| |
Home Page
بدھ 24 ربیع الاوّل 1439ھ 13 دسمبر2017ء
ڈاکٹر فرید احمد پراچہ
November 10, 2016 | 12:00 am
سانحۂ کربلا کا سیاسی پہلو

Sanha E Karbala Ka Siasi Pehlo

سانحہ کربلا راہ حق میں استقامت دکھانے، ظلم کے مقابلہ میں ڈٹ جانے اور اللہ کے راستے میں ایثار و قربانی پیش کرنے کی لازوال و بے مثال داستان ہے۔ اس کا ہر پہلو اہل ایمان کے لئے ہی نہیں، پوری انسانیت کے لئے باعث فخر اور قابل تقلیدہے۔ چونکہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اور دین و سیاست کی دوئی کا قائل نہیں اس لئے واقعہ کربلا اور شہادت امام حسینؓ کی بے مثال قربانی کے سیاسی پہلو بھی دراصل دینی پہلو ہی ہیں۔
یکم محرم الحرام سے اسلامی سال ہجری کا آغاز ہوتا ہے جبکہ یکم محرم الحرام ہی یوم شہادت فاروق اعظم ؓ ہے ۔ اسی مہینہ کی دس تاریخ کو حضرت امام حسین ؓ و خانوادۂ رسول ﷺو جانثاران اسلام کی شہادتوں اور بے مثال قربانیوں کا المناک و کربناک سانحہ کربلا پیش آیا۔ مدینہ منورہ ہجرت کے بعد آزمائش کے تیرہ سال ختم ہوئے اور مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست اور خلافت راشدہ کا آغاز ہوا جسے فاروق اعظم ؓ نے مضبوط و مستحکم کیا ۔ اتنی وسعت دی کہ جزیرۃ العرب سے نکل کر قیصر و کسریٰ تک پھیل گئی۔ صحیح اسلامی فلاحی ریاست قائم ہوئی۔ نومولود بچوں سے لے کر ضعیف ذمیوں تک کے وظائف مقرر ہوئے۔ یزید کی ولی عہدی اور اقتدار کی صورت میں خلافت کے ملوکیت میں بدلنے کا عمل شروع ہوا اور یہی وہ موقع ہے کہ جب امام عالی مقام ؓ نے اپنی بے مثال قربانیوں سے تاریخ انسانیت میں یہ نقش کر دیا کہ ایک بندۂ مومن کی زندگی کا مقصد اسلامی نظام کا قیام ہے اور وہ جب بھی اسلامی حکومت و ریاست کو خطرات میں گھرا ہوا پائے، اس کی بنیادیں منہدم ہوتے دیکھے گا تو وہ اس کے بچاؤ و تحفظ کے لئے جان کی بازی لگانے سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔
امام حسین رضی اللہ عنہ کی تحریک اگرچہ ایک سیاسی تحریک تھی لیکن یہ ذاتی و شخصی اور موروثی اقتدار کے حصول کے لئے نہیں بلکہ حکومت الہیہ یعنی اسلامی حکومت کے قیام اور اسلامی نظام کے دوام کی تحریک تھی۔ تاریخ انسانیت میں اسلام نے پہلی مرتبہ ایک مکمل جمہوری ریاست قائم کی کہ جہاں خلیفہ یا امیر المومنین صرف تقویٰ اور صلاحیت و صالحیت کی بنیاد پر چنا جاتا ہے۔ اسی اصول کے تحت پہلے چار خلفائے راشدین ؓ پر ذمہ داریاں ڈالی گئیں۔ لیکن یزید کی ولی عہدی اسلامی جمہوریت کے اس بنیادی اصول کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی۔ یہ بادشاہت و ملوکیت اور موروثیت کے طرز کی نامزدگی تھی۔ جس نے آئندہ صدیوں تک خلافت کو بادشاہت میں تبدیل کر دیا۔
بیعت کا سلسلہ ووٹنگ اور اعتماد کا ہی ایک طریقہ تھا لیکن یزید کی بیعت جبری حاصل کی گئی آزادانہ چناؤ کا اصول روندا گیا اور جبر کے کوڑوں کے ذریعے بیعت حاصل کی گئی۔
