• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
وفاقی وزیر منصوبہ بندی و اصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے کہ گوادر بندرگاہ کو ہانگ کانگ اور سنگاپور کی طرح ایشیا کی جدید ترین بندرگاہ بنانے کا پلان اسی سال تیار کرلیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاک چین راہداری منصوبے نے پاکستان کو نئی شناخت دی ہے۔اب پاکستان خطے میں علاقائی اور اقتصادی تعاون کا مرکز بن کر ابھر رہا ہے۔ان عظیم اقتصادی منصوبوں کے ثمرات سے استفادہ کرنے کے لئے سعودی عرب، ایران، وسطی ایشیائی ریاستیں ،یورپین یونین اور برطانیہ بھی سی پیک کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ گوادر پورٹ پاکستان کا پرانا تجارتی خواب اور بہترین اقتصادی منصوبہ ہے جو نہ صرف پاکستان کے لئے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ سارا خطہ اس پورٹ کو اپنی درآمدات و برآمدات کے لئے استعمال کرنے کی درخواست کر رہا ہے ۔گوادر پورٹ پاکستان کی تیسری بڑی پورٹ بن چکی ہے۔ گرم پانیوں کی یہ انتہائی گہری بندرگاہ کراچی اور پورٹ قاسم کے بعد بہت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔یہ بحرہند اور چین کے جنوبی سمندر کے لئے ایک متبادل روٹ کی حیثیت رکھتی ہے ۔چین گوادر کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے کم وقت اور کم اخراجات سے تیل درآمد کرے گا اور اپنی مصنوعات برآمد کرے گا۔وزیراعظم میاں نواز شریف نے ڈیووس میں بھی گوادر اور سی پیک کی اہمیت سے شرکاء کو آگاہ کیا ہے۔جناب احسن اقبال نے گوادر کو ہانگ کانگ اور سنگاپور کے مقام پر لانے کی جو خوشخبری سنائی ہے وہ بہت ہی دل خوش کن ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ اس وقت سنگا پور اور ہانگ کانگ اپنی اقتصادی ترقی کے اعتبار سے مغربی دنیا کو پیچھے چھوڑ گئے ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ہانگ کانگ اور سنگا پور کے اقتصادی ماڈل اپنانے کے لئے شبانہ روز محنت کریں اور گوادر پورٹ اور سی پیک کی برکات سے پاکستان میں تجارت، کاروبار اور روزگار کے شاندار مواقع پیدا کریں تاکہ بیرونی سرمایہ کاری زیادہ سے زیادہ مقدار میں پاکستان آئے اور پاکستانی نوجوانوں کو تلاش روزگار کے لئے بیرون وطن نہ جانا پڑے۔

.
تازہ ترین