بلوچستان کے علاقے "وڈ" اور" جھل مگسی "دہشتگردوں کی محفوظ پنا ہ گاہیں
| |
Home Page
ہفتہ 28 رمضان المبارک 1438ھ 24 جون 2017ء
February 17, 2017 | 12:00 am
بلوچستان کے علاقے "وڈ" اور" جھل مگسی "دہشتگردوں کی محفوظ پنا ہ گاہیں

Todays Print

کراچی (ثاقب صغیر  /اسٹا ف رپورٹر)  بلوچستان کے علاقے  "وڈ" اور" جھل مگسی "دہشتگردوں کی محفوظ پنا ہ گاہیں بن گئے، بلوچستان میں موجود شفیق مینگل اور امان اللہ زہری کا لعدم  تنظیموں سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کو پناہ دیتے ہیں جبکہ وہاں ٹی ٹی پی،القاعدہ  بر صغیر اور دیگر تنظیموں کے علاوہ بلوچ لبریشن آرمی بھی کا لعدم  تنظیموں کیساتھ ملکر اپنی کار روائیاں کر رہی ہے سندھ میں سانحہ سیہون سے قبل ہونے والے دھماکوں میں ملوث ملزمان بلوچستان کے راستے سندھ میں داخل ہوئے ، سی ٹی ڈی کیجانب سے  بلوچستان کے بعض علاقوں میں آپریشن کو ناگزیر قرار دینے کے چار ماہ بعد بھی بلوچستان کے علاقوں میں آپریشن نہیں کیا جا سکا،تفصیلات کے مطابق کاؤنٹر ٹیر رازم ڈیپارٹمنٹ  کے اعلیٰ افسران نے چار ماہ قبل سندھ حکومت ،آئی جی سندھ اور دیگر متعلقہ اداروں کو ایک خط لکھا تھا جسمیں بتایا گیا تھا گذشتہ دو سالوں کے دوران سندھ کے شہروں جن میں شکارپور اور جیکب آباد قابل ذکر ہیں میں ہونے والے دہشت گردی کے بڑے واقعات میں ملوث دہشت گرد بلوچستان کے راستے سندھ میں داخل ہوئے ،خط میں بتایا گیا تھا کہ بلوچستان کے علاقوں  "وڈ" اور" جھل مگسی "میں دہشت گردوں کی محفوظ پنا ہ گاہیں ہیں اور وہاں پر موجود مختلف کا لعدم  تنظیموں سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد ملکر ملک دشمن کا رروائیوں میں ملوث ہیں۔خط میں بتایا گیا تھا کہ سندھ کے وہ شہر جو بلوچستان کی سرحد کے ساتھ ہیں ان میں اب بھی کا لعدم تنظیموں کی جانب سے دہشت گرد کار روائیوں کا خطرہ ہے اور یہ تما م دہشت گرد بلوچستان کے مذکورہ علاقوں سے سندھ میں داخل ہو کر اپنی کار روائیاں کر رہے ہیں اسلیئے اپر سندھ کے علاقوں میں ان بڑے واقعات سے بچنے کے لیئے ضروری ہے کہ بلوچستان کے  ان علاقوں میں ایک بڑا آپریشن کیا جائے  اوروہاں موجود ملزمان کے ٹھانوں کو تباہ کیا جائے، ذرائع کے مطابق بلوچستان میں موجود شفیق مینگل اور امان اللہ زہری ان کا لعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کو پناہ دیتے ہیں جبکہ وہاں ٹی ٹی پی،القاعدہ  بر صغیر اور دیگر تنظیموں کے علاوہ بلوچ لبریشن آرمی بھی اب ان کا لعدم تنظیموں کیساتھ ملکر اپنی کار روائیاں کر رہی ہے ۔ چار ماہ سے زائد کا عرصہ گذر جانے کے باوجود بلوچستان  کے مذکورہ علاقوں میں اب تک کوئی بڑا آپریشن شروع نہیں کیا جا سکا ۔