پاناما کیس، چیئرمین نیب ، ایف بی آر حدیبیہ ریفرنس کے ریکارڈ سمیت طلب
| |
Home Page
اتوار 29 رمضان المبارک 1438ھ 25 جون 2017ء
February 17, 2017 | 12:00 am
پاناما کیس، چیئرمین نیب ، ایف بی آر حدیبیہ ریفرنس کے ریکارڈ سمیت طلب

Todays Print

اسلام آباد(نمائندہ جنگ/جنگ نیوز)سپریم کورٹ نے  پاناما کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیئرمین نیب اور ایف بی آر کو حدیبیہ ریفرنس کے ریکارڈ سمیت طلب کرلیا ہے، سماعت کے دوران جسٹس آصف کھوسہ نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ دادا دنیا میں نہیں رہے، پوتے کما نہیں رہے، کلثوم نواز گھریلو خاتون ہیں، ایسے میں صرف ایک ہی شخص بچتا ہے، جائیداد کے فنڈز کی وضاحت اطمینان بخش نہیں، وقت ضائع کیا جارہا ہے، جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ایک چونی کا کام نہیں ہوا، جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ ہضم کرنا مشکل ہے کہ اتنی قیمتی جائیداد رکھنے والا ریکارڈ نہ رکھے جبکہ حسین نواز کے وکیل نے کہا کہ اگر ریکارڈ نہیں رکھا گیا تو اس میں جرم کیا ہے۔نمائندہ جنگ کے مطابق عدالت عظمیٰ نے ’’پاناما پیپرز لیکس‘‘ کیس کی سماعت کے دوران آئندہ سماعت پر چیئرمین نیب اور چیئرمین ایف بی آر کو ذاتی حیثیت میں ریکارڈ سمیت طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 21 فروی تک ملتوی کردی ہے جبکہ مقدمہ کی سماعت کے دوران مسول علیہان حسن نواز اور حسین نواز کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے اپنے دلائل مکمل کرلئے ہیں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ چیئرمین ایف بی آر آئندہ سماعت پر عدالت کو بتائیں اب تک کیا کارروائی کی ہے اور کتنے افراد کو نوٹسز بھجوائے گئے ہیں وہ کیس سے متعلق تیاری کرکے آئیں، ہم سوالات پوچھیں گے۔ دادا دنیا میں نہیں رہے، بچے کما نہیں رہے، کلثوم نواز گھریلو خاتون ہیں، ایسے میں صرف ایک ہی شخص بچ جاتا ہے؟ فوجداری جرم کی تحقیقات یا ٹرائل متعلقہ فورم پر ہوتا ہے۔ جسٹس شیخ عظمت نے ریمارکس دیئے ہیں اگر عدالت میں اتنی زیادہ دستاویز آئیں گی تو کیس کیسے ختم ہوگا، کہیں یہ سازش تو نہیں کہ کیس مکمل ہی نہ ہو پائے۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ یہ بات ہضم کرنا مشکل ہے کہ اتنی قیمتی جائیداد لینے والا اس کا کوئی ریکارڈ ہی نہ رکھے، یہ دستاویز آخر آئی کہاں سے ہیں؟ حسین نواز کے پاس لندن میں مہنگی جائیدادوں کے لیے سرمایہ کاری کو بھی دیکھنا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ قطر میں کاروبار کی دستاویز نہیں ہیں، جائیداد سے متعلق فنڈز کی وضاحت بھی اطمینان بخش نہیں ہے جبکہ سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ مریم نواز کے بینیفشل مالک ہونے کی جعلی دستاویز عدالت میں جمع کرائی گئی ہیں۔ ضابطہ فوجداری کے تحت شواہد نہ ہوں تو ملزم کا موقف تسلیم کیا جاتا ہے، جب کوئی جرم نہیں ہوا تو کمیشن بنانے کا کوئی جواز نہیں ہے، اگر کوئی ریکارڈ نہیں رکھا گیا تو اس میں جرم کیا ہے؟ جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بنچ نے جمعرات کو کیس کی سماعت کی تو حسن نواز اور حسین نواز کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے منروا کمپنی سے سروسز کا معاہدہ اور دیگر ریکارڈ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جولائی 2006 سے آج تک آف شور کمپنیوں کے حصص منروا اور ٹرسٹی سروسز کے پاس ہیں۔ انہوں نے عدالت میں حسین نواز اور منروا کمپنی کے درمیان ہونے والے معاہدے اور منروا کمپنی کی انوائسز پیش کیں اور عدالت کو بتایا کہ منروا کمپنی نے معاوضے کی جو انوائسز جاری کیں وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ منروا کمپنی کو خدمات کی مد میں رقم کی ادائیگی کیسے ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ 2014ءمیں منروا کمپنی کو 6600پائونڈ ادا کئے گئے تھے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ ہم آپ کی بات ماننے کو تیار ہیں لیکن یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ نیلسن اور نیسکول کے ڈائریکٹرز کون ہیں؟ تو سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ منروا کمپنی کے منتظم نے نیلسن اور نیسکول کیلئے اپنے ڈائریکٹرز دیئے تھے۔ حسین نواز اپنے نمائندے فیصل ٹوانہ کے ذریعے منروا کمپنی کو ادائیگی کیا کرتے تھے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ معاملہ ان دستاویزات کا ہے جن سے حسین نواز کا فلیٹس سے براہ راست کنکشن ملے۔ مریم نواز آف شور کمپنیوں کی مجاز نمائندہ تھیں، سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ جولائی 2006ءمیں منروا کمپنی کے نام رجسٹرڈ شیئرز جاری ہوئے، 2014ء میں منروا کمپنی کی جگہ ٹرسٹی سروسز کی خدمات حاصل کی گئیں، فروری سے جولائی 2006ء تک مریم نواز ٹرسٹی شیئر ہولڈر تھیں، جولائی 2006ء میں بیریئر سرٹیفکیٹ کی منسوخی پر مریم نواز کی شیئر ہولڈر حیثیت ختم ہوگئی اور اس کے بعد سے ان کی حیثیت صرف ٹرسٹی کی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا جولائی 2006ء میں مریم نواز کی ٹرسٹی کی حیثیت ختم ہوگئی تھی؟ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ موزیک فونسیکا کے مطابق مریم نواز آف شور کمپنیوں کی بینیفشل مالک ہیں۔ سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ مریم نواز کہتی ہیں کہ انہوں نے منروا کمپنی کی کسی دستاویز پر دستخط نہیں کئے ہیں، جس شخص نے یہ دستاویز عدا لت میں پیش کی ہے وہی بتائے کہ یہ کہاں سے لائی گئی ہیں؟ مریم نواز سے متعلق جعلی دستاویزات عدالتی ریکارڈ پر لائی گئی ہیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ منروا کمپنی کے نمائندے نے بھی مریم نواز کی زیر دستخطی دستاویز کی تردید کی ہے، آپ کہنا چاہتے ہیں کہ فلیٹس کی ملکیت سے متعلق آپ کی چین مکمل ہے، جس کسی کو شک و شبہ ہے وہی ثابت کرے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر مریم نواز زیر کفالت ثابت ہو بھی جائیں تب بھی فلیٹ کی مالک ثابت نہیں ہوتی ہیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ اگر مریم نواز، حسین نواز کے نمائندہ کے طور پر کام کرتی تھیں تو ان دستاویز کو بھی دیکھنا ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ وہ دستاویز ایک ٹرسٹ ڈیڈ ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ جولائی 2006ء میں بیریئر سرٹیفکیٹس کی منسوخی کیلئے حسین نواز گئے تھے یا مریم نواز۔ سلمان اکرم راجہ نے اصغر خان کیس کا حوالہ دیا تو جسٹس شیخ عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا اصغر خان کیس میں شواہد ریکارڈ کئے گئے تھے تو انہوں نے بتایا کہ کیس میں چونکہ سابق لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی اور سابق جنرل اسلم بیگ نے الزامات تسلیم کرلئے تھے اس لئے شواہد ریکارڈ کرنے کی ضرورت نہیں تھی، جسٹس آصف کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ خود سے کمیشن تشکیل دیکر انکوائری نہیں کرسکتی ہے؟ فاضل وکیل کاجواب تھا کہ آئین کے آرٹیکل10 اے میں شفاف ٹرائل کا کہا گیا ہے، کمیشن کسی شخص کو سزا دے سکتا ہے اور نہ ہی بری کرسکتا ہے، وہ اپنی انکوائری میں کسی کو صرف ملزم ہی ٹھہرا سکتا ہے جبکہ فوجداری معاملے کا ٹرائل کمیشن کے ذریعے نہیں کرسکتا ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ کمیشن ہمیشہ شواہد اکٹھے کرنے کے لئے بنایا جاتا ہے، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ یہ بنچ اس وقت کوئی شواہد ریکارڈ نہیں کر رہا ہے، اب تک کی ساری عدالتی کارروائی ایک شخص کا دوسرا کیخلاف مقدمہ ہے، فریقین کو سن کر ہی فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت براہ راست مجاز اداروں کا کام اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتی ہے، جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا کہ ارسلان افتخار کیس میں معاملہ متعلقہ اداروں کو بھیجا گیا تھا، آپ کہتے ہیں کہ درخوا ست گزاروں نے شواہد نہیں دیئے اور پھر خود ہی کہتے ہیں کہ ہمارے پاس بھی کچھ نہیں ہے اور لندن فلیٹس الثانی خاندان نے دیئے ہیں۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ اگر حسین نواز کے موقف کو تسلیم نہ کریں تو پھر کس کا موقف مانیں؟ وزیر اعظم کے اسمبلی کے بیان پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست بھی دائر ہوئی تھی مگر اسلام آباد ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ نے اسے خارج کردیا تھا، میاں محمد نواز شریف آج وزیر اعظم ہیں کل نہیں ہوں گے اور ہم بھی آج جج ہیں کل نہیں ہونگے۔ ہم نے قانون کو دیکھنا ہے وزیر اعظم کو نہیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اربوں روپے کا معاملہ تھا مگر آپ کہتے ہیں کہ کوئی دستاویز ہی نہیں ہے۔ اگر تحریک انصاف کی دستاویز کی تصدیق ہوگئی تو پھر آپ کی کہانی کہاں جائے گی؟ جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے برجستہ کہا کہ پھر آپ راول ڈیم پر مچھلیاں پکڑنا، ان ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہ بلند ہوا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ کیا دستاویزات فراہم نہ کرنا آپ کی حکمت عملی ہے؟ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے، جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اگر یہ آپ کی حکمت عملی نہیں ہے تو پھر جوا ہے، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ جوا کسی کے بھی حق میں جاسکتا ہے اس لئے یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدلیہ نے آرٹیکل10 اے اور قانون کے اصولوں کو ہمیشہ برقرار رکھنا ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ یہ اس لئے بھی ہے کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل کا حق نہیں ہے صرف نظرثانی درخواست دائر ہوسکتی ہے مگر نظرثانی کا دائرہ کار محدود ہوتا ہے۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ آپ کو سارا سرمایہ قطری نے دیا تھا لیکن اتنے بڑے کاروبار اور لین دین کا آپ نے کوئی حساب نہیں رکھا ہے، جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت کو دیکھنا ہے کہ کیا یہ جرم ہے؟ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ آپ کے کیس میں دو باتیں ہوسکتی ہیں، یا ہم قطری والا موقف تسلیم کرلیں یا نہ کریں؟ کیونکہ آپ کے پاس ایک یہ ہی موقف ہے اور دستاویزات بھی نہیں ہیں، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میرے پاس جو دستاویزات تھیں پیش کر دی ہیں، اب اگر آپ قطری والا موقف تسلیم نہیں کرتے تو پھر درخواست گزار کو ثابت کرنا ہے کہ ہم نے جرم کیا ہے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ مقدمہ صرف یہ ہے کہ مریم جائیداد کی بینیفیشل ٹرسٹی ہیں یا نہیں؟ دوسرا مقدمہ سراج الحق کا ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ کرپشن کو نظر انداز نہ کیا جائے اور کرپشن میں ملوث افراد کو نااہل قرار دیا جائے، اگر وہ ثابت کردیتے ہیں تو ٹھیک، ورنہ ان کی درخواست سیاسی رقابت ہی سمجھی جائے گی۔ آپ کو صرف مریم نواز کے حوالے سے دستاویز دینی تھیں، آپ دھیان کریں مجھے کہیں دوبارہ دوائی نہ کھانی پڑ جائے۔ سلمان اکرم نے کہا کہ نعیم بخاری کی دستاویزات کی تصدیق ممکن ہی نہیں ہے میں بھی عدالت کے سامنے قانونی سوال اٹھا رہا ہوں۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ آپ سے معلومات پیدا کرنے کا نہیں پیش کرنے کا کہا تھا۔ اربوں روپے کا معاملہ ہے اور آپ کہتے ہیں ایک دستاویز بھی نہیں ہے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ایک مقدمہ مریم کے فلیٹس کے مالک ہونے کا سامنے آیا ہے۔ دوسری سراج الحق کی درخواست آئی تھی کہ پاناما اور آف شور کمپنیاں سامنے آچکی ہیں جس کی بنیاد پر نااہلیت مانگی گئی تھی، یہاں پر اب یہ کیس سیاسی مخاصمت کا بن گیا ہے بدعنوانی کا نہیں، ہمارے سامنے دوم ختلف جیورس پروڈنس آچکی ہیں جن کو الگ الگ دیکھ رہے ہیں۔ آصف کھوسہ نے کہا کہ استغاثہ کی ذمہ داری ہے کہ شک و شبہ سے بالا اپنا کیس ثابت کرے۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ اصغر خان کیس میں عدالت نے پہلے ڈیکلیریشن دیا تھا اور کیس کا کریمنل حصہ تحقیقات کے لئے بھجوایا گیا تھا۔ سلمان راجا نے کہا کہ عدالت نے ڈیکلیریشن اعترافی بیانات پر دیا تھا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کے موکل نے بھی تو جائیدادیں ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ میاں شریف کا انتقال ہوچکا تھا، بچوں کی اس وقت آمدن نہیں تھی، جس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت اس بنیاد پر کچھ بھی فرض نہیں کرسکتی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جائیداد سے متعلق فنڈز کی تفصیلات نہیں ہیں قطر میں کاروبار کی دستاویز بھی موجود نہیں ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالت وضاحت مسترد کر دے تو بھی درخواست گزار کا موقف تسلیم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ وزیر اعظم نے فلیٹس خریدنے کا بیان دیا، بچوں نے اپنے بیان سے وزیر اعظم کے بیان کی تردید کردی۔ کلثوم نواز اور وفاقی وزراء نے بھی فلیٹس سے متعلق اپنے اپنے بیان دیئے تھے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کلثوم نواز کا کوئی بیان نہیں لیا گیا تھا بلکہ وہ صحافی کا اپنا آرٹیکل تھا۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ امریکہ میں سربراہ مملکت کے خلاف تحقیقات ہوں تو اس کے لیے الگ ادارہ ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ امریکہ میں اس کام کے لیے الگ ادارہ قانون کے مطابق بنایا گیا ہے، امریکہ میں یہ کام عدالتوں کے ذریعے نہیں ہوتا۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ جب تحقیقاتی ادارے آزاد تھے تب عدالتیں مداخلت نہیں کرتی تھیں، وقت اور حالات کے مطابق عدالتوں کو مداخلت کرنا پڑی ہے، جب ادارے لکھ دیں کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے تو عدالت کیا کرے؟ بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ جب ادارے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا نہ کررہے ہوں تو پھر سپریم کورٹ کو آئین کے اس سکیشن کے تحت ہی کارروائی کرنا پڑتی ہے۔ بنچ کے سربراہ کے اس ریمارکس پر کمرہ عدالت میں پہلی نشستوں پر بیٹھے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین اور شیخ رشید کے چہروں پر ایک دم سے ہنسی آگئی لیکن اگلے ہی لمحے یہ ہنسی اس وقت ان رہنماؤں کے چہروں سے غائب ہوگئی جب بنچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ ’سپریم کورٹ تحقیقاتی ادارہ نہیں اور ہم کسی بھی قانون کو اسڑائیک ڈاؤن نہیں کرسکتے اور نہ ہی اس بارے میں سوچ سکتے ہیں۔‘