| |
Home Page
بدھ 02 ذیقعدہ 1438ھ 26 جولائی 2017ء
October 21, 2016 | 12:00 am
سپریم کورٹ کے ممکنہ فیصلے سے عمران خان اور نجی شعبے کے لوگوں کے بھی متاثر ہونے کا امکان

Todays Print

اسلام آباد(رپورٹ:احمد نورانی) تحریک انصاف کیلئے سپریم کورٹ میں پاناما پیپرز لیکس مقدمے  کےسنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں، کیونکہ شیخ رشید احمد سمیت مقدمے میں پانچ میں سے چار درخواست گزار تمام آف شور کمپنیوں کے مالکان کا سختی سے احتساب چاہتے ہیں، سپر یم کورٹ کے ممکنہ فیصلے سے  عمران خان اور نجی شعبے کے لوگوں کے بھی  متاثر ہو نے کا امکان ہے ، عدالت عظمیٰ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد، وطن پارٹی کے سربراہ بیرسٹر ظفر اللہ خان اور طارق اسد ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت کررہی ہے۔ امیر جماعت اسلامی کے وکیل اسد منظور بٹ ، طارق اسد، ظفر اللہ خان اور شیخ رشید احمد نے وضاحت کی کہ ان کی درخواستوں میں استدعا اور مواد مختلف ہوسکتا ہے لیکن وہ اس ایک نکتے پر متفق ہیں کہ آف شور کمپنیوں کے تمام مالکان اور بیرون ملک دولت رکھنے والوں کے خلاف تحقیقات ہونی چاہیں ۔ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر ان کی درخواست وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف ہے کہ انہوں نے اپنے جائیداد اور اثاثوں کے گوشوارے میں غلط بیانی کی۔ لہذا انہیں فوری نااہل قرار دیا جائے ورنہ ان ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت بحال کردی جائے جنہیں ماضی قریب میں غلط گوشوارے داخل کرنے پر نااہل قرار دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ درخواست کے دوسرے حصے میں مبینہ طور پر تمام آف شور کمپنی مالکان یا بیرون ممالک دولت جمع رکھنے والوں کے خلاف تفصیلی تحقیقات کی استدعا کی گئی ہے۔ امیر جماعت اسلامی کے وکیل اسد منظور بٹ کے مطابق ان کی درخواست میں تین مختلف اداروں کو جامع تحقیقات کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ ظفر اللہ خان نے کہا کہ انہوں نے اپنی درخواست کے ذریعے سپریم کورٹ کو عدالتی کمیشن تشکیل دینے کی تجویز دی اور کہا کہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو پیش کردیا جانا چاہئے۔ طارق اسد ایڈووکیٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں دلائل دیتے وقت ان کا زور اس بات پر ہوگا کہ جن لوگوں کی چاہے پاناما پیپرز میں ظاہر یا اس کے بعد بھی آف شور کمپنیاں ہیں، ان تمام کی تحقیقات کی جائیں ۔ پاناما پیپرز میں وزیر اعظم نواز شریف کے بیٹوں حسین، حسن اوربیٹی مریم کے نام آئے۔ بعدازاں عمران خان کی آف شور کمپنی کا بھی انکشاف ہوا۔ جو خود آف شور کمپنیوں کے خلاف احتجاجی مہم چلارہے ہیں۔ ان کی کمپنی دنیا کے انتہائی خطرناک علاقے، ’’جرسی‘‘ کی حدود میں رجسٹرڈ تھی۔ یہ بھی  انکشاف ہوا کہ ان کی پارٹی کے اہم رہنماء جہانگیر خان ترین کی بھی خفیہ آف شور کمپنی تھی۔ جس کو انہوں نے یا پاکستان میں ان کے اہل خانہ نے کبھی ظاہر نہیں کیا۔ پاناما پیپرز میں آف شور کمپنیوں کے مالک تقریباً 500 پاکستانیوں کا انکشاف کیا گیا ہے۔ جو برٹش ورجن آئی لینڈ، بہاماس، جرسی، پاناما اور دیگر جگہوں پر رجسٹرڈ تھیں تاہم  جس فرم موسیک فونسیکا نے اس کا انکشاف کیا، اس کا تعلق پاناما سے ہے۔ درحقیقت پاناما پیپرز میں جن کمپنیوں کا ذکر ہے، ان کی اکثریت پاناما میں وجود نہیں رکھتی ۔ جب عمران خان کی آف شور کمپنی کا انکشاف ہوا تھا، انہوں نےاپنے حامیوں کو بتایا تھا کہ پاناما میں قائم ایسی کمپنیوں میں ناجائز دولت رکھی جاتی ہے۔ درحقیقت آف شور کمپنیوں کے حوالے سے وزیر اعظم نواز شریف کے اہل خانہ یا عمران خان، جہانگیر ترین اور دیگر کی آف شور کمپنیوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ لہذا  اس حوالے سے یہ تمام شخصیات اپنی آف شور دولت کے حوالے سے پاکستانی اداروں کو جوابدہ ہیں۔