| |
Home Page
بدھ 02 ذیقعدہ 1438ھ 26 جولائی 2017ء
October 21, 2016 | 12:00 am
کراچی، فرقہ وارانہ دہشتگردی واقعات کی تفتیش میں خاص پیش رفت نہ ہوسکی

Todays Print

کراچی (اسد ابن حسن) گلشن اقبال اور گلستان جوہر میں 5 محرم کو ہونے والے دو فرقہ وارانہ دہشت گردی کے واقعات، جن میں دو افراد شہید اور دو زخمی ہوگئے تھے، ان دونوں واقعات کی تفتیش میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عدم توجہی کی وجہ سے گزشتہ منگل کو، گلشن اقبال میں ہی ایک فرقہ وارانہ دہشت گردی کا واقعہ پھر رونما ہوا جس میں ایک کار پر دو موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کی جس میں دو افراد زخمی ہوگئے۔ اسی دن صبح ناظم آباد میں ایک امام بارگاہ کے نزدیک ایک شخص کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا۔ فائرنگ کے حوالے سے مقدمے کے تفتیشی افسر ذوالفقار باجوہ کا کہنا تھا کہ جواد رضا شہید کے گھر والی گلی میں تین مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب تھے مگر ان سے کوئی مدد نہیں مل سکی ہے کیونکہ اس دن تین کھمبوں پر اسٹریٹ لائٹس بند تھیں جبکہ ان کا مزید کہنا تھا کہ 5 محرم کو گلستان جوہر واقعہ جس میں امام بارگاہ کے ٹرسٹی صفدر رضوی جاں بحق اور ان کا بیٹا شدید زخمی ہوا، اور اس کے بعد گلشن اقبال بلاک 3 میں فائرنگ میں جواد رضا اور اس کا بہنوئی زخمی ہوئے، بعدازاں جواد رضا چار دن موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد خالق حقیقی سے جاملا ان دونوں واقعات میں جو خالی 9 ایم ایم کے خول ملے ہیں وہ ایک ہی پستول سے چلائے گئے تھے جبکہ افسر کا کہنا تھا کہ دو روز قبل گلشن میں فائرنگ کے واقعے کی فار نزک رپورٹ اب تک موصول نہیں ہوئی ہے۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ علاقے کی جیو فینسنگ کی گئی ہے مگر ابھی کوئی خاص بات سامنے نہیں آئی ہے۔ منصور زیدی کے واقعے کی کوئی ویڈیو فوٹیج نہیں مل سکی ہے۔ مگر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک مدرسے کے گردونواح سے کچھ مشتبہ لوگ پوچھ گچھ کے لئے حساس ادارے کی تحویل میں ہیں مگر کوئی خاص معلومات حاصل نہیں ہوسکی ہیں۔ جواد رضا کے لواحقین نے پولیس کے تفتیشی افسر اور حساس ادارے کے افسر کو یہ اہم بات بتائی کہ وقوعے والے دن دوپہر 12 بجے کے قریب دو موٹر سائیکل سوار ایک ڈش اور ڈیوائس نما بکس لے کر گھر آئے تھے اور کہا کہ وہ مجلس کو ریلے کرنا چاہتے ہیں جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کو کس نے بھیجا ہے تو وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔ وہ دونوں مشکوک افراد ڈھائی گھنٹے تک وہاں موجود رہے، جانے سے پہلے بھی یہی اصرار کرتے رہے کہ اگر ڈش نہیں لگوانے دے رہے تو دروازہ کھول دیں تاکہ وہ ڈش اور ڈیوائن باکس رکھ دیں اور ان دونوں کو اگلے دن لے جائیں گے مگر دروازہ نہ کھلنے پر وہ دونوں افراد وہاں سے چلے گئے۔ اس اہم بات کو تفتیشی اداروں نے کوئی اہمیت نہیں دی ہے اور نہ ہی گلی میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اب بھی گلی میں مشکوک موٹر سائیکل سواروں کو دیکھا گیا ہے مگر پولیس کا گشت بالکل نہ ہونے کے برابر ہے۔