| |
Home Page
پیر 28 ذیقعدہ 1438ھ 21 اگست 2017ء
October 21, 2016 | 12:00 am
الطاف اورعشرت العبادکاساتھ دینے پرمعافی مانگتاہوں‘مصطفیٰ کمال

Todays Print

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو  کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے پاک سرزمین پارٹی کے رہنما مصطفٰی کمال نے ایم کیوایم بانی الطاف اورگورنرسندھ عشرت العباد کاساتھ دینے پر معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گناہ گارہیں مگردانستہ کوئی غلطی نہیں کی ‘یہ دونوں افرادمہاجرکمیونٹی کے جسم پر ناسور کی مانند ہیں ‘اس ناسورکاعلاج کرناہوگا‘گورنر کا پہلے ای سی ایل میں نام ڈالا جائے پھر استعفیٰ لیا جائے ،عشرت العباد ملک سے باہرجانے کے بعد استعفے بھجواتا ہے ،پانچ یا سات فلائٹس میں اس کی بکنگ چل رہی ہوتی ہےجبکہ پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہماری جنگ جمہوریت نہیں بادشاہانہ ذہنیت سے ہے‘میزبان شاہزیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مصطفی کمال نے گورنر سندھ کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، مصطفی کمال کی طرف سے کہا گیا کہ ڈاکٹر عشرت العباد دہری شہریت رکھتے ہیں جس پر ابھی تک گورنر ہاؤس سے جواب نہیں آیا کہ گورنر ڈاکٹر عشرت العباد دہری شہریت رکھتے ہیں یا نہیں ہیں‘ایم کیوایم کے سافٹ امیج کا شیرازہ بکھر رہا ہے کیونکہ اس سافٹ امیج کی نمائندگی عشرت العباد اور مصطفی کمال کرتے تھے‘ میزبان کے اس سوال پر کہ جس گورنرسندھ کی 2008ء میںآپ  تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے آج آپ اسے ناسور کہہ رہے ہیں،اس پر مصطفیٰ کمال نے کہاکہ یہ 2016ء ہے‘ اس وقت میں الطاف حسین کا وفادار آدمی تھا‘عشرت العباد ان کے گورنرتھے‘میں تو کہتا ہوں میں گناہ گار ہوں، ستائیس سال الطاف حسین کے ساتھ گزارے ہیں‘میں نے دانستہ کوئی غلطی نہیں کی‘ان دونوں کا ساتھ دینے پر معافی مانگتاہوں‘میں منافق آدمی نہیں ہوں‘اگر میں آج انہی کی طرح گورنر رہتے ہوئے اور ایم کیو ایم میں رہتے ہوئے برائیاں کررہا ہوتا تو میں پھر قصوروار ہوتا‘میں نے پارٹی چھوڑی ہے، سینیٹرشپ چھوڑی ہے‘واپس آیا ہوں، چیلنج کیا ہے، پھر جاکر یہ بات کی ہے‘ماضی میں جب میں نے گورنرکی ستائش کی تھی تو اس وقت تک اس کے سارے کالے کرتوت سامنے نہیں آئے تھے ‘آج مجھے اس والی بات پر، اس غلطی پر سزا دیدو‘اس سوال پر کہ کیاآپ تسلیم کرتے ہیں کہ ماضی میں غلطی پرتھےاورپھر آپ نے ان کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت بھی دی تو اس میں اصول کہاں ہے، اس پر مصطفی کمال کاکہناتھاکہ اس میں اصول یہ ہے کہ جب میں نے ان کو یہ کہا کہ گورنرشپ چھوڑ دو،آجاؤ،تو مجھے پتا ہے کہ یہ گورنرشپ نہیں چھوڑے گا‘اس لئے کہ اس کو پتا ہے اس کے خلاف پنڈورا باکس ہے ‘‘میں آپ کو کیا بتاؤں یہ پیچھے ہم سے کیا کیا کرتے رہے ہیں، کیا کیا باتیں کرتے رہے ہیں‘میں نے اور انیس بھائی نے بیٹھ کر بات کی ہے جب جاکر ڈیڑھ مہینے کے بعد اس کو کہا