ہر بات کی ذمہ داری وزارت داخلہ پر ڈالنا درست نہیں ،ترجمان
| |
Home Page
منگل یکم ذیقعدہ 1438ھ 25 جولائی 2017ء
February 17, 2017 | 12:00 am
ہر بات کی ذمہ داری وزارت داخلہ پر ڈالنا درست نہیں ،ترجمان

Todays Print

اسلام آباد( نمائندہ خصوصی) سپریم کورٹ جج کے ریمارکس پروزارت داخلہ کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے ،وزارت داخلہ کے ترجمان کاکہنا ہے کہ ہر چیز کی ذمہ دار ی وزارت داخلہ پر ڈالنا درست نہیں، ایسا الزام آئین اور حقائق کونظر انداز کرنے کے مترادف ہے، سپریم کورٹ کے فاضل جج کی طرف سے ان ریمارکس پر کہ’’ وزارت داخلہ کچھ نہیں کررہی، عدالت کہے تو ناراض ہوجاتےہیں‘‘ تبصرہ کرتے ہوئے وزارت داخلہ کے ترجمان کاکہنا تھا کہ کسی کی غیر حاضری میں اس طرح کے ریمارکس دینامناسب نہیں، ترجمان کے مطابق وزارت داخلہ نے ساڑھے تین سال میں جو کچھ کیا، کارکردگی رپورٹ جسٹس امیرہانی مسلم کے سامنے پیش کردی ہے۔ اس لئے تبصرہ آرائی سے قبل اس کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ کوئی آپریشنل ادارہ نہیں یہ وفاقی حکومت کا ایک ادارہ ہے جو اپنی آئینی حدود میںکام کرتا ہے ۔اس کاکام مسلح افواج، سکیورٹی ایجنسیز، صوبائی حکومت اور انٹیلی جنس ایجنسیز کے ساتھ قریبی روابط رکھنا ہے، یہ وزارت داخلہ کی ساڑھے تین سالہ کارکردگی کا نتیجہ ہے کہ آج ملک میں دہشت گردی میں نمایاں حد تک کمی آئی ہے۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ جماعت الاحرار غیرملکی تنظیم ہے جس کی بنیاد پاکستان میں نہیں ، یہ سرحد پار سے کام کررہی ہے۔ قانون کے تحت جماعت الاحرار کو کالعدم قرار دیا جاچکا ہے۔ جماعت الاحرار در حقیقت تحریک طالبان پاکستان مہمند کے لبادے میں کام کررہی ہے جسے چند سال پہلے ہی کالعدم قرار دیا گیا تھا، ترجمان نے مزید کہا کہ وزارت داخلہ نے سکیورٹی ایجنسیز سے رابطوں کے نتیجے میں تمام دہشت گرد تنظیموں کی مجرمانہ سرگرمیوں کے خلاف سخت اقدامات کئے،ریکارڈ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سینکڑوں دہشت گرد مارے گئے، گرفتار ہوئے یا ملک سے فرار ہوگئے۔ بچے کچھے  پڑوسی ملکوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ داخلہ ترجمان نے کہاکہ پاکستان میںامن اورسکیورٹی حالات میں بہتری حکومت کے مربوط اقدامات اورمتعلقہ اداروں کی عظیم قربانیوں کا نتیجہ ہے،اس لئے اس طرح کی کوئی بھی تبصرہ آرائی، ان لوگوںکے حوصلے پست اور مایوسی پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے جو دشمن کے خلاف جنگ میںمصروف ہیں۔