| |
Home Page
جمعہ 05 ربیع الاوّل 1439ھ 24 نومبر 2017ء
حنا پرویزبٹ
March 03, 2017 | 12:00 am
پی ایس ایل ۔ویلکم ٹو لاہور

Psl Welcome To Lahore

پیشکش جتنی پرکشش تھی بچہ اتنا ہی معصوم تھا کہ سنتے ہی اپنے باپ کے گلے گیا۔ بولا واقعی ہم پی ایس ایل کا میچ دیکھنے اسٹیڈیم جائیں گے۔ باپ نے کرکٹ کے رسیا اپنے گیارہ سالہ بیٹے کاشف کے سامنے میچ کے ٹکٹ لہراتے ہوئےیقین دلایا کہ ہم پوری فیملی میچ دیکھنے جارہے ہیں۔ ٹکٹیں ہاتھ میں پکڑ کر یقین کا مرحلہ طے مکمل ہونے کے بعد تو کاشف کے گھر میں عید کا سا سماں بن گیا ہے۔ پوری فیملی نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرزکو سپورٹ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس کی وردی کا آرڈر دےدیا ہے۔ کاشف کی فیملی نے یہ بھی فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ تمام مشکلات کو بالائے طاق رکھتے ہوئےمحض میچ دیکھنے اور انجوائے کرنے نہیں بلکہ دنیا کو یہ پیغام دینے کیلئے میچ دیکھنے جائیں گے کہ زندہ دلان لاہور کے دلوں میں کرکٹ بستی ہے یہ میدان تمام دنیا کے کھلاڑیوں کیلئے محفوظ جگہ ہیں جہاں انھیں ایسا ماحول ملے گا جو دنیا میں کہیں دستیاب نہ ہوگا۔ یہ بظاہر ایک گھر کی کہانی ہے جو پی ایس ایل کا فائنل میچ دیکھنے کیلئےتمام خدشے،خوف اور ڈر کو پھلانگتے ہوئے ا سٹیڈیم پہنچنے کیلئے تیار ہیں۔ اسی قسم کے جذبات اس جیسی ہزاروں فیملیوں کے دلوں میں ابل رہے ہیں۔ لاہور مال روڈ دھماکوں اورلعل شہباز قلندر مزار پر ہونے والے دھماکوں اور شہدا کی اتنی بڑی تعدادکے بعد ملک بھر میں سوگ،مایوسی اورافسوسناک کی جو لہر آئی تھی اس کے بعد وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے جس طرح سے عسکری قیادت اورقانون نافظ کرنے والے اداروں کو ایک پیج پر لا کر جاری نیشنل ایکشن پلان کے جامع منصوبہ کو مزید متحرک کردیا ہے۔ جس طرح سے دہشت گردوں کی بیخ کنی کیلئے سخت ترین اقدامات کئے جارہے ہیںوہ قابل تحسین ہے۔ 28فروری کو جیسے ہی وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے لاہور میں پی ایس ایل کا فائنل کروانے کا اعلان کیا پورے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ پہلا موقع تھا جب ملک کی تمام سیاسی قیادت اس فیصلے کی حمایت کررہی تھی جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حسب روایت مخالفت برائے مخالفت کی روش پر رہتے ہوئے اسے پاگل پن قرار دیا۔ جیسے ہی عمران خان کا یہ بیان سامنے آیا تو ملک کا بچہ بچہ انکی سیاست اورذہنی حالت پر حیران بلکہ ہکا بکا رہ گیا۔ تحریک انصاف کا کوئی نچلے درجے کا بھی رہنما تو چھوڑیںکوئی کارکن بھی عمران خان کے اس بیان کی حمایت کرنے پر تیا ر نہیں بلکہ منہ چھپاتا پھر رہا ہے۔ ہر طرف یہی کہا جارہا ہے کہ عمران خان کی سوچ کھوکھلی ہوچکی ہےاور وہ ہر بیان بغیر سوچے سمجھے جاری کئےجاتے ہیں اور بعد ازاں یو ٹرن لے لیتے ہیںوہ یہ سمجھتے ہیں کہ یوٹرن لینے سے انھیںکوئی سیاسی نقصان نہیں ہوسکتا تو یہ انکی خام خیالی ہے۔ گزشتہ سات سالوں میں انھوں نے جتنے یوٹرن لئے ہیں کہ سیاسی ڈکشنری میں ان کیلئے یوٹرن خان کا نام داخل ہوگیا گوگل کریں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ تو ماسٹر آف یو ٹرن ہیں۔ کرکٹر ہونے کے باوجود انھوں نے پہلے فائنل لاہور میں کروانے کا بیان دیا اور بعد میں اسے پاگل پن قرار دیدیا۔ یہ بیانات دیکرعمران خان نے بہر حال یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کی سوچ انفرادیت پسند ی پر مبنی ہے اور اس کا ملکی فلاح اور اجتماعی امیج سازی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہر جلسے میں حکومت کو ہدف تنقید بنانے والے عمران خان کی جماعت خیبر پختونخوا میںایک بھی ایسا منصوبہ نہیں بنا سکی جس کو اپنے پروفائل میں فخریہ طور پر پیش کر سکے۔ اپنے دور حکومت میںوہ اور کچھ تو کر نہیں سکے البتہ دو ذاتی کینسر اسپتال بنانے کی بنیاد ضرور رکھ چکے ہیں۔ یہ ہے انکا طرزسیاست جسے عوام جان اور سمجھ چکے ہیں اور اگلے انتخابات میں اس کا ضرور جواب دیں گے۔
ان کے اسپتالوں کی اصل صورتحال کیا ہے اس پر بات کسی اور دن ہو گی۔ جس پولیس نظام اور آن لائن ایف آئی آر اور فرنٹ ڈیسک کا پروپیگنڈا وہ کرتے رہتے ہیںاس کا سافٹ وئیر آئی جی خیبر پختونخوا نے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ سے بلا معاوضہ لیا تھا اور پنجاب ماڈل کی کاپی کرتے ہوئے کے پی میں فرنٹ ڈیسک آفس بنائے گئے ہیں۔ بات کہاں سے کہاںنکل گئی دوبارہ پی ایس ایل کی طرف چلتے ہیں۔ پنجاب میں ڈینگی کے موذی مرض پر قابو پانے والے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف پاکستان سپر لیگ کو محفوظ اور یادگار بنانے کیلئے تما م عسکری اور قانون نافظ کرنے والے اداروںکے ساتھ مل کر فول پروف سیکورٹی کو یقینی بنانے کی راہ پر گامزن ہیں۔ قانون نافظ کرنے والے اداروں کی ڈیوٹی توپی ایس ایل شروع ہونے کے بعد سے ہی شروع ہوگئی تھی ابتدائی انتظامات تو پہلے ہی مکمل ہوچکے تھے لیکن وزیر اعظم کے اعلان کے بعدتمام ادارےاس میچ کی سیکورٹی کیلئے دن رات جدوجہد کررہے ہیں میچ کیلئے سات ہزار سیکورٹی اہلکار تعینات کردئیے گئے ہیں کیونکہ مجموعی طور پر 14ہزار جوان ریڈ الرٹ رہیںگے۔ جو اس عظیم قومی مقصد کی تکمیل میں فرائض سر انجام دیں گے۔ اسٹیڈیم میں داخلہ میچ شروع ہونے سے تین گھنٹے پہلے شروع ہوجائیگا۔ جنرل انکلوژر میں داخلہ کیلئے عوام کی انٹری فیروز پور روڈ سے ہوگی جبکہ وی آئی پی داخلہ گلبرگ گیٹ سے ہوگا۔ مجھے تو قوی یقین ہے کہ پاکستان کی کرکٹ کے مالک نہ وزیر اعظم ہیں اور نہ ہی نجم سیٹھی کوئی شیخی بگھارنے کیلئے یہ فائنل پاکستان کروانے کیلئے بضد ہیں۔ پاکستان میں کرکٹ کی بحالی ریاستی فریضہ ہے۔ اتوار کو ہونے والا فائنل میچ پاکستان میںانٹرنیشنل کرکٹ کو دوبارہ واپس لانے اور اس کھیل کو زندہ و جاوید کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اسلئے اس کو کامیاب بنانے کیلئے ہم سب پاکستانیوں کو ذمہ دار اکائیوں کی طرح اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ عوام کو چاہئے کہ وہ اہلکاروں سے بھرپور تعاون کریں اور موبائل فون، سگریٹ، ماچس، بیٹری اور لائٹ نہ لائیں۔ شناختی کارڈ ہمراہ رکھیں۔ عوام یہ یاد رکھیں کہ عام حالات نہیں ہیں خاص حالات میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور سیکورٹی اہلکاروں سے تعاون کریں اور قانون کی خلاف ورزی نہ کریں۔ خدا کی رحمتیں ہمیشہ وطن عزیز کو اپنے رحمت کے گھیرے میں لئے رکھیں اور ان کا نزول تا قیامت رہے۔

.