| |
Home Page
جمعرات 28 محرم الحرام 1439ھ 19 اکتوبر 2017ء
October 21, 2016 | 12:00 am
انسدادانتہا پسندی پالیسی ڈاکٹروں پر مریضوں کااعتماد مجروح کرے گی

Todays Print

لندن( جنگ نیوز) ڈاکٹروں نے حکومت کی انسداد انتہاپسندی پالیسی پر شدید تحفظات کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ انسداد انتہا پسندی پالیسی پر عمل سے ڈاکٹروں پر مریضوں کااعتماد مجروح ہوگا، فیکلٹی آف ہیلتھ کے صدر پروفیسر جان مڈلٹن نے اس پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی سےڈاکٹروں اور مریضوں خاص طورپر مسلم کمیونٹی کے درمیان عدم اعتماد کا ماحول پیدا ہوگاجس سے صحت کے سنگین مسائل پیدا ہوں گے،واضح رہے کہ نئی پالیسی کے تحت حکومت چاہتی ہے کہ ڈاکٹرعلاج کیلئے ان کے پاس آنے والے ایسے مریضوں کے بارے میں متعلقہ حکام کو اطلاع دیں جن کے بارے میں انتہا پسندانہ خیالات رکھنے یا انتہاپسند ہونے کاخدشہ ہو۔ڈاکٹر مڈلٹن کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے ڈاکٹر اور مریض کے درمیان راز کو راز رکھنے کا اصول پامال ہوگا ، اور مریض ڈاکٹر کو درست معلومات فراہم کرنے سے گریز کریں گے یا پھر علاج کرانے ہی سے گریز کرنے لگیں گے جس سے صحت عامہ کے سنگین مسائل پیداہوں گےاور خاص طورپر مسلم کمیونٹیز کے لوگ جن میں پسماندگی کی شرح پہلے ہی بہت زیادہ ہےاور جو برطانیہ کے دوسرے مذہبی گروپوں کے مقابلے میں خراب صحت اور غربت کاشکار ہیںخود کو اس قانون سے متاثر تصورکریں گے