| |
Home Page
منگل 05 محرم الحرام 1439ھ 26 ستمبر 2017ء
October 21, 2016 | 12:00 am
ایم کیو ایم لندن پاکستان کےکار کنوں کی شہدائے یاد گار پر حاضری

Todays Print

کراچی(اسٹاف رپورٹر) ایم کیو ایم لندن پاکستان کے رہنمائوںساتھی اسحاق، امجد اللہ خان، کنور خالد یونس ‘ اشرف نور اور اسماعیل تارہ  اور کار کنوں کی بڑی تعداد نے تمام  تر رکاوٹوں کے باوجود  جناح گرائونڈ میں شہدائے یادگارپر حاضری دی ، ان کی آمدقانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے چیلنج بن گئی،  جن کی سیکیورٹی حکام کے ساتھ تلخ کلامی بھی ہوئی لیکن پھر انہیں قبروں پر فاتحہ خوانی کی اجازت مل گئی ،  رہنما ئوںاور کارکنان کی بڑی تعداد جمعرات کی دوپہر اچانک شہدائے قبرستان پہنچی تو رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری نے شہدائے قبرستان کے اطراف کی گلیوں میں سرچ آپریشن کرنے کے بعد قبرستان کا مین گیٹ بند کردیا اور رینجرز اہلکاروں نے تمام افراد کو شہدائے قبرستان میں جانے سے روک دیا ، جس کے بعد متحدہ قومی موومنٹ لندن گروپ کے رہنماؤں اور کارکنان کی بڑی تعداد نے اپنے قائد الطاف حسین کے حق میں نعرے لگانا شروع کردیئے۔ خواتین کارکنان کی جانب سے شدید احتجاج کے بعد رینجرز اہلکاروں نے خواتین اور بزرگوں کو شہدا یادگار میں داخلے کی اجازت دے دی،،کارکنان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اور متحدہ کے مرکز نائن زیرو اور تمام دفاتر جانے والے راستوں کی ناکہ بندی کرنے کے ساتھ گلیاں سیل کردیں ،بعد ازاں رینجرز نے جناح گراؤنڈ کو بھی حصار میں لینے کے ساتھ تمام سڑکیں بھی سیل کردیں اور کارکنان کو آگے بڑھنے سے روک دیا جس پر کارکنان مشتعل ہو گئے او الطاف حسین کے حق میں نعرے بازی شروع کردی ، رینجرز اہلکاروں نے کسی بھی کارکن کو شہدائے یادگار میں جانے کی اجازت نہیں دی  ، اس دوران متحدہ قومی موومنٹ لندن کی خواتین کارکنان  اوررینجرز اہلکاروں کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا ، خواتین کارکنان نے رینجرز اہلکاروں سے بات کی اور انہیں کہا کہ وہ شہدا یادگار پر جانے کی اجازت دے ہم پھول رکھ کر فاتحہ کے بعد واپس چلے جائیں گے جس پر رینجرز نے اعلی حکام سے رابطہ کیا اور اجازت ملنے کے بعد یادگار شہدا میں صرف خواتین اور بزرگ کارکنان کو جانے کی اجازت دی دوسری جانب نائن زیرو پر کشیدگی کی اطلاع ملتے ہی عزیز آباد کے مختلف علاقوں میں کاروبار بند ہو گیا اور سڑکیں جام ہو گئیں، سخت سیکیورٹی  کے باعث پیدل جانے والوں کو بھی جناح گرائونڈ جانے کی اجازت نہیں دی گئی،  اسکول کی وین کو بھی روک دیا گیا تھا  جس سے اشتعال پیدا ہوگیاتھا، جناح گرائونڈ جانے والی دونوں اطراف کی سڑک کو بھی ٹریفک کے لئے بند کردیا گیا تھا،  اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے امجد اللہ خان نے کہا کہ ہم صرف شہدائے یادگار پر جانا چاہتے تھے مگر انتظامیہ نے اسے سیاسی مسئلہ بنادیا، ہمارا ارداہ نائین زیرو جانے کا نہیں تھا، انہوں نے کہا کہ ابھی تو  ہم اس سے بڑا جلسہ  کر کے دکھائیں گے، انہوں نے کہا کہ ہمیں روکنے کی کوشش کی مگر کار کنوں نے ہمت اور صبر سے کام لیا اور آئندہ بھی اسی صبر سے کام لیں گے۔