| |
Home Page
بدھ 24 ربیع الاوّل 1439ھ 13 دسمبر2017ء
ڈاکٹر فرید احمد پراچہ
November 11, 2015 | 12:00 am
مخلوط تعلیمی ادارے ۔ آنکھیں کب کھلیں گی

Todays Print News

کتنا دل دہلا دینے والاسانحہ تھاکہ اسکول لیول کے لڑکے نے اپنی ہم جماعت سے محبت کی پینگیں بڑھائیں شادی کے لئے عہد و پیماں کئے اپنے گھر والوں کو قائل کرنے کی بھی کوشش کی ۔ شادی کے امکانات سے مایوس ہوئے تو پھر اجتماعی خود کشی کا پروگرام بنالیا ۔ لڑکی گھر سے باپ کا پستول لے آئی لڑکے نے پہلے اسے گولی ماری پھر اپنے آپ کو اور یوں لمحوں میں دو گھروں کے چراغ گل ہو گئے ۔ میڈیا کے لحاظ سے کہانی ختم ہو گئی چار روز خبریں چلیں دوچار کالم آئے اور پھر میڈیا نئی ا سٹوری کی تلاش میں جت گیالیکن کیا اسے محض ایک واقعہ سمجھ کر نظر انداز کیا جاسکتا ہے اور کیا محض ایک سانحہ سمجھ کر چار آنسو بہا کر ہم اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہوسکتے ہیں تو یقینا اس کا جواب نفی میں ہے اس لئے کہ ایسے واقعات چشم کشا ہوتے ہیں ۔آغوش مادر سے ملنے والی تربیت گھر وں کے اجتماعی ماحول کے اثرات ، گھر کے بڑوں کی خصوصی نگرانی کیا اب قصہ پارینہ بن گئے ہیں ؟کیا گھر میں اب بیوی کی بجائے ٹی وی کی مرضی چلے گی ؟ کیا سوشل میڈیا نے گھر کے افراد کو آپس میں کاٹ دیا ہے ؟ کیا بچہ گھروں سے کٹ کر دور والوں سے جڑ گیاہے ۔ کیا اسکولوں کا کام محض فیسیں لینا ہے اور تعمیر سیرت و کردار ان کے موضوعات نہیں ۔ کیا اب وقت نہیں آگیا کہ حکمران اور ماہرین تعلیم نظام تعلیم و نصاب کے مسائل حل کرنے کی طرف متوجہ ہوں ۔ لیکن میرے نزدیک جو موضوع سب سے اہم ہے اور جسے عام طور پر زیادہ اہمیت نہیں دی گئی ، وہ ہے مخلوط تعلیم ۔
پہلے مخلوط تعلیم یونیورسٹی لیول پر تھی اور دلیل یہ دی جاتی تھی کہ اس عمر میں پختگی آجاتی ہے اس لئے اس لیول پر کوایجوکیشن کے مضمرات زیادہ نہیں ہوتے لیکن اب تو اسکول، کالج ، یونیورسٹی ہر لیول پر کو ایجوکیشن موجود ہے ۔ اسلام مرد اور عورت کے لئے الگ الگ دائرہ کار اور سوسائٹی کے الگ الگ حصے مقرر کرتاہے ۔ مسلمانوں کی مکمل تاریخ میں عورتوں کے تعلیمی ادارے الگ رہے ہیں۔ مساجد میں ان کے الگ پورشن نہیں تو علیحدہ اور فاصلے پر صفوں کا اہتمام ہوتا رہا ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 2 قرار داد مقاصد ، آرٹیکل 29 حکمت عملی کے اصول ، آرٹیکل 31اسلامی سوسائٹی کے قیام کی ریاستی ذمہ داری ، آرٹیکل 37ناخواندگی کے خاتمہ وغیرہ کا تقاضا بھی یہ ہے کہ طلبہ و طالبات کے ہر سطح کے مکمل علیحدہ تعلیمی ادارے موجود ہوں۔
مغرب سے مرعوب ذہنوں اور مغرب کی ہر چمکتی چیز کو سونا سمجھنے کی ذہنیت کے لئے قرآن و حدیث کے حوالے زیادہ پرکشش نہیں ہوسکتے اس لئے میں مخلوط تعلیم کے سلسلے میں خود مغرب کی رپورٹوں ، وہاں کے فیصلوں اور وہاں کی تعلیمی پیش رفت کے حوالے ہی دوں گا۔ چند سال پہلے فرانس کی ایک سرکاری رپورٹ منظر عام پر آئی جس کے اہم نکات حسب ذیل ہیں :۔ 15 سال کی ریسرچ ، سروے رپورٹس کی روشنی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مخلوط تعلیمی ادارے صنف نازک کے لئے در اصل شکار گاہیں ہیں ان تعلیمی اداروں کے ماحول اور مرد و خواتین کے لئے آزادانہ اختلاط کے زیادہ مواقع سے جنسی تشدد کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے ۔ مخلوط تعلیمی اداروں کے ماحول نے تعلیمی گراف کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔ طلبہ کی تعلیم زیادہ متاثر ہوئی ہے اور ان کے فیل ہونے کی شرح میں کئی گنا اضافہ ہوگیاہے ۔ فرانس کی وزارت تعلیم نے طلبہ و طالبات کے لئے قائم شدہ ہاٹ لائن کے حوالے سے بتایا کہ سال 2000 میں 11لاکھ شکایات موصول ہوئیں جن میں سے چار ہزار جنسی تشدد کی شکایات تھیں جبکہ فقرے بازی ، چھیڑ چھاڑ اور موبائل فون کے ذریعے ہراساں کرنے کی شکایات بھی ہزاروں میں ہیں۔ اسی رپورٹ میں یہ کہا گیاہے کہ اسلام نے مسئلہ سمجھنے اور سلجھانے میں زیادہ مہارت کا ثبوت دیا ہے۔ مغرب میں کافی عرصہ سے سنگل سیکس اسکول فروغ پا رہے ہیں ان تعلیمی اداروں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے اور طالبات کے علیحدہ اسکولوں میں داخلہ لینے والی طالبات کی تعداد میں بھی کئی گنا اضافہ ہواہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق سنگل سیکس اسکولز کی تعداد میں 81 فیصد اضافہ ہواہے جب الگ الگ اسکولوں کے نتائج سامنے آئے تو یہ دلچسپ حقیقت بھی سامنے آئی کہ پہلی پچاس پوزیشنوں میں سے 48پوزیشنیں سنگل سیکس اسکولوں کے طلبہ و طالبات نے لیں جبکہ صرف دو پوزیشنیں کو ایجوکیشن دینے والے اداروں کی آئی ہیں ۔
ورلڈ بنک کی رپورٹ گلوبلائزیشن اینڈ پاورٹی 1996ء برلن ڈیکلریشن 23اپریل 1999ء اور بروکنگز کی رپورٹ ستمبر 2002ءیہ تینوں رپورٹس بڑی چشم کشا ہیں ان رپورٹ میں کوایجوکیشن سے سوسائٹی پر پڑنے والے اثرات کا بھر پور جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیاہے کہ سڈنی سے ہوائی تک نتائج یکساں ہیں۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب بڑے تلخ تجربات کے بعد مغرب کو ایجوکیشن ( مخلوط تعلیم ) سے بتدریج واپس آ رہاہے اور وہاں سنگل سیکس تعلیمی ادارے فروغ پا رہے ہیں ، ہمارے احساس کمتری کے مارے ہوئے اور مرعوب ذہنوں کے مالک ارباب اختیار ہر سطح پر طالبات کے ادارے ختم کرکے مخلوط تعلیمی اداروں کو فروغ دے رہے ہیں۔ حکومت پنجاب نے اپنے ماہرین تعلیم کی بجائے مغربی ممالک سے کچھ ماہرین تعلیم کو بلایا ۔ بھاری مشاہرے دے کر انہیں تعلیم کی صورت گری کی ذمہ داری دی کہ جنہیں نہ پاکستان کے آئین کی خبر ہے نہ اسلامی معاشرت کے تقاضوں سے آگاہ ہیں۔ ان کی ہی سفارشات پر کم و بیش پانچ ہزار اسکولوں کو ایک دوسرے میں مدغم کر دیاگیا۔ ظاہر ہے کہ طالبات کے اداروں میں تعداد کم ہوتی ہے اس لئے انہیں طلبہ کے اداروں میں مدغم کردیا گیا ۔ اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق ریشنلائزیشن کے نام پر پاکستانی معاشرے سے دھوکہ دہی کی اس واردات کے نتیجے میں 2006ءسے لے کر 2012ء تک طالبات کے 5000تعلیمی ادارے ختم ہوگئے ۔ نتیجہ کیا نکلا ، والدین نے بچیوں کو گھر بٹھالیا ۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے ماچھی وال ضلع گجرات کے ایک گاؤں چھوکر کا بطور مثال تجزیہ کیا کہ جہاں گاؤں کی 130 بچیوں نے سرے سے تعلیم ہی چھوڑ دی ۔ یونیسکو کے ادارہ شماریات نے بتایا ہے کہ پاکستان میں 2005 ءسے لے کر 2009ءتک ناخواندہ بچیوں کی تعداد میں دس لاکھ کا اضافہ ہواہے ۔ پہلے ہی ہمارے ملک میں شرح تعلیم کے گمبھیر مسائل موجود ہیں ۔ شرح تعلیم کے لحاظ سے ہمارا نمبر دنیا کے 160 ممالک میں سے 142 واں ، جنوب ایشیا کے 28 ممالک میں سے 27 واں اور سارک کے سات ممالک میں سے چھٹا ہے ۔ چالیس فیصد سے زیادہ تعلیمی ادارے بلڈنگ ، چار دیواری ، بجلی ، پانی ، بیت الخلا سے محروم ہیں ۔ایسے میں طالبات کے علیحدہ تعلیمی اداروں کا خاتمہ شرح تعلیم کو بھی مسلسل نقصان پہنچائے گا ۔ امام غزالی ؒ نے تحریر کیا ہے کہ عورت و مرد میں اتنی باہمی کشمکش ہے کہ اگر ان میں سے کوئی چھپ کر بھی دوسرے کو دیکھ رہا ہو تو اسے جسم میں فوری طور پر ایک چبھن کا احساس ہوگا ۔ خود مغرب میں یہ سوچ کئی کتابوں اور ریسرچ پیپرز کی شکل اختیار کر چکی ہے کہ مخالف اصناف کا باہمی ارتباط مسلسل بھیانک شکل اختیار کر رہاہے ۔ہم بچیوں کے احترام و تقدس کی شاندار تعلیمات اور حیا پرور روایات کے امین ہیں ۔ ہم مغرب کی بھونڈی نقالی میں اپنی عفت مآب بیٹیوں کے لئے حصول تعلیم کے راستے بند نہیں کر سکتے۔ کراچی کے سانحہ اور اسی جیسے بے شمار دیگر واقعات کے بعد یہ ضروری ہے کہ ہمارے ارباب اختیار اب یہ فیصلہ کریں کہ پرائمری سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک طالبات کے ادارے مکمل طور پر الگ قائم ہوں گے۔ پنجاب میں ریشنلائزیشن کے نام پر طالبات کے تعلیمی اداروں کا طلبہ کے تعلیمی اداروں میں ادغام مکمل طور پر ختم کیا جائے گا ۔