| |
Home Page
ہفتہ 02 محرم الحرام 1439ھ 23 ستمبر 2017ء
October 21, 2016 | 12:00 am
تیرتے کیل نوائے سروش…اعجازخان

Todays Print

چاند پورا ہونے کی وجہ سے فضا میں اک نور سا پھیل گیا تھا اور آج چاندکے گرد اک ہالہ سا بن گیا تھا جس سے معکوس کئی طرح کے رنگ اس کو اور بھی روشن اور پُروقار بنا رہے تھے میں ان کے سامنے بیٹھا تھا ان کو ڈھونڈنے میں کئی دن لگ گئے میرے اک دوست جوکہ پاکستان آرمی میں آفیسر ہیں مگر واہ سلوک کو متوازن اور آراستہ رکھنے کے لئے ان بزرگوں سے خاص انس رکھتے ہیں جن کے پاس ان علوم کا خزانہ ہوتا ہے جو گوگل سرچ میں میسر نہیں ہو سکتی یہ علوم سینہ بسینہ منتقل ہوتے ہیں اور یقین کیجئے کبھی کبھی اک نگاہ سے بھی آپ کو وہ ادراک ہو جاتا ہے جو سیکڑوں کتابیں چاٹ کر بھی نہیں ہوتا کل جب میرے دوست کا فون آیا اور انہوں نے نوید دی کہ ایک بزرگ ادھر تشریف لا رہے ہیں ان کو مل لینا۔ فیض کبھی بھی پوسٹ میں نہیں آتا اس کے لئے تردد اور اخلاص شرط ہے جس طرح رب العزت ہر طرح ک رحم و کرم فرما دیتا ہے مگر خود کبھی Priorty سے نیچے نہیں آتا] ملتا اسی کو ہے جو اس کو Top Priorty بنا لیتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنے دوستوں کو بھی جن کا ذکر قرآن میں محسنین کے نام سے کیا گیا ہے ان سے اپنے حصے کے فیض کے لئے ٹائم نکالنا پڑتا ہے میٹنگز کانفرنس چھوڑنے پڑتے ہیں۔ سفر کرنا پڑتا ہے پورے اخلاص سے ادب سے پھر کہیں جاکر حاضیری مقبول ہوتی ہے۔ بزرگوں کی بھی کئی قسمیں ہوتی ہیں، ظاہر بزرگ خلقِ خدا کی خدمت میں دستیاب رہتے ہیں ان کی خانقاہیں لوگوں سے بھری ہوتی ہیں بلاامتیاز وہ سب میں اپنا فیض بانٹنے رہتے ہیں کبھی کبھی کوئی الجھن ایسی ہوتی ہیں جن کا میڈیکل یا سائنس کے پاس کو جواز و علاج نہیں ہوتا وہ لوگ مختلف ٹیسٹ کر سکتے ہیں قیاس آرائی کر سکتے ہیں مگر ایسے بزرگ جن کی بصیرت ہر قسم کے اندرونی و ذہنی خرابی تک جا پہنچتی ہے۔ ان کاESP (Extra Sensory Perception) قدرتی طور پر لدہ ہوتا ہے اور وہ آپ کے بارے میں سب جان کر اسی وقت اس کا سدباب اور دعا کر دیتے ہیں اور ایک بزرگوں کی قسم گپت ہوتی ہے یہ ظاہر نہیں ہوتے بھید نہیں دیتے بس چپ چاپ اپنا فیض بانٹتے ہیں کسی کی نظر میں آئے بغیر۔ ظاہر بزرگوں کے دیکھا دیکھی کئی طرح کے لوگ ان کا روپ دھار کر خلق خدا کے ارمانوں سے کھیلتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے اصل صوفی بھی بدنام ہو جاتے ہیں مگر اگر آپ کو کوئی جعلی ڈاکٹر بن کر لوٹ لے تو اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہوتا کہ پوریMBBS یا MD فراڈ ہے جس کو میں ملنے آیا یہ بھی گپت بزرگ تھے کئی دن کی کوششوں کے بعد میں ان تک پہنچا اب ہم کھلے آسمان کے تلے بیٹھے تھے ان کو یہ باور ہوگیا تھا کہ میں نے کوئی دنیاداری یا کوئی ضرورت کے تحت نہیں بس اپنے حصے کے فیض کے لئے ان کو ڈھونڈا اور میں نے جب ان سے دعا کی درخواست کے بعد جانا چاہا تو انہوں نے کمال شفقت سے میرا ہاتھ تھاما اندر بلایا اور پاس بٹھا کر فرمانے لگے۔ تم نے کبھی کسی کیل کو پانی میں تیرتے دیکھا ہے؟ مجھے گم سم دیکھ کر خود ہی وضاحت کرنے لگے کیل کبھی نہیں تیرتا اگر زنگ آلودہ ہو تو جلدی ڈوب جاتا ہے مگر…اگر کسی لکڑی پر لگ جائے تو کھڑی کے ساتھ ساتھ کیل بھی پانی میں تیرنا شروع کر دیتا ہے اس طرح انسان بھی زنگ آلودہ ہوتا ہے جلدی ڈوب جاتا ہے۔ اس کے لئے وہ لکڑی بہت ضروری ہے جو بارگاہ الٰہی میں اس کو ڈوبنے نہ دے۔ خدا منزل ہے مگر آپ نے صرف یہ جاننا ہے کہ جو راستہ آپ کو منزل کی طرف آسانی سے لے کر جائے وہ راستہ زندہ بھی ہے؟ اس راستے کا قلب زندہ ہے کیونکہ اصل میں داہ سلوک میں راستہ اختیار کرنا ہی منزل ہے۔ بشرط راستہ ٹھیک ہو آسان ہو اور یہ راستہ آپ کو لوگوں سے جوڑے رکھے دنیا کے علوم پر بھی عبور ہو اور دازِ حق کی بھی رسائی کی کاوش مگر وہ لکڑی ضروری ہے جس پر آپ لگ کر تیرنے لگتے ہیں پھر زنگ بھی اتر جاتا ہے اور خون بھی پھر انہوں نے مسکراتے ہوئے دعا فرمائی گلے لگایا اور میں گم سم سادا راستہ یہی جو جتا رہا کہ اتنی آسانی اور گہری بات مجھے کب سمجھ آتی اگر میں ان تک رسائی نہ کرتا ہم دنیاوی علوم کے لئے یونیورسٹی جاتے ہیں بھاری فیس دیتے ہیں مگر حق تک رسائی کے لئے اپنے قیمتی وقت سے چند لمحے بھی نہیں نکال پاتے اگر سوچا جائے تو اصل مقصد تو اللہ تعالیٰ تک رسائی ہے رب العزت فرماتا ہے کہ میں اک چھپا ہوا خزانہ تھا میں نے تم کو تخلیق کیا کے میں پہچانا جائوں۔ مگر ہمارے شب و روز میں فراغت کہاں کام پر جانا ہوتا ہے پھر بچوں کی ذمہ داری بلوں کی ادائیگی وغیرہ ان سب میں ہم اک زنگ آلودہ کیل بن جاتے ہیں پھر ہمیں اس لکڑی کی تلاش کرنی پڑتی ہے جس پر لگ کر ہم دنیا کے حصول کی کشمکش میں ڈوبنے سے بچ جائیں اور منزل کی سمت تیرنا شروع کردیں کیونکہ منزل تو صرف محمد مصطفی ٰﷺکے حصے آئی ہمارے لئے تو صحیح راستہ ہی منزل ہے بس وہ لکڑی چاہئے جس پر ہم لگ سکیں اور وہ تم ملتی ہے جب اندر سے آواز آئے اور وہ آواز آتی ضرور ہےصرف باہر کے شور کے ذرا کم کرنا پڑتا ہے اپنے وجود سے کان لگانے پڑتے ہیں اور سب سے ضروری لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کرنی پڑتی ہیں پھر ہی الخد باجہ بجتا ہے دھیان میں گیان میں وہی سنائی پڑتا ہے وہی دکھائی پڑتا ہے بس اس لکڑی کی رسائی پہلا مرحلا ہے پھر دین ہو دنیا ہو سب متوازن ہو جاتا ہے خدا مفروضہ نہیں حقیقت ہے بس اس کو Priorty بنانا ہے پھر اک دن ہم خود کیل سے لکڑی بن جاتے ہیں۔




.