| |
Home Page
منگل23 ربیع الاوّل 1439ھ 12 دسمبر2017ء
منصور آفاق
March 20, 2017 | 12:00 am
ایوان اقبال میں شورِ انقلاب

Aiwan E Iqbal Men Shoor Inqilab

میں اذان پر جاگاتو کنارِچشمہ ء ارمغانِ حجاز دیرتک علامہ اقبال سے گفتگو کرتا رہاجب اقبال نے کہاکہ’’فلسفی کوسچائی جاننے کی کوئی ضرورت نہیں اسے ان مسائل کا حل تلاش کرنا چاہئے جو انسانی زندگی کو درپیش ہیں‘‘تو میں اٹھ کھڑا ہوااورفلسفہ ٔ اقبال پر لکھی ہوئی تمام کتابیں میانوالی کی مونسپل کمیٹی کی لائبریری میں دے آیا۔جہاں اس سے پہلے بھی انقلاب کے کئی فلسفے منشی سیف اللہ نے بھاری بھرکم تالوں میں رکھے ہوئے تھے میں ان الماریوں کے عقوبت خانوں میں زیادہ دیر نہ ٹھہر سکا۔مجھے معلوم ہو چکا تھا کہ فلسفی سچائی کی تلاش میں نکلا ہوا سائنس دان نہیں ہوتا۔میں نے اقبال سے پوچھ لیا تھا کہ پاکستان میں تبدیلی کیسے ممکن ہے۔ انقلاب کیسے آسکتا ہےمگرسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ لوگ جنہیں یہ ملک اطلس و کمخواب کے ملبوس پہناتے پہناتے خود برہنہ ہو گیا ہے۔جن کی الماریوں میں سونے کی سلیں رکھتے رکھتے اس کی اپنی تجوریاں سنسان ہوگئی ہیں۔جن کی جھولیاں بھرتے بھرتے خود اس کی اپنی جھولی خالی ہوگئی ہے۔جن کالے بوٹوں کی ایڑی کی ایک ایک قوس پر اس دھرتی نے کئی کئی کروڑ ڈالروار دئیے ہیں۔وہ تو ربڑ کے بنے ہوئے لوگ ہیں۔ٹوٹتے نہیں ہیں۔کبھی سکڑ جاتے ہیں اور کبھی کھچ کر بڑے ہوجاتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ کل خود شہباز شریف ہی پاکستان کے ایک بڑے انقلابی لیڈر نہ بن جائیں۔وہ ایوان ِ انقلاب میں اکثر اوقات انقلاب کی وعیدیں سناتے رہتے ہیں۔ ان کے اندر کہیں ایک سوشلسٹ مو جود ہے لوگوں کو معلوم ہے کہ پنجاب حکومت ان کے پاس ہے اگر واقعی وہ کوئی انقلابی تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو پنجاب میں اس کا علمی مظاہرہ کیوں نہیں کرتے مگریہ اقبال کے انقلاب کو روکنے والے ہیں بڑے چالاک۔۔۔ہمارا واسطہ شیر کے روپ میں حکمرانیٔ روباہ سے پڑا ہوا ہے۔لہو لگا کر شہیدوں میں شامل ہونے کا فن انہیں خوب آتا ہے لیکن اب یہ بات بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کہ پاکستان کو صرف انقلابِ اقبال کی لہو سے لتھڑی ہوئی شفق کی جھیلیں ہی صبح سے ہمکنار کرسکتی ہے۔یہ لال شفق کی جھیلیں سرمایہ دