| |
Home Page
جمعہ 26 ربیع الاوّل 1439ھ 15 دسمبر2017ء
October 21, 2016 | 12:00 am
عمران خان کے دھرنے کا مقصد احتساب نہیں حکومت گرانا ہے،تجزیہ کار

Todays Print

کراچی(جنگ نیوز)سینئر تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ عمران خان کے پاس نواز شریف کے احتساب کیلئے بہتر راستہ سپریم کورٹ کا ہے ،پی ٹی آئی نے اسلام آباد بند کیا تو قانونی راستے میں دشواری ہوسکتی ہے، عمران خان کے دھرنے کا مقصد احتساب نہیں بلکہ نوازشریف کو گرانا ہے،پاکستان میں کالعدم تنظیمیں بہت آزاد ہیں تو ایم کیو ایم لندن کو بھی سیاست کی اجازت ہونی چاہیے۔عمران خان کے پاس بیس اوورز میں نواز شریف کو ہٹانے کا کوئی راستہ نہیں ہے، پی ٹی آئی کا اپنی تحریک کو وکلاء تحریک سے مماثل کرنا درست نہیں ہے، نواز شریف کی روایت دیکھی جائے تو وہ استعفیٰ نہیں دیں گے،ایم کیو ایم لندن جب تک غیرقانونی قرار نہیں پاتی انہیں پاکستان میں احتجاج کا پورا حق حاصل ہے، الطاف حسین کے فالوورز کو پاکستان میں احتجاج تو دور سیاست کا بھی حق نہیں دینا چاہئے۔امتیاز عالم نے کہا کہ پاکستان میں کالعدم تنظیمیں بہت آزاد ہیں، یہ تنظیمیں جلسے کرتی ہیں، چندے اکٹھی کرتی ہیں اور ہر معاملہ پر ریاست کو ڈکٹیٹ دیتی ہیں، ایم کیو ایم لندن کے لوگ اگر باہر آرہے ہیں تو جب تک ریاستی ادارے کوئی واضح پالیسی نہیں بناتے انہیں آنے دیں۔ان خیالات کا اظہار سلیم صافی، مظہر عباس، امتیاز عالم، حفیظ اللہ نیازی، بابر ستار اور شہزاد چوہدری نے جیو کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان رابعہ انعم سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔میزبان کے پہلے سوال نواز شریف پر دباؤاور احتساب کیلئے، عمران خان کے لئے کون سا راستہ بہتر ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے مظہر عباس نے کہا کہ عمران خان پاناما پیپرز کی تحقیقات کیلئے قانونی اور سڑکوں پر احتجاج دونوں راستے اختیار کیے ہیں، عمران خان کے پاس نواز شریف کے احتساب کیلئے بہتر راستہ سپریم کورٹ کا ہے ، پی ٹی آئی نے اسلام آباد بند کیا تو قانونی راستے میں دشواری ہوسکتی ہے، اگر اسلام آباد بند ہوگا تو سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت بھی نہیں ہوسکتی ہے،عمران خان کو انصاف کیلئے انصاف کے راستے کا انتظار کرناچاہئے۔سلیم صافی نے کہا کہ دو نومبر کو جو ہوگا اس کے بعد عمران خان کی سیاست کا خاتمہ ہوجائے گا یا سب کی سیاست کا خاتمہ ہوجائے گا۔شہزاد چوہدری نے کہا کہ نواز شریف پر پاناما لیکس تحقیقات کیلئے دباؤ آنا ہوتا تو اب تک آچکا ہوتا، عمران خان کے پاس بیس اوورز میں نواز شریف کو ہٹانے کا کوئی راستہ نہیں ہے، عمران خان صرف دھرنے کے ذریعے ہی نواز شریف کو ہٹاسکتے ہیں،عمران خان کے دھرنے کا مقصد احتساب نہیں بلکہ نوازشریف کو گرانا ہے۔بابر ستار کا کہنا تھا کہ عمران خان اداروں سے اسی وقت خوش ہوتے ہیں جب ان کے حق میں فیصلہ آئے، پی ٹی آئی کا اپنی تحریک کو وکلاء تحریک سے مماثل کرنا درست نہیں ہے، عمران خان کا مقصد اگر نواز شریف کا احتساب کرنا ہے تو سپریم کورٹ یا اسلام آباد میں دھرنا مناسب آپشن نہیں ہیں، اگر عمران خان کا مقصد حالات اتنے بگاڑنا ہے کہ کسی کو مداخلت کرنی پڑتی تو پھر یہ دونوں کام ساتھ کریں گے۔