| |
Home Page
اتوار 27 ذیقعدہ 1438ھ 20 اگست 2017ء
February 17, 2017 | 12:00 am
فوجی عدالتوں، فوجداری قوانین میں ترامیم کے مسودے ذیلی کمیٹی کے سپرد، حکومت قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی بنانے پر تیار

Todays Print

اسلام آباد (نمائندہ جنگ / نیوز ایجنسیز) حکومت نے فوجی عدالتوں سے متعلق فوجداری قوانین میں ترامیم کے مسودے کو ڈیلی کمیٹی کے سپرد کردیا جبکہ حکومت قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی بنانے پر تیار ہوگئی ہے تاہم پیپلز پارٹی نے مسودہ مسترد کردیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے فوجی عدالتوں کی مدت میں 3؍ سال توسیع کی تجویز دے دی۔ پیپلز پارٹی نے آئینی ترمیم کا مسودہ یکسر مسترد کردیا، دیگر جماعتوں نے بھی وقت مانگ لیا۔اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی صدارت میں پارلیمانی رہنمائوں کا پانچواں اجلاس بھی فوجی عدالتوں کو توسیع دینے پر کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔ مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ نے نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے رہنمائوں کو بریفنگ دی۔ حکومت نے مجوزہ آئینی ترمیم کا مسودہ پارلیمانی رہنما ئو ں کے سپرد کردیا جس کو پیپلز پارٹی نے یکسر مستردکردیا۔سید نوید قمر نے کہاکہ حکومت کے مسودہ قانون کو مسترد کرتے ہیں،دائرہ کاراتنا نہیں بڑھانا چاہتے کہ جسے چاہیں فوجی عدالت میں بھیج دیں۔شاہ محمود قریشی اور دیگر اپوزیشن رہنمائوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے حوالے سے محض اتفاق رائے کافی نہیں بلکہ قانونی اصلاحات کی ضمانت دی جائے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھاکہ حکومت نے پارلیمانی رہنمائوں کو قومی سلامتی کمیٹی کی تشکیل کی بھی یقین دہانی کرادی ہے۔حکومت کی جانب سے مجوزہ آئینی مسودے کو بہتر بنانے کے لیے 5 رکنی ذیلی کمیٹی قائم کردی گئی جب کہ پارلیمانی رہنمائوں کا اجلاس 27 فروری کو دوبارہ ہوگا۔