| |
Home Page
پیر یکم ربیع الاوّل 1439ھ 20 نومبر 2017ء
January 13, 2017 | 12:00 am
ایک دیانت دار ٹیکس افسر جس نے ضیاء الحق کوللکارا، ریٹائرمنٹ پر باس کے نام خط

Todays Print

اسلام آباد( رپورٹ: عمرچیمہ) اپریل 1983ء میں ٹیکس حکام نے راولپنڈی میں ایک اسسٹنٹ کمشنر کا تقرر کیا جس کی مقابلہ جاتی امتحان میں کامیابی کے بعد پہلی تعیناتی تھی انہیں جو حدود کار دی گئی اس میں پاک فوج کا جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) بھی آتا تھا۔ جو نہ صرف سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کا اعصابی اور اس وقت سیاسی قوت کامرکز بھی تصور کیا جاتا تھا۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل ضیاء الحق صدر پاکستان بھی تھے۔ اقتدار پر قابض ہونے کیلئے انہوں نے نہ صرف آئین توڑا بلکہ ٹیکس قوانین کی بھی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے گذشتہ دس برسوں کیلئے کوئی انکم ٹیکس ریٹرن داخل نہیں کیا تھا، انہیں نوٹس جاری کرنے کیلئے بڑے حوصلے کی ضرورت تھی۔ یہ پہلا چیلنج تھا۔ جس کا جی ایچ کیو سے معاملہ کرنے والے انکم ٹیکس افسر ہارون محمد خان ترین کو سامنا کرنا پڑا۔ ماضی میں بھی ایف بی آر میں ایسے معا ملا ت ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے ہمت کی اور جو قانون کا تقاضا تھا اسے پورا کیا انکم ٹیکس افسر نے نوٹس بھیجا۔ جسے ضیاء الحق نے اپنے وقت میں پہلی اور آخری بار وصول کیا۔ چند روز بعد آرمی چیف، صدر کے عملے نے ہارون محمد خان ترین کو ٹیلی فون کیا۔ گفتگو کا آغاز ٹیکس افسر کو جنرل ضیاء الحق کی جانب سے تہنیتی کلمات سے ہوا۔ اس کے ساتھ ہی ایک مطالبہ سامنے آیا کہ مذکورہ انکم ٹیکس خود ان کے دفتر آکر ٹیکس ریٹرن فارم مہیا کریں۔ ہارون محمد خان ترین نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ یہ ان کے فرائض میں شامل نہیں ہے۔ معاملے کی ہوا پا کران کے کمشنر پریشان ہو گئے اور انہوں نے نوجوان افسر کوباور کرانے کی بڑی کوشش کی لیکن ناکام رہے اور پھر کمزور باس کے پاس کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ ہارون محمد خان ترین کا تبادلہ کر دیں۔ ان کا تبادلہ چکوال کردیا گیا جہاں اس وقت اوسط ٹیکس وصولیا ں 40لاکھ روپے سے زائد نہ ہوں گی۔ یہ ہدف انہوں نے اول چھ ماہ میں ہی مکمل کر لیا۔دریں اثناء جنرل ضیاء الحق چکوال کے دورے پر گئے جہاں ان کا استقبال پر تعیش تہوار کی شکل اختیار کر گیا۔ جس سے ہارون محمد خان ترین کو تجسس ہوا اورانہوں نے اخراجات کے بارے میں استفسار کیا۔ اس عمل میں ملوث ضلعی انتظامیہ کے ایک افسر کا جواب سن کر وہ حیران رہ گئے کہ صدر کے دورئہ چکوال پراخراجات پورے ضلع سے ٹیکس وصولیوں یعنی 40لاکھ روپے کے برابر ہے۔ ٹیکس چوروں کے خلاف ہارون ترین کی جنگ کا ان کے اعلیٰ حکام نے کچھ اچھا اثر نہیں لیا اورچکوال سے بھی ان کا تبادلہ کردیاگیا۔ ان کی باغیانہ فطرت کومحسوس کرتے ہوئے  ان کے اعلیٰ افسران نے بہتر سمجھا کہ انہیں وہ فرائض تفویض کئے جائیں جو ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی کے زمرے میں نہیں آتے۔ انہوں نے اپنی ملازمت کے کئی برس اسٹاف افسر یا ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز میں گزارے۔ فیلڈ پوسٹنگ کےبجائے ’’سائیڈلائنز‘‘ پر  رہنے کے باوجود وہ دیکھتے رہے کہ کس طرح امیر اور طاقت ور ٹیکس چوری کرتے ہیں۔ 1985میں وہ ریجنل کمشنر اسلام آباد کے اسٹاف افسر تھے اس وقت وزیراعلیٰ کی جانب سے ٹیکس چوری کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ جو ایک شوگر مل کے ڈائریکٹر بھی تھے۔ جس کیلئے ایک جاپانی کمپنی سے مشنری  خریدی گئی تھی فروخت کرنے والے کو ایک کروڑ روپے ادا کئے گئے جبکہ آلات 80لاکھ روپے میں خرید ے گئے۔ جس کا مقصد دیگر ڈائریکٹرز کےساتھ فریب کاری کے ذریعہ باقی 20لاکھ روپے اپنی جیب میں ڈالنا تھا۔ یہ رقم کمپنی کی جانب سے وزیراعلیٰ کےاکائونٹ میں منتقل ہوئی۔ جاپان میں ٹیکس آڈٹ کے دوران اس کے مطابق ہی وضاحت کی گئی۔ نتیجتاً جاپانی ٹیکس حکام نے پاکستانی حکام کو لکھ کر دریافت کیا آیا مذکورہ رقم ٹیکس ریٹرن میں ظاہر کی گئی یا نہیں۔ ایف بی آر نے اپنی روایات کے مطابق وزیراعلیٰ کے خلاف کارروائی کے بجائے انہیں چھوٹ دے دی۔ ایف بی آر کی ملی بھگت سے ایسا ہی ایک اورواقعہ ہارون ترین کی یادداشت میں محفوظ ہے۔2008-09میں ایک مشہور کاروباری شخصیت کے بیٹے نے نیو یارک میں دو کروڑ 30لاکھ ڈالرز مالیت کی پراپرٹی خریدی جس پر امریکی ٹیکس حکام نے ایف بی آر کو لکھ کردریافت کیا آیا یہ رقم پاکستان میں ظاہر کی گئی اور ٹیکس ادا شدہ ہے؟ ہارون ترین نے اس کا چیئرمین ایف بی آر کے اسٹاف افسر کی حیثیت سے مشاہدہ کیا۔ اس وقت ایک ٹیکس چھوٹ اسکیم جاری تھی۔ ایف بی آر نے اس بزنس مین کی پاکستان میں منی لانڈرنگ میں مدد دیتے ہوئے بچالیاحالانکہ اس رقم سے امریکا میں سرمایہ کاری ہو چکی تھی اور ایف بی آر نے امریکی حکام کو کلین چٹ دے دی۔بیرون ممالک رقوم کی منتقلی کے حوالے سے تجسس میں ہارون ترین نے اس بزنس مین کے بیٹے سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ والد اپنے بیٹے کے پاکستان میں امریکن ایکسپریس بینک کے اکائونٹ میں پیسے ڈالتے ہیں۔ اس طرح بیٹا نیویارک میں کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ ادائیگیاں کرتا ہے۔ اسٹیٹ بینک سرمایہ کی اس منتقلی سے لاعلم رہتا ہے۔ اپنے کیریئر کے عروج میں ہارون ترین ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس و انوسٹی گیشن (آئی اینڈ آئی) بنا دیئے گئے۔ اس طرح وہ بڑی مچھلیوں کے خلاف براہ راست کارروائی کا اختیارکھتے تھے۔ انہوں نے ٹیکس چوروں کے خلاف عدالتی ریفرنس دائر کئے اعلیٰ حکام ان کے یہ جرأت مندانہ اقدامات برداشت کر جاتے اگر وہ مقتدر شخصیات سے وابستہ مالدار شخصیات کو ہاتھ نہ لگاتے۔ہارون ترین کو ابتداء میں خبردار کیا گیا۔ ان کے ایک افسر نے یہاں تک کہا کہ سرکشی کے نتیجے میں وہ گریڈ 22میں ترقی پانے سے محروم ہو سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے رویہ نہیں بدلا، اس کی قیمت ادا کی اور گریڈ۔21ہی میں ریٹائر ہوگئے۔ اپنی ملازمت کے آخری دن انہوں نے چیئرمین ایف بی آر کو خط لکھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بالواسطہ ٹیکسوں کےذریعہ غریبوں پربوجھ ڈالنے کے بجائے امیروں پر محصول لگائے جائیں۔ اپنے ماتحت افسران کو مشورہ دیا کہ وہ نتائج کی پرواہ کئے بغیر کوئی دبائو قبول نہ کریں۔ ان کا خط ٹیکس نظام کار کے پیچیدہ ہونے کا خلاصہ ہے۔ بالواسطہ ٹیکسوں نے ٹیکسوں کے تصور ہی کو مسخ کردیا۔ ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ آمدنی والے طبقات پر ٹیکسوں کا مقصد غربت میں کمی لانا ہوتا ہے اور پاکستان میں معاملہ الٹا ہے۔ انہوں نے ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کے ساتھ زیادہ تر وسائل آڈٹ سسٹم کو مضبوط کرنے پر لگانے کا مطالبہ کیا اپنے خط کے اختتام میں انہوں نے مسلسل سیاسی مداخلت کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