| |
Home Page
پیر یکم ربیع الاوّل 1439ھ 20 نومبر 2017ء
حا مد میر
January 02, 2017 | 12:00 am
احتساب میں بھی ملاوٹ ؟

Ahtesaab Men Bhi Milawat

بوڑھے سائنسدان نے ایک لمبی آہ بھری اور کہا کہ دودھ میں پانی ملانے والے گوالے قوم کے محسن ہیں اس قوم کو اپنے محسنوں کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔ یہ سن کر میں ہڑبڑا گیا اور احتجاج کے انداز میں سائنسدان سے پوچھا کہ یہ آپ کیا فرمارہے ہیں؟ انہوں نے چند لمحوں کیلئے اپنے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے چھپا لیا اور پھر بڑے غمناک لہجے میں کہنے لگے مجھے یہ حیرانی ویرانی مت دکھائو تم اچھی طرح جانتے ہو میں کیا کہہ رہا ہوں، کئی برس تک پی سی ایس آئی آر میں اشیائے خوردونوش کا تجزیہ کرنے اور لاتعداد ماہرین طب کے ساتھ گفتگو کے بعد میری یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ ہم بطور ایک معاشرے کے اجتماعی طور پر کرپٹ ہوچکے ہیں ،ہم ایک دوسرے کو موت بانٹ رہے ہیں ہم اتنے سنگدل ہوچکے ہیں کہ دودھ میں صرف کاسٹک سوڈا، کپڑے دھونے والا صرف، شیمپو اور بال سفا پائوڈر نہیں بلکہ ایسے کیمیکلز ملاتے ہیں جو چھوٹے بچوں کی آنتیں اور جگر تباہ کردیتے ہیں اور اس لئے وہ گوالے جو دودھ میں صرف پانی ملاتے ہیں مجھے قوم کے محسن نظر آتے ہیں۔ اس سائنسدان نے مجھے کہا کہ تم سیاستدانوں کی کرپشن پر شور مچاتے ہو، ضرور مچایا کرو لیکن عام آدمی کی کرپشن پر کیوں خاموش رہتے ہو؟ کیا چائے کی پتی میں کالے چنوں کا چھلکا شامل کرنے والے اور سرخ مرچوں میں لکڑی کا رنگ شدہ برادہ ملانے والا عام آدمی کرپٹ نہیں؟ ہم سب کرپٹ ہیں لیکن اپنی کرپشن چھپانے کیلئے دوسروں کی کرپشن کے خلاف شور مچاتے ہیں۔ انہوں نے مجھے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کچھ کارروائیوں کے بارے میں بتایا اور کہا کہ مری کے علاقے میں ایک ریسٹورنٹ پر چکن کڑاہی میں پہاڑی کوّے کا گوشت استعمال ہورہا تھا۔ جب ریسٹورنٹ کے خلاف کارروائی ہوئی تو چور نے الٹا کوتوال کو ڈانٹنا شروع کردیا۔ پھر ہم نے ثابت کردیا کہ یہ چکن نہیں پہاڑی کوّاتھا تو ملزم نے کہا شکر کرو کوّا کھلایا چیل نہیں کھلائی۔ اس خاکسار نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے حکام سے رابطہ قائم کیا اور ان کی کچھ کارروائیوں کا غور سے مشاہدہ کیا تو پتہ چلا کہ بوڑھے سائنسدان نے بالکل صحیح کہا تھا۔ دودھ میں کیمیکلز کی بجائے صرف پانی ملانے والے گوالے واقعی قوم کے محسن ہیں لیکن پنجاب فوڈ اتھارٹی نے دودھ میں پانی ملانے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔ ان کارروائیوں کا کوئی بہتر نتیجہ اس صورت میں نکل سکتا ہے اگر قانون کو بہتر بنایا جائے اور قانون پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔ فی الحال قانون بہت کمزور ہے۔ایک بڑی ملک فیکٹری کے مالک نے مجھے بتایا کہ اس کا اصل کاروبار بیکری پروڈکٹس اور مٹھائی بنانا تھا جیسے جیسے اس کا کاروبار بڑھتا گیا تو دودھ کی طلب بھی بڑھ گئی لیکن معیاری دودھ نہیں ملتا تھا۔ اپنی مصنوعات کا معیار برقرار رکھنے کیلئے اس نے اپنا ڈیری فارم اور اپنا ملک پلانٹ لگالیا۔ پھر معیاری چینی کی طلب بڑھی تو اسے اپنی شوگر مل لگانی پڑگئی لیکن اس کے باوجود اسے ملاوٹ کا مقابلہ کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ کبھی کبھی اس کے اپنے لوگ بھی اصلی دودھ میں جعلی دودھ ملاتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں اور وہ اپنے کئی ملازمین کے خلاف خود مقدمات درج کروا چکا ہے۔ آپ اپنے گردو پیش پر نظر ڈالیں، آپ کو پتہ چلے گا کہ نوزائیدہ بچوں کی اموات اور نوجوانوں میں دل کی بیماریاں بڑھتی جارہی ہیں۔ یہ سب ملاوٹ شدہ خوراک کے اثرات ہیں۔ ہماری قوم میں خوبیاں تو بہت ہیں لیکن اپنی خامیوں کا جائزہ لینے کی خوبی مفقود ہے۔ ہمیں دوسروں کے گریبان پھاڑنے کا بہت شوق ہے لیکن اپنے گریبان میں جھانکنے کی ہمت نہیں۔ ہم نے اپنے احتساب کے قانون میں پلی بارگین کی ملاوٹ کر رکھی ہے جس کے باعث احتساب کا عمل کرپشن کو روکنے کا نہیں بلکہ کرپشن کو فروغ دینے کا کام کررہا ہے۔ اس وقت پاکستان میں کرپشن کو روکنے کیلئے چار مختلف قوانین ہیں۔ ایف آئی اے بھی کرپشن کے انسداد کا محکمہ ہے اور نیب بھی کرپشن کے خلاف جہاد کا دعویدار ہے۔
امیر اور طاقتور افراد کیلئے جو قانون ہے وہ عام آدمی کیلئے قانون سے بالکل مختلف ہے حالانکہ اس معاشرے میں امیر و غریب ایک ہی طرح کی کرپشن کرتے ہیں، جو مالیاتی کرپشن نہیں کرتا وہ فکری کرپشن کرتا ہے۔ فکری کرپشن کا سب سا بڑا نمونہ آپ کو سوشل میڈیا پر نظر آتا ہے۔ لوگ جعلی اور من گھڑت اشعار کو اقبال اور احمد فراز سے منسوب کردیتے ہیں۔ اپنی پسند کے اور اپنے مفاد کے مطابق اقوال زریں بنا کر نامور شخصیات سے منسوب کردیتے ہیں اور تو اور ہم علمی کرپشن میں بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ اب تو جعلی ڈگریوں کے کاروبار میں ہماری شہرت پوری دنیا میں پھیل چکی ہے اور جعلی ڈگریوں کا کاروبار کرنے والے اپنے سینے پر ہاتھ مار کر دوسروں کو چیلنج کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صرف ہم چور کیوں کہلوائیں تم سب بھی تو چور ہو۔ اس صورتحال میں چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے قوم کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے جس میں احتسابی نظام پر نظر ثانی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں کہا ہے کہ ماضی میں احتساب کے نام پر صرف چھوٹے ملزمان کو پکڑا گیا یا سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے بدعنوانی کے تمام پہلوئوں اور اقسام پر نظر رکھنے کیلئے ایک ایسے خود مختار ادارے کے قیام کی تجویز دی ہے جس میں اختیارات کسی مخصوص طبقے یا فرد کے پاس نہ ہوں۔ میاں رضا ربانی نے فیڈرل کمیشن برائے احتساب قائم کرنے کی تجویز دی ہے جو نیب کی نگرانی کرے گا۔ اس کمیشن میں پارلیمنٹ ،عدلیہ، مسلح افواج اور سول سوسائٹی کے نمائندے ہوں گے۔ یہ کمیشن عدلیہ اور فوج میں احتساب کے ادارہ جاتی نظام میں کوئی مداخلت نہیں کرے گا لیکن بڑی مالیاتی کرپشن کی تحقیقات پر نظر رکھے گا۔ اس سے قبل سینیٹ اور قومی اسمبلی میں احتساب قوانین میں ترامیم کیلئے پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کے حق میں قراردادیں بھی منظور ہوچکی ہیں۔ میاں رضا ربانی کی تجویز پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے علاوہ میڈیا میں بحث ہونی چاہئے اور ہمیں اپنے احتساب قوانین کو ملاوٹ سے پاک کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم اپنے قانون کو ٹھیک نہیں کریں گے تو کرپٹ عناصر پر بھی ہاتھ نہیں ڈالا جاسکتا اور کرپٹ عناصر پر ہاتھ نہ ڈالا گیا تو ہم ایک دوسرے کو اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ کے ذریعے موت بانٹتے رہیں گے اور ایک دن ہم مکمل طور پر مردہ ضمیر معاشرہ بن جائیں گے۔ اپنے ضمیر کو موت سے بچانے کیلئے ہمیں اپنے احتساب قوانین کو ملاوٹ سے پاک کرنا ہوگا۔




.