| |
Home Page
جمعہ 27 صفر المظفر 1439ھ 17 نومبر 2017ء
منو بھائی
October 21, 2016 | 12:00 am
صفراعشاریہ ایک فیصد لوگوں کے پاس 90فیصد آبادی سے زیادہ دولت

Sifar Ashariya Aik Fisaad Logo K Pass 90 Fisaad Abadi Say Zaida Dulaat

دنیا میں سوویت روس کے دور انقلاب کے بعد تنہا رہ جانے والی ’’سپر پاور ‘‘(امریکہ ) کے بارے میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کاروں کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا کی سب سے زیادہ دولت مند کہلانے والی مملکت میں اقتصادی عدم مساوات بھی سب سے زیادہ ہے۔ امیر ترین طبقہ پوری آبادی صفر اعشاریہ ایک ہے مگر اس کے پاس اپنے ملک کی نوے فیصد آبادی سے بھی زیادہ دولت ہے ۔دولت مند امریکی باشندوں کی اپنی کریڈٹ رینگ ایجنسی سٹینڈرڈ اینڈ یوروز نے 2014ء میں اس دولت اور غربت کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو معاشی ترقی کے لئے ایک خطرہ قرار دیا تھا۔ امریکہ کے چار کروڑ ساٹھ لاکھ لوگ حکومت کی مقررہ کردہ غربت کی لائن سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ یہ شرح نسلی اقلیتوں اور امریکی بچوں میں سب سے زیادہ تناسب رکھتی ہے ہر پانچ میں سے ایک بچہ غربت کا شکار ہے ۔ امریکہ میں بچوں کی غربت کی بیس فیصد ی سے زیادہ شرح دنیا کے صنعتی ملکوں میں سب سے زیادہ ہے۔ معاشی بحران سے تباہ حال ہونے والے یونان میں یہ شرح بیس اعشاریہ چار ہے ۔ مالیاتی بحران سے پہلے 2007ء میں بارہ فیصد امریکی باشندے غذائی عدم تحفظ کا شکار تھے اب ان کی شرح پندرہ فیصد سے زیادہ ہے ۔بتایا گیا ہے کہ اگرچہ سال 2010-2009ء میں سرکاری طور پر امریکی معیشت مندے سے باہر نکل آئی تھی لیکن اس کی شرح نمو بحران سے پہلے کی سطح پرنہیں جا سکی۔ حکومت کی جانب سے بڑے بنکوں اور کارپوریٹ کمپنیوں کو 700ارب ڈالر بیل آئوٹ یا مصنوعی حیات کی شکل میں براہ راست دینے پڑے جو کہ عوام کی خون پسینے کی کمائی تھی۔ بلواسطہ طور پر دی جانے والی امداد میں ٹیکس بریک اور دیگر مراعات شامل ہیں جن کی مالیت اس سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔ خسارے کو پورا کرنے کے لئے امریکی حکومت کو بڑے پیمانے پر قرضوں کا سہارا لینا پڑا۔ امریکی حکومت کے قرضے اور جی ڈی پی کا تناسب 2008ء میں 62 اعشاریہ آٹھ تھا جو 2016ء میں ایک سو چار تک جا پہنچا ہے ۔تجزیہ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صنعت کئی دہائیوں سے مسلسل زوال کی زد میں ہے 1965ء میں امریکی صنعت پیداواری صنعت کا 53فیصد تھا جو 1970ء کی دہائی 25اور 2008ء کے بحران کے بعد 12فیصد رہ گئی امریکہ کا ریاستی قرضہ جی ڈی پی کا 105فیصد ہے اور امریکہ دنیا کا مقروض ترین ملک سمجھا جاتا ہے انفرادی قرضوں کا بوجھ بھی بڑھ رہا ہے اس سال کی پہلی سہ ماہی میں یہ امریکہ میں بارہ اعشاریہ دو پانچ ٹریلین ڈالر تھا جو بڑھتے ہوئے 2008ء میں مالیاتی بحران سے پہلے کی سطح تک پہنچ چکا ہے گاڑیوں کی خریداری کے قرضے (آٹو لون) ایک اعشاریہ صفر چھ ٹریلین ڈالر سب تعلیمی قرضوں کا حجم ایک اعشاریہ دو تین ٹریلین ڈالر ہے ۔امریکہ میں اس وقت ٹریڈ یونین ازم تاریخی طور پر سب سے کم ترین سطح پر چلا گیا ہے محنت کشوں کا صرف گیارہ فیصد ٹریڈ یونین کی رکنیت میں دلچسپی رکھتا ہے جبکہ 1950ء کی دہائی میں 35فیصد محنت کش ٹریڈ یونین کی لیڈر شپ پر اعتبار کرتی تھی سال 2015ء میں ایک ہزار سے زیادہ امریکی محنت کشوں کی شمولیت سے صرف بارہ ہڑتالیں ہوئیں جبکہ 1974ء میں امریکہ میں 424 ہڑتالیں ہوئی تھیں۔


.