ڈی ایم سیز میں گھوسٹ ایجوکیشن ملازمین سے متعلق دوبارہ تحقیقات کا حکم
| |
Home Page
ہفتہ 27 شوال المکرم 1438ھ 22 جولائی 2017ء
October 21, 2016 | 12:00 am
ڈی ایم سیز میں گھوسٹ ایجوکیشن ملازمین سے متعلق دوبارہ تحقیقات کا حکم

Todays Print

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے ڈی ایم سیز ایجوکیشن ملازمین کو گھوسٹ قرار دینے کے خلاف یونین کی درخواست پر ریکارڈ کی چھان بین کے لیے دوبارہ اعلی اختیارتی کمیٹی قائم کر نے کی ہدایت کر دی ہے ۔ جمعرات کو جسٹس محمد علی مظہر کی سربر اہی میں قائم دورکنی بینچ نے کے ایم سی وڈی ایم سیز کے80ہزار ملازمین وپنشنرز کو تنخواہ، پنشن کی عدم ادائیگی ،762ایجوکیشن کے ملازمین کو عدالتی احکامات کے تحت تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف آئینی درخواستوں کی سماعت کی،دوران سماعت سیدذوالفقارشاہ ،خرم ایڈووکیٹ ،شعاع النبی ایڈووکیٹ،ندیم شیخ ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ کہا سیکرٹری بلدیات نے عدالتی فیصلے کو پس پشت ڈال کر اپنی مرضی سے گرانٹ تقسیم کرنے کی ہدایت کرکے عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کی ، 1330ریٹائر ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کے لیے74کروڑ روپے درکار ہیں اگر معزز عدالت یکمشت ادائیگی کےلیے محکمہ فنانس کو حکم جاری کردے تو ماہوار 7کروڑ کی اسپیشل گرانٹ میں سے کٹوتی کرکے یہ رقم حکومت سندھ کو واپس مل سکتی ہے،اس دوران سٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے تجویز پیش کی یہ انتظامی معاملہ ہے لٰہذا سیکرٹری بلدیات کی سربراہی میں تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول درخواست گذار (سی بی اے) یونین پر مشتمل اعلٰی اختیارتی کمیٹی تشکیل دی جائے جو اس مسئلے کو حل کرے،اس پر عدالت نے حکم دیا کہ وہ ہفتے کے اندر اندر یہ کمیٹی اجلاس طلب کرکے تنازعے کو باقاعدہ تحریری حکم کے تحت مکمل کرکے عدالت میں پیش کرے،اس موقع پر عدالت میں میٹروپولیٹن کمشنر کے ایم سی ،چھ ڈی ایم سیز کے میونسپل کمشنرز ،لیگل ایڈوائزر کے ایم سی ،کے ڈی اے کے وکلاء ،اسمٰعیل شہیدی ،مزمل شاہ اور ملازمین اور پنشنرز کی بڑی تعداد کمرہ عدالت کے اندر اور باہر موجود تھی۔