| |
Home Page
اتوار 03 محرم الحرام 1439ھ 24 ستمبر 2017ء
حنا پرویزبٹ
October 27, 2016 | 12:00 am
ترقی کا راستہ نہ روکیں

Taraqi Ka Rasta Na Roken

ایشیا میں حالیہ ہفتہ کے دوران دو بڑے واقعات ہوئے ہیں جن کو سمجھتے ہوئے پاکستان کی سیاسی بساط کو از سر نو ترتیب دینا ضروری ہوگیا ہے۔پہلا بڑا واقعہ یہ ہےکہ گلبدین حکمت یار سمیت اکثر افغان دھڑے افغانستان میںامن کے قیام کیلئے ایک پیج پر آگئے ہیں۔ تفصیلات منظر عام پر آنے سے پاکستانی حلقوں میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی کہ طالبان حلقوں کو بھی امن قائم کرنے کی اس مہم کا حصہ بننے کی کھلے دل سے دعوت دی گئی ہے۔اگر عملی طور پریہ امن مہم کامیاب ہوگئی تو اس کا مثبت اثر پورے خطہ پر پڑے گا۔ دوسرا بڑا واقعہ یہ کہ ایران کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت دیکر چین نے ترپ کا پتہ کھیل دیا ہے۔اس کے پس منظر میں جائیں تو معلوم ہوگا کہ جنوب مشرقی ایشیا کا چوہدری بننےاور وسائل کارخ چین کی طرف موڑنے کیلئے چین کو4 ممالک جاپان، ویت نام، فلپائن، جنوبی کوریا کی طرف سے براہ راست اور 4ممالک آسٹریلیا، بھارت، امریکہ اور روس کی طرف سے بلاواسطہ عملی مخالفت کا سامنا ہے لیکن کسی قسم کی بے چینی میں مبتلا ہوئے بغیر ہی چین انتہائی سائنسی بنیادوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئےوہ اپنے ٹارگٹ ایک ایک کرکے حاصل کررہا ہے۔
چین کا مقابلہ کرنے کیلئے ویت نام نے انڈیا اور امریکہ سے تزویراتی معاہدے کئے ہیں۔ ویت نام نے بحری اڈوں تک رسائی دینے کے ساتھ ساتھ براہموس میزائل کے حصول کا معاہدہ بھی انڈیا سے کیا ہوا ہے۔ اسی کا توڑ کرنے کیلئے چین نے ایران کو اتنی بڑی پیشکش کر ڈالی ہے۔ جس سے یہ بات عیاں ہے کہ چین ایران کو ساتھ ملا کر انڈیا کو تنہا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انڈیا نے چاہ بہار پورٹ بنانے میں ایران سےجو وعدے کئےوہ ایفا نہ ہوئے جوٹائم لائن دی تھی وہ اس پر پورا اترتا نظر نہیں آرہا۔ صرف اقتصادی ٹارگٹ کے حصول کیلئے ہی ایران چین کی طرف قدم بڑھا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوگیا تو یہ تہذیبوں کا ایسا پھیلائو ہوگا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ قبل ازیں ایران خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور بتدریج طاقتور ہوتے پاکستان کو ناپسند کرتا رہا ہے۔ اس کا جھکائو پاکستان کی نسبت انڈیا کی طرف زیادہ رہا ہے۔ امریکی کٹھ پتلی افغانستان بھی فاٹا اور کے پی میں چینی موجودگی پر اظہار ناپسندیدگی کرچکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت کا یہ کہنا ہے کہ آزاد کشمیر بھی اس کا علاقہ ہے اور اس میں سی پیک ہائی وے کے گزرنے پر اسےسخت اعتراض ہے۔ امریکہ نے خوشی کا اظہار تو دور یہ بھی نہیں کہا ہے کہ اسے سی پیک پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ یقیناً وہ اپنے سب سے بڑے حریف چین کو اس خطہ میں پھلتے پھولتے نہیں دیکھنا چاہتا۔ انہی واقعات کے تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ برصغیر پاک وہندکے نقشے میں تحریف کرنے کی خاطربیرونی قوتوں نے اس خطے میں سیاسی طوفان برپا کیا ہوا ہے۔ ایک طرف انڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے تو دوسری طرف شیطانی اور طاغوتی طاقتوں نے عرب دنیا کو بے دست و پا کرنے کے بعد پاکستان کو نشانے پر لے لیا ہے وہ کسی قیمت پر یہاں سیاسی و اقتصادی استحکام نہیں دیکھنا چاہتے۔ وہ ہر قیمت پر پاکستان کو غلام بنانا چاہتے ہیں۔ انہی طاقتوں کی طرف سے وطن عزیز میں سیاسی خلفشار پیدا کرنے کا ایک بڑا خوفناک ثبوت اس وقت سامنے آیا جب الطاف حسین کے خلاف اسکاٹ لینڈ یارڈ نے ناکافی ثبوتوں کی بنا پر منی لانڈرنگ کیس واپس لے لیا۔ ہمارا ایک ہمسایہ انڈیا سرحدوں پر کشیدگی پیدا کرکے اور مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو لگا کر خطے میں اپنی چوہدراہٹ قائم رکھے ہوئے ہے جبکہ دوسرا ہمسایہ افغانستان اپنے تمام تر اختلافات ختم کرکے امریکی اور روسی غلامی سے نجات حاصل کرنے کی راہ پر جانے کی سوچ رہا ہے تاکہ وہاں امن اور ترقی کا نیا دور شروع ہو۔ اس کے بر عکس تحریک انصاف اپنے ہی ملک میں ترقی کا چلتا ہوا سفر روکنے اور دو نومبر کو انتشار و بے یقینی پھیلانے کیلئے آخری حد تک جانے کیلئے بے قرار نظر آرہی ہے۔ بڑی ہی مضحکہ خیز صورتحال پیدا ہوگئی تھی جب عمران خان نے بیان دیا کہ تیسری طاقت اگر آگئی تو ذمہ دار نواز شریف ہوں گے۔ اس بیان پر تمام حلقوں نے ان کی سیاسی ناپختگی پر مہر ثبت کردی ہے۔ اب تو ترجمان پی ٹی آئی نعیم الحق نے بھی تشدد کی سیاست کرنے کی تصدیق اپنے منہ سے یہ کہہ کر کردی ہے کہ دو نومبر کو اسلام آباد کو بند کرنے کیلئے آئیں گے تو کارکنان مسلح ہوں گے۔ دو نومبر جوں جوں قریب آتا جا رہا ہے ملک بھر میں سوالوں اور افواہوں کی آندھی چلنا شروع ہوچکی ہے جس نے عوامی اور سیاسی حلقوں کو بے یقینی کی فضا میں گھیر لیا ہے۔ دو نومبر کو کیا ہوگا؟ کیسے ہوگا؟کون جائے گا؟کون آئے گا؟ آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ عمران خان کس کے اشارے پر اورکس راستے پر گامزن ہوگئے ہیں؟ ان کو کس بات کی جلدی ہے؟ کیا صرف اقتدار کے حصول کیلئے یا پاکستان کو تباہ کرنےکیلئے وہ انتشاری سیاست کررہے ہیں؟ کون تحریک انصاف کے جلسوں اور دھرنوں پرسرمایہ کاری کر رہا ہے؟ انھوں نےدھرنوں اور جلسوں پر خرچ ہونے والی رقم کے پی میں کیوں نہیں لگائی؟ کیا کے پی میں ترقیاتی کام نہ شروع کرنے کے پیچھے ان کی ٹیم میں تجربے کا فقدان یا عدم دلچسپی کارفرما تھی؟ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کی طرف سے پاناما ایشو پر کارروائی شروع ہوچکی ہے۔ اس کے باوجود عمران خان کی طرف سے اسلام آباد بند کرنے کے اعلان پر عوامی حلقوں میں یہ سوال بڑی شدت سےگردش کر رہا ہے کہ ایک طرف مودی پاکستان کو تباہ کرنے کے خبط میں مبتلا ہے جبکہ دوسری طرف عمران خان پاکستان کو بند کر نے پر کیوں مصر ہیں؟ وقت آگیا ہےایسے ملک دشمن منصوبوں کو ناکام بنایا جائے۔ آئیے مل کر لگائیں ..... نعرہ پاکستان۔ پاکستان زندہ باد۔


.