| |
Home Page
بدھ 28 ذوالحج 1438ھ 20 ستمبر 2017ء
ادارتی نوٹ
February 17, 2017 | 12:00 am
لہو پکارے گا آستیں کا!

Lahu Pukaray Ga Astiye Ka

بھارت مقبوضہ کشمیر میں جاری سرفروفشانہ جدوجہد آزادی کو کچلنے کیلئے جو ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے اس پر پردہ ڈالنے کے لئے دنیا بھر میں یہ جھوٹا پراپیگنڈہ کر رہا ہے کہ اس تحریک کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہےاور دہشت گرد پاکستان سے آکر مقبوضہ علاقوں میں بھارتی فوج ، پولیس اور حساس تنصیبات پر حملے کرتے ہیں۔ لیکن جو چپ رہے گی زبان خنجر، لہو پکارے گا آستیں کا۔ بھارت کے آرمی چیف جنرل بپن راوت نے خود اس جھوٹ کا بھانڈا یہ کہہ کر بیچ چوراہے کے پھوڑ دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری ’شورش ‘کو وادی کے اندر ہی سے کنٹرول کیا جا رہا ہے اور بھارتی فوج کے ’’عوام دوست‘‘ آپریشنز کو مقامی آبادی کی جانب سے حمایت نہیں مل رہی۔ کشمیریوں کے خلاف آپریشن میں مصروف بھارتی فوجیوں سے گفتگو کے دوران انہوں نے کشمیری نوجوانوں اور بزرگوں کو دھمکی دی کہ وہ پاکستان کے جھنڈے لہرانا چھوڑ دیں ورنہ ہم ان کے خلاف سخت اقدامات جاری رکھیں گے، بھارتی فوجیوں کا کہنا تھا کہ وہ کشمیری مجاہدین کے خلاف کارروائی کرتے ہیں تو انہیں مقامی آبادی کی جانب سے مخالفانہ نعرے بازی اور پتھرائو کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے مجاہدین فرار ہو جاتے ہیں۔ سابق بھارتی وزیر چدم برم نے بھارتی آرمی چیف کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے بھارت کی کشمیر پالیسی کے خلاف قرار دیا ہے۔ احتجاجی ریلیوں میں نوجوانوں پر پیلٹ گنوں کے استعمال کو جائز قرار دیتے ہوئے بھارتی فوجیوں کا کہنا تھا کہ وہ تو مظاہرین کی ٹانگوں پرفائر کرتے ہیں مگر جو لوگ پتھر اٹھانے کے لئے جھکتے ہیں بندوقوں کے چھرے ان کے چہروں پر لگ جاتے ہیں جس سے ان کی آنکھیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ تسلط قائم رکھنے کیلئے جو بھی بہانے بنائے، کشمیری آزادی کے حصول کا تہیہ کر چکے ہیں۔ اس سے پہلے کہ برصغیر اور اس کے نتیجے میں عالمی امن خطرے میں پڑ جائے اقوام متحدہ ، بڑی طاقتوں اور عالمی برادری کو سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل کے لئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں۔

.