اسلام نے اللہ کریم کی حاکمیت اعلیٰ اور اس کے ہی کار ساز و قانون ساز ہونے کا تصور دیا لیکن یزید کے بعد آنے والے دور ِملوکیت نے اللہ کی حاکمیت اعلیٰ کے تصور کو اصو لی طور پر قائم رہنے کے باوجود عملاً تبدیل کر دیا۔ پھر حکمران ہی حاکم اعلیٰ اور ہر قانون سے بالاتر ہو گئے۔ عام آدمی کے لئے ایک قانون اور حکمرانوں کے لئے دوسرا قانون۔ خلاف راشدہ کے دوران ایک مکمل نظام احتساب کی موجودگی۔ حکمران کے خدا اور خلق کے سامنے جواب دہ ہونے اور بیت المال خدا اور خلق کی امانت کے تصور کے انتہائی اعلیٰ و ارفع اصول اور انتہائی شاندار اور عظیم الشان روایات بھی یزید سے شروع ہونے والے دور ملوکیت نے تہ و بالا کر دیا۔ پھر کنیزوں پر نوازشات سرکاری خزانے کو موروثی دولت سمجھنے، قصیدہ گو شاعروں کو جاگیریں عطا کرنے کا وہ منحوس دور شروع ہوا کہ آج تک امت حکمرانوں کی عیاشیوں، بدعنوانیوں اور لوٹ مار کی بھاری قیمت ادا کررہی ہے۔ خود پاکستان 70 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں سمیت 20 ہزار ارب روپوں کا مقروض ہے۔ اسلامی تاریخ کے اس انتہائی اہم موڑ پر امام حسین ؓ نے جس ایمانی جرات، سیاسی بصیرت اور بہترین سیاسی حکمت عملی کا ثبوت دیا ہے وہ ہماری ملی تاریخ کا اہم ترین حصہ اور ایک روشن باب ہے۔ اس کے حسب ذیل پہلو قابل غور ہی نہیں ہر دور میں انقلابی سیاسی جدوجہد کرنے والوں کے لئے قابل تقلید روشن پیغام بھی ہیں۔
ان کا پہلا اور اہم ترین فیصلہ یہ تھا کہ وہ یزید کی بیعت نہیں کریں گے حاکم مدینہ کی طرف سے جبری بیعت لینے کے لئے دباؤ ڈالا گیا تو انہوں نے مکہ مکرمہ جانے کا فیصلہ کیا۔ 28رجب المرجب کو وہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔ جب کوفہ والوں کے پے در پے خطوط اور وفود آئے تو انہوں نے سفر کا فوری فیصلہ کرنے سے پہلے سیاسی دانش مندی اور بصیرت کا ثبوت دیتے ہوئے مناسب سمجھا کہ ان خطوط کی حقیقت جاننے اور کوفہ والوں کی یقین دہانیوں کی صداقت جا نچنے کے لئے اپنے چچازاد بھائی مسلم بن عقیل ؓ کو کوفہ بھیجا جائے تاکہ وہ ان کے کوفہ پہنچنے سے پہلے بیعت کا سلسلہ شروع کریں اور دیکھا جاسکے کہ کوفہ والوں کی کتنی تعداد اسلامی حکومت کے قیام کے لئے مخلص ہے۔ سیاسی تحریکوں میں مخلص کارکنوں کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ حضرت مسلم بن عقیلؓ کو کوفہ میں نہایت حوصلہ افزا حالات ملے۔ دنوں میں تحریک پھیلتی گئی اور ایک وقت آیا کہ بیعت کرنے والوں کی تعداد 12ہزار تک پہنچ گئی۔ یہ تعداد اتنی زیادہ تھی کہ اس کی بنیاد پر کوئی بھی بڑا فیصلہ کیا جاسکتا تھا۔ حضرت امام حسینؓ کو جب ان ساز گار حالات کی خبر اپنے مکہ مکرمہ سے کوفہ کے سفر کے دوران مل گئی تو انہیں محسوس ہوا کہ انہوں نے بالکل درست فیصلہ کیا تھا۔ کوفہ میں حالات کو پلٹا کھاتے دیر نہیں لگی جب ہم واقعہ کربلاکے سیاسی پہلوکا جائزہ لیتے ہیں تو اہل کوفہ کا بے وفائی و غداری کا ایک شرمناک باب ہمارے سامنے آتا ہے۔