امتیاز عالم نے کہا کہ عمران خان کا مقصد وزیراعظم نواز شریف کا احتساب نہیں نظام کو الٹانا ہے، عمران خان مایوس ہیں انہیں انتخابات کے نتائج اچھے نہیں مل رہے ہیں، نئے آرمی چیف کے تقرری کیلئے ایک مہینہ رہ گیا ہے، عمران خان سمجھ رہے ہیں اس دوران وہ اپنا کوئی معاملہ چلاسکتے ہیں۔حفیظ اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ عمران خان اس وقت فرسٹریشن کی سیاست کررہے ہیں، نواز شریف کی روایت دیکھی جائے تو وہ استعفیٰ نہیں دیں گے، 1999ء میں بھی سنگینوں کے سائے میں نواز شریف نے استعفیٰ نہیں دیا تھا بلکہ مصیبتیں جھیلی تھیں، نواز شریف نے پاناما پر سپریم کورٹ کی پٹیشن کو خوش اسلوبی سے مان لیا ہے۔دوسرے سوال کیا ایم کیو ایم لندن کو پاکستان میں احتجاج کا حق دینا چاہئے؟ کا جواب دیتے ہوئے مظہر عباس نے کہا کہ ایم کیو ایم لندن جب تک غیرقانونی قرار نہیں پاتی انہیں پاکستان میں احتجاج کا پورا حق حاصل ہے، ایم کیوا یم کے خلاف جب قانونی طور پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو انہیں احتجاج سے کیسے روکا جاسکتا ہے، پاکستان میں تو کالعدم تنظیموں کو بھی احتجاج کرنے کی اجازت ہے تو باقی تنظیموں کو کیسے نہیں ہوسکتی، ایم کیوا یم لندن اپنے ووٹرز اور سپورٹرز پر فوکس کررہی ہے۔بابر ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم ایک ہی سیاسی جماعت ہے، جسے ایم کیو ایم لندن کہا جارہا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں الطاف حسین کو ایم کیو ایم سے الگ نہیں کرنا چاہئے، ان لوگوں کے خلاف انفرادی کارروائی کی جاسکتی ہے، ایم کیوا یم کو نہ کالعدم قرار دیا گیا ہے اور نہ اس کے جانے پہچانے کارکنوں کیخلاف پاکستان مخالف نعرے لگانے کے مقدمے چل رہے ہیں، اگر وہ احتجاج کررہے ہیں تو انہیں اس کا حق حاصل ہے۔شہزاد چوہدری کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم لندن کوئی چیز نہیں ایم کیو ایم تو ایم کیو ایم ہے، ایم کیو ایم کے قائد سے پاکستان میں انتظامیہ کو مسائل ہوسکتے ہیں لیکن ایم کیو ایم کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہیں، یہ لوگ اگر احتجاج کرتے ہیں توا نہیں روکا نہیں جاسکتا، صرف یہ خیال کرنا ہوگا کہ اپنے احتجاج میں یہ کوئی غیرقانونی کام نہ کریں۔سلیم صافی نے کہا کہ ایم کیو ایم لندن کے لوگ الطاف حسین کو آج بھی قائد، رہبر اور لیڈر مانتے ہیں، پاکستان کے خلاف نعرے لگانے والے الطاف حسین کے فالوورز کو پاکستان میں احتجاج تو دور کی بات سیاست کا بھی حق نہیں دینا چاہئے۔امتیاز عالم نے کہا کہ پاکستان میں کالعدم تنظیمیں بہت آزاد ہیں، یہ تنظیمیں جلسے کرتی ہیں، چندے اکٹھی کرتی ہیں اور ہر معاملہ پر ریاست کو ڈکٹیٹ دیتی ہیں، ایم کیو ایم لندن کے لوگ اگر باہر آرہے ہیں تو جب تک ریاستی ادارے کوئی واضح پالیسی نہیں بناتے انہیں آنے دیں۔