کہ بھائی اب منع کرو، اب ہم نہیں اس کی کال ریسیو کرسکتے‘پچیس سال ایک انسان نے قوم کا بیڑا غرق کردیا، دوسرا آدمی جس کو میں جانتا ہوں رشوت العباد، رشوت العباد ‘شاہزیب خانزادہ: مصطفی کمال صاحب آپ کہہ رہے ہیں کہ جب آپ تین مارچ کو آئے تو آپ یہ سوچ کر آئے تھے کہ اگر ایک برائی آپ کی نظر میں الطاف حسین ہیں تو دوسری یہ ہیں، ایک وقت آئے گا کہ آپ نے ان کے خلاف بھی بولنا ہے ‘آپ کہہ رہے ہیں یہ آپ کے پورے پلان کا حصہ تھا؟ مصطفی کمال: نہیں،میں اس کے اندر ایڈیٹ کردوں، بالکل یہ پلان نہیں تھا کہ ان کے خلاف بولنا ہے‘یہ اپنے گورنر بیٹھے رہتے، شرارتیں نہیں کرتے‘ سازشیں نہیں کرتے، دوسری مخالف قوتوں کو نہیں اٹھارہے ہوتے‘ ہمیں نہیں پرابلم، الطاف حسین کو زندہ کررہے ہیں،اس کو محسن کہہ رہے ہیں‘اگر یہ نہیں کرتے میں کبھی بھی نہیں بولتا‘اس سوال پر کہ الطاف آپ کو سیاست میں لائے اورکچھ کرنے کا موقع دیا،مصطفی کمال نے کہاکہ الطاف  نے اگر یہ کیا ہےتو ہم نے بھی اپنی زندگی قربان کی ہے‘چوری نہیں کی، تو اس کا نام بنایا‘الطاف حسین کیا خدا ہیں کہ جو عزت دیں گے، ذلت دیں گے، موت دیں گے، زندگی دیں گے‘میں نے مرنا ہے اللہ کو جواب دینا ہے کہ میں اس کو اپنا استاد یا مسیحا بولوں‘اگر میئرکے دفترمیں سانحہ 12مئی کا پلان بنتاتومیں یہ عہدہ چھوڑدیتا،گورنر ہاؤس تو بارہ مئی کو کمانڈ اینڈ کنٹرول روم تھا، میٹنگز چل رہی تھیں‘اس سانحہ پر سب سے پہلے کس کولٹکایا جانا چاہئے، یہ میرا پوائنٹ ہے، گورنر کو۔کیوں؟ کہ الطاف حسین یہاں نہیں تھا،گورنر سندھ سانحہ 12مئی کے انچارج تھے‘اس سوال ہے کہ آپ اور گورنر ایک دوسرے کے خلاف بیان کس کے کہنے پر دے رہے ہیں یا کس کو خوش کرنے کے لئے دے رہے ہیں‘اس پر مصطفی کمال کا کہناتھاکہ مہاجر کمیونٹی  اگر ایک جسم کی مانند ہے تو الطاف اور عشرت العباد دو ناسور ہیں ان مہاجروں کے جسموں پر‘ ان کو نکالنا، اس کا علاج کرناہوگا‘ اس زخم کو ٹھیک کیے بغیر اس شہر کی بھلائی نہیں ہوسکتی‘کیونکہ آج اس شہر میں آٹھ ہزار روپے میں انٹرمیڈیٹ بورڈ آفس سے کاپی نکلتی ہے اور جاکر اس شہر میں واپس آتی ہے اور بندے کو اے گریڈ مل جاتا ہے، پچاس ہزار روپے میں مارکس شیٹ مل جاتی ہے‘ بورڈ آفس سے جس کا انچارج گورنر سندھ ہے، یہ اس کا حال ہے‘عشرت العباد نےدو تین نہیں بلکہ درجنوں لوگوں کو ہماری پارٹی میں شمولیت سے منع کیاتھا‘میں نام بتاکر ان لوگوں کی زندگی خراب نہیں کرسکتا‘پھر ان کے ساتھ سوال کرنے لگیں گے‘میں آپ کے سامنے ان کے نام نہیں لوں گا۔ شاہزیب خانزادہ: مصطفی کمال صاحب now ، آپ نے اسٹارٹ کیا، پاکستان آئے، الطاف حسین،درمیان میں ایم کیوا یم پاکستان، اب عشرت العباد، یہ آپ خود کیا ہیں اور کیا کریں گے ، instead of like لوگوں پرا ٹیک کرنا اور لوگوں کے بارے میں بات کرنا، یہ والی پالیٹکس کب فائنلی شروع کریں گے مصطفی کمال صاحب کہ بھئی یہ میرا پلان ہے، میں اس والے الیکشن میں حصہ لے رہا ہوں، یہ میرے پاس لوگ ہیں، یہ میری ٹیم ہے اور باقی سب لوگ آکر مقابلہ کرلیں۔