| |
Home Page
اتوار 28 ربیع الاوّل 1439ھ 17 دسمبر2017ء
October 21, 2016 | 12:00 am
بھارت کے پاکستان کو تنہا کرنے کے عزائم اور کوششیں ناکام ہوچکیں، دفتر خارجہ

Todays Print

 اسلام آباد(نمائندہ جنگ) بھارت کی جانب سے پاکستان کو  تنہا کرنے کے عزائم اورکوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ عالمی سطح پر کشمیر کے ایشو پرپاکستان نے اپنے اور کشمیریوںکےموقف کو اجاگر کرنے میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں جس کے باعث بھارت پردبائو میں اضافہ ہواہے۔بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کیخلاف ورزی ہوئی تو پاکستان کی جانب سے بلاتاخیر کارروائی ہوگی۔ سارک کانفرنس بھارت کی وجہ سے پانچ مرتبہ ملتوی ہوئی۔ افغانستان میں افغان حکومت کی سربراہی و سرپرستی میں چلنے والا امن عمل ہی  کامیاب ہوسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار  دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے جمعرات کو اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں میڈیا کے نمائندوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ بھارتی قیادت کی جانب سے پاکستان کو تنہا کرنے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی ایسی کوششوں میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ جس کی ایک بڑی وجہ سٹر ٹیجک اعتبار سے پاکستان کا محل وقوع  بھی ہے۔ حال میں بھارت میں ہونیوالے برکس اجلاس میں پاکستان کیخلاف پروپیگنڈے میں بھارت کو  بری طرح ناکامی ہوئی۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان اور روس کی فوجی مشقیں ہوئیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری پر انتہائی کامیابی سے کام جاری ہے۔ جس سےنہ صرف چین بلکہ خطے کے تمام ممالک استفادہ کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مغربی ایشیائی، مشرقی ایشیا اور وسطی ایشیا کا اقتصادی و تجاری مرکز ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان کو تنہا کرنے کی خواہش اور کوشش مضحکہ  خیز ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ بھارت نے پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکی دی تھی  کیا اس حوالے سے اس نے کوئی عملی کوشش کی ہے نفیس زکریا  کا کہنا تھا کہ ابھی تک ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی تاہم پاکستان کی اس حوالے سے  صورتحال پر گہری نظر ہے اگر بھارت کی جانب سندھ طاس معاہدے کی کسی بھی سطح پر خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی گئی تو پاکستان اس کا فوری نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کریگا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کوعالمی سطح پر اجاگر کرنے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ہاتھوں مظالم اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر عالمی برادری کی توجہ دلانے میں پاکستان کو زبردست  سفارتی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور اس کے بہت حوصلہ افزا نتائج  سامنے آئے ہیں تاشقند میں اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کی کونسل نے ایک قرارداد منظور کی جس میں نہتے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی شدید مذمت کی گئی۔ ترکی نے بھی مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کیلئے پاکستان کے اصولی موقف کی حمایت کا اعادہ کیا ہے جبکہ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے انسانی حقوق کے کشمیری کارکن خرم پرویز  کی  فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے کے مشن بھیجنے کیلئے بھی  اپنے موقف کا اعادہ کیا ہے۔ اسلامی ممالک کی پارلیمانی یونین کے اجلاس میں بھی بھارت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقدامات کرے۔انہوں نے کہا کہ بھارت پر دبائو بڑھ رہا ہے۔ بھارتی قابض افواج مقبوضہ کشمیر میں جعلی مقابلوں اور دوران حراست ہلاکتوں جیسے جرائم کی مرتکب ہو رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایل او سی پر بھارت نے 90 سے زیادہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیاں پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے 70 ہزار شہری شہید ہوئے۔ ہم نے اس جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور نقصان برداشت کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سارک کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا غلط ہے۔ سارک اجلاس آٹھ دفعہ ملتوی ہوا جس میں سے پانچ بار بھارت کی وجہ سے اس کو ملتوی کیا گیا۔ بھارتی روئیے سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوگا۔ پاکستان علاقائی رابطوں کے فروغ کے لئے حب کا کردار ادا کر رہا ہے۔۔ پاکستان کے خلاف بھارتی الزامات کو سنجیدہ ممالک نے مسترد کر دیا ہے۔ بھارت نے ثابت کیا کہ وہ خطے میں ترقی کی کوششوں میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر داخلہ کا بیان حقائق کے منافی ہے۔ بھارت کی خفیہ ایجنسیاں پاکستان میں دہشت گردی کے فروغ میں ملوث ہیں۔ بھارتی نیوی کے حاضر سروس آفیسر کی گرفتاری اور دیگر ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کے لئے افغان سرزمین کو بھارت کی طرف سے استعمال کرنا کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ  سائوتھ چائنا سی کے مسئلے کو پرامن طریقے سے حل ہونا چاہئے۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان میں امن و استحکام کے لئے اپنی حمایت جاری رکھیں گے۔ 4 ملکی رابطہ گروپ کا باب ابھی بند نہیں ہوا۔ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں۔ ہمارا موقف ہے کہ افغانستان میں افغان حکومت کی سربراہی و سرپرستی میں چلنے والا امن عمل ہی کامیاب ہو سکتا ہے۔ افغان مسئلے کا سیاسی حل ہی وہاں پر پائیدار امن کا ضامن ہے۔ حزب اسلامی کے ساتھ امن معاہدے کی طرز پر طالبان کے ساتھ بھی مذاکرات کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔پاکستان کے فنکاروں پر بھارتی فلموں اورڈراموں میں کام کرنے پر پابندی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ یہ ایک افسوسناک بات ہے کیونکہ براہ راست عوامی رابطے بہت موثر اور فعال کردار ادا کرتےہیں ان پر پابندی نہیں ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ کیرالہ سیکٹر  میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک نوجوان شہید اور پانچ زخمی ہوئے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