حدود نافذ کریں، قاری عبدالرشید

Todays Print

اولڈہم (پ ر) مسلمان ممالک کے حکمران سعودی عرب کی طرح اپنے ملکوں میں حدود شرعی نافذ کرکے خود کو اور اپنے خاندانوں کو اللہ کے قوانین کے آگے پیش کردیں۔ ان خیالات کا اظہار سواد اعظم اہل سنت و الجماعت کے ناظم اعلیٰ قاری عبدالرشید نے سعودی عرب میں سزائے موت پانے والے شہزادے ترکی بن سعود الکبیر کو قصاص میں دی گئی شرعی سزا پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ موجودہ زمانے میں ایک مسلمان ملک میں شاہی خاندان کے ایک ہم فرد کو سزا ایک مقتول شہری کے خاندان کو انصاف ملنے کا واقعہ ایک طرف تو غیر معمولی ہے کہ قاتل شہزادہ اپنے جرم کی سزا میں شرعی سزا پاکر موت کے گھاٹ اتارا گیا اور دوسری طرف اس سزائے موت نے اس پروپیگنڈے کا بھی توڑ کردیا جس میں لوگ سعودی عرب میں نافذ شرعی سزائوں کے نفاذ پر کہا کرتے ہیں کہ وہاں تو غیریبوں اور مزدوروں کو سزائیں ہوتی ہیں۔ بی بی سی اردو نے کہا کہ قتل کا مذکورہ واقعہ تین سال قبل پیش آیا تھا۔ تاہم شاہی خاندان کے افراد کو سزا دیا جانا ایک غیر معمولی بات ہے۔ مقتول کے رشتے دار وںنے دیت کی رقم قبول کرنے سے جب انکار کردیا تو قاتل کو حدود شرعی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے پہلے1975ء میں بھی شاہ فیصل بن سعود کے قاتل اور سگے بھتیجے کو سزائے موت دی گئی تھی۔ قاری عبدالرشید نے کہا کہ حدود اللہ کو جو لوگ توڑنے کے مرتکب ہوئے ہیں تو اسلامی حکومت ان پر حدود شرعی کا نفاذ کرتی ہے اور شرعی سزائوں پر جن ممالک میں عملدرآمد ہوتا ہے سعودی عرب ان میں نمایاں ہے جہاں جرائم کی شرح بہت ہی کم ہے۔ شرعی سزائوں کے نفاذ کی برکت یہ ہوتی ہے کہ اس ملک میں جرائم بہت ہی کم ہوتے ہیں۔ یہ سزائیں انسانوں کی بنائی ہوئی نہیں بلکہ انسانوں کے خالق و مالک اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہیں۔ جن میں فوائد ہیں نقصان نہیں۔