Prof Syed Israr Bukhari - سر رہ گزر - column - 2017-02-17
| |
Home Page
منگل 02 شوال المکرم 1438ھ 27 جون 2017ء
پرو فیسر سید اسرار بخاری
February 17, 2017 | 12:00 am
سر رہ گزر

Sar E Rehguzar

تریاقِ عدل
سپریم کورٹ نے کہا ہے:انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آئے گا، اداروں کی اصلاح میں اہم کردار ادا کریں گے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کا یہ بیان ’’سانپوں‘‘ کے ڈسے ہوئے لوگوں کے لئے تریاق ہے۔ امید کی تگڑی کرن ہے۔ ایمان ہوتا تو روکتا بھی، کفر کی آغوش میں بڑا سکون ملا سب اسی میں سما کر سو گئے۔ عدل ایک خدائی صفت اور دست ِ یزداں ہے اگر چل پڑے تو چیف جسٹس نے جو کہا ہے وہ اس لئے ہو کر رہے گا کہ مشیت سے ان کی آواز ہم آہنگ ہے، جس کے نام پر ملک حاصل کر کے اسے بتکدئہ ہوس بنا دیا اس کی تطہیر ہو کر رہے گی۔ ناامیدی ہماری لغت میں موجود نہیں، عدلیہ ہی دست ِ یزداں بن کر کافی شافی علاج کر دے گی۔ دہشت گردی کو باہر ڈھونڈنے والے سن لیں کہ ’’شامت ِ اعمال ما صورتِ نادر گرفت‘‘ ہمارے اپنے کرتوتوں نے ایسی ہولناک شکل اختیار کر لی جس کی مثال نہیں ملتی۔ جنہیں مثال بننا تھا وہ عبرت کا نشان بنیں گے۔ اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں عدل کا چھانٹا چلے گا، بتکدہ مسمار ہو گا مسجد پھر سے آباد ہو گی۔ جنہوں نے داغ سجدہ کو داغِ داماں بنا دیا وہ اب یہ نہ کہہ سکیں گے ؎
بس اک داغ سجدہ میری کائنات
جبینیں تری آستانے ترے
ایک پاناما کیا یہاں ہر قدم پاناما ہے۔ تھوڑی دیر ہے اندھیر نہیں۔ وہ آنے والے ہیں جو کہیں گے ؎
تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
پیسے سے گھوڑی نہیں چلے گی!
وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے:تمام شہیدوں کے خون کا حساب لیں گے۔ وزیر اعلیٰ کی شہداء کے گھروں پر آمد۔ ایک ایک کروڑ کا چیک دیا۔ شہداء کے خون کا حساب قوم کے خون سے نہیں چکایا جا سکتا۔ اگر اس ملک پر 70برسوں میں 50فیصد بھی دیانتداری حکمرانی کرتی تو آج انجام گلستاں یہ نہ ہوتا۔ یونانی فلاسفر کہتے تھے مرض پہلے دماغ میں پیدا ہوتا ہے پھر جسم کا رخ کرتا ہے۔ پانی فراز سے نشیب کی طرف بہتا ہے اور سیلابِ بلا بن کر بستیاں اجاڑ دیتا ہے۔ اب کسی کو الزام دینے، کسی کا نام لینے کی ضرورت نہیں کیونکہ عذاب بھی اوپر ہی سے نیچے آتا ہے اور خالق ارض و سما نے تو فرما دیا ہے ’’زمین پر چل کر دیکھو اور مشاہدہ کرو کہ ہم نے ظلم کا نظام چلانے والوں کا کیا حشر کیا‘‘ کیا ہم خبریں دے کر، تجزیے کر کے، شہیدوں کے لواحقین کو اس قوم کے لہو سے کشید کی گئی دولت سے اجر دے سکیں گے۔ شہادت کا اجر تو صرف اللہ جل جلالہ ہی دے سکتا ہے ہم سب اپنے ضمیروں سے پوچھیں کہ وہ اب بھی ہمیں روکتے ہیں مگر ہم سب کے پاس اپنے گناہوں کے دفاع کے دلائل موجود ہیں۔ یہ لنگڑی لولی دلیلیں آخری سچ کا حتمی وار روک سکیں گی، ہرگز نہیں۔ اب کیوں ہم بار بار مٹی کنگھالتے ہیں۔ کیوں بریکنگ نیوز سے بے بسوں کو آگاہ کرتے ہیں۔ بھلا ایسے کوئی کام چلے گا، ہرگز نہیں کیونکہ اب ؎
راکھ کے ڈھیر میں شعلہ ہے نہ چنگاری
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
اب ’’اُس‘‘ کا انتظار کر!
ہم نے ’’اپنے جہاں‘‘ کو اس قدر بیمار کر دیا ہے کہ اس کا علاج بھی نہیں کر سکتے۔ اب اسے کسی اور کا جہاں بھی ٹھیک نہیں کر سکتا اس لئے اپنے عوام سے اپنے خواص سے یہی کہہ سکتے ہیں ؎
تم نے اپنا جہاں اجاڑ دیا
اب ’’اُس‘‘ کا انتظار کر
’’اُس‘‘ کون ہے؟ یہ کون نہیں جانتا۔ قوموں کی تاریخ اس کے ایکشن سے بھری پڑی ہے مگر ہماری تاریخ تو تنہا سب سے آگے نکل گئی ہے۔ ایسی کونسی بیماری ہے کہ جس کا علاج ہمارے پاس نہیں۔ علاج تو ہے ہماری اپنی ہی بیماری ہمارے چمن کو لگ گئی۔ شاخوں پر بیٹھے الو بھلا اس کا کیا علاج کر سکیں گے۔ ہم نہیں جانتے کہ وہ جو کبھی ہمارا انتظار کرتا تھا اب ہم اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ آئے ہمارے سارے بل نکال دے۔ وہ کسی اپنے کو بھیجے گا جو پرائیوں سے بدتر سلوک کرے گا۔ پھر ہماری ساری چالاکیاں دھری رہ جائیں گی۔ کوئی دلیل سوائے اقبالِ جرم کے پاس نہ ہو گی۔ انصاف میں تاخیر اور طوالت ہرگز نہ ہو گی۔ فقط ایک چابک سے فیصلہ ہو گا ہر نفس عیار و مکار کا، مذہب، اقتدار کی ہوس کو ہم نے دہشت گردی میں تبدیل کر دیا اور اب یہ حال ہے کہ؎
ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے
شرم نہ آئی ہم کو کہ ’’اُس‘‘ سے کہہ دیا ؎
ہوس کی ڈور دراز ہے
اب میرا انتظار کر!
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
اب مٹی سے کھیلتے ہو بار بار ؟
٭ پنجاب میں دہشت گردوں کا نیا گٹھ جوڑ ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔
اسے نیا نظام ہی ختم کر سکے گا، ہمارے نظام میں دودھ ڈالو تو وہ دودھ نہیں رہتا زہر بن جاتا ہے۔ سانچے میں حور ڈالو تو لنگور نکلتا ہے۔ غور کریں بس غور!
٭ عمران خان:شریف فیملی سمیع اللہ کلیم اللہ کی طرح ایک دوسرے کو چانس دے رہی ہے۔
اسی لئے تو گول ہو گیا، ویسے خان صاحب آپ نے بھی مایوس ہی کیا۔
غضب کیا کہ جفا کار تجھ سا یار کیا !
٭ نانی اماں کو مور لے گئے باقی جو بچا تھا کالے چور لے گئے۔
اب مٹی سے کھیلتے ہو بار بار کس لئے؟


.