Editorial Note - تاتارستان کے صدر کا دورۂ پاکستان - column - 2017-03-20
| |
Home Page
منگل 02 شوال المکرم 1438ھ 27 جون 2017ء
ادارتی نوٹ
March 20, 2017 | 12:00 am
تاتارستان کے صدر کا دورۂ پاکستان

Tataistan Ke Sadar Ka Daura Pakistan

جمہوریہ تاتارستان اور پاکستان کے مابین کئی دہائیوں سے معاشی تعلقات موجود ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان بارٹر سسٹم کے ذریعے بھی تجارت ہوتی رہی ہے ۔ہفتے کے روز تاتارستان کے صدر پاکستان کے ایک روزہ دورے پر آئے ۔ اس موقع پر پنجاب حکومت اور تاتارستان کے درمیان متعدد شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لئے مشترکہ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جبکہ ’’پنجاب تاتارستان بزنس فورم‘‘ سے خطاب میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے تاتارستان کے سرمایہ کاروں کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں مضبوط انفراسٹرکچر اورسرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ تاتارستان کے سرمایہ کار آگے بڑھیں اور یہاں سرمایہ کاری کریں۔ سی پیک کے عظیم الشان منصوبے سے رشین فیڈریشن اور تاتارستان کے ساتھ پاکستان کے معاشی و تجارتی رابطوں میں اضافہ ہوسکتاہے۔ تاتارستان کے صدر رستم مینیخانوو نے اپنے خطاب میں تاتارستان اور پاکستان کے مابین معاشی تعلقات کو مزیدفروغ دینے پر زور دیا۔ تاتارستان تجارتی ایجنسی کی سربراہ طالیہ مینولینا نے تاتارستان اور پنجاب حکومت کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات پر گفتگو کی جبکہ ایوان صنعت و تجارت لاہور اور تاتارستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مابین دو طرفہ تعاون کے معاہدے پردستخط ہوئے۔ بعدازاں وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی جانب سے حضوری باغ میں تاتارستا ن کے صدر رستم مینیخانوو اور ان کے وفد کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا جہاں پنجاب حکومت اور رشین فیڈریشن کی جمہوریہ تاتارستان کے درمیان مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کیلئے معاہدے پر دستخط کئے گئے۔ خطے کے تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا کلیدی نکتہ ہے اورصدر رستم مینیخانوو کے دورۂ پاکستان سے امید کی جا سکتی ہے کہ اس سے نہ صرف پاکستان اور تاتارستان کے مابین تجارتی و معاشی تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا بلکہ پورے خطے کی معاشی اور اقتصادی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

.