جب عبید اللہ بن زیاد نے مختلف سرداروں اور لیڈروں کو لالچ اور ترغیب سے اپنے ساتھ ملایا تو آہستہ آہستہ بھیڑ چھٹنے لگی اور ایک وقت آیا کہ حضرت مسلم بن عقیلؓ کے ساتھ 12ہزار میں سے صرف ایک سو افرا د ہی رہ گئے اور پھر کوفہ کی گلیوں نے انسانی شقاوت و منافقت کا یہ سیاہ ترین دن بھی دیکھا کہ مسلم بن عقیلؓ ان گلیوں میں پناہ کی تلاش میں تنہا گھوم رہے تھے۔ بالآخر جاسوسی و غداری سے مسلم بن عقیلؓ بھی گرفتا ر ہوئے اور قصر کی چھت پر انہیں شہید کرکے ان کا لاشہ کوفہ کی گلیوں میں پھینک دیا گیا۔ اہل کوفہ کی منافقت و شقاوت اور مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر امام حسینؓ کو بروقت مل گئی۔ پہلے فرزدق شاعر ملا اور امام عالی مقام کے استفسار پر اس نے یہ تاریخی جملہ کہا کوفہ والوں کے دل حسین کے ساتھ اور ان کی تلواریں یزید کے ساتھ ہیں۔ امام عالیٰ مقام کو راستے میں ہی مسلم بن عقیل ؓ کی شہادت کی خبرمل گئی۔یہاں امام حسین ؓ کی سیاسی بصیرت کا یہ پہلو سامنے آیا کہ انہوں نے مسلم بن عقیل ؓ کی شہادت اور اہل کوفہ کی شقاوت کی خبر ملنے کے بعد واپس پلٹنے کا فیصلہ کرلیا۔ مسلم بن عقیل کی درد ناک شہادت کی خبر نے قافلہ حسینی میں ایک جذباتی فضا پیدا کردی۔ مسلم کے بھائیوں،بھتیجوں اور جوانوں کا اصرار تھاکہ ہم کوفہ پہنچیں گے اور قتل مسلم کا بدلہ ضرور لیں گے یا پھر خودشہید ہوجائیں گے۔ یہاں امام حسین ؓ کے کردار کے یہ پہلو سامنے آتے ہیں کہ انہوں نے پہلے سمجھایا لیکن بالآخر نوجوانوں کے جذبات کا ساتھ دیا اور صاف نظر آنے والے انتہائی مشکل حالات اور جان کی قربانی کی بھی پروا نہیں کی۔ میدان کربلا میں ۲محرم الحرام کو خیمے نصب کردئیے گئے۔ یہاں عبیداللہ بن زیاد گورنر کوفہ کی طرف عمرو بن سعد نے امام عالی مقام سے ملاقات کی۔اس ملاقات کی جو تفصیل مستند کتابوں سے ملتی ہے۔ اس سے یہ واضح ہے کہ امام عالی مقام نے مذاکرات کے اس موقع کو بھی صحیح طریقے سے استعمال کیا اور اپنی طرف سے تین شرائط یعنی واپس جانے کا راستہ اجازت، خود یزید کے پا س جاکر معاملات طے کرنے کا آپشن یا اسلامی سرحدوں پر جاری جہاد میں شرکت کے موقع کا حصول، پیش کیں۔ یہ تینوں شرائط انتہائی موزوں، معتدل اور متوازن تھیں اور عبید اللہ بن یزید کوا نہیں قبول کرنے میں کوئی تامل نہیں چاہئے تھا لیکن وہاں تو صرف ایک آپشن تھا ہر قیمت پر بیعت لی جائے یا شہید کردیا جائے۔ امام عالی مقامؓ کی عظمت کردار کا یہ عظیم الشان پہلو ہے کہ انہوں نے ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا۔ یزید کی بیعت پر اپنی اور اپنے خانوادہ کی قربانی کو ترجیح دی۔ اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپنے ذاتی و شخصی اقتدار کی جنگ نہ تھی بلکہ شخصی آمریت کے مقابلے میں اللہ کی حاکمیت اور ملوکیت کے مقابلے میں خلافت کے نفاذ کے لئے اتنی عظیم قربانی رب ذوالجلال کے حضور پیش کر دی۔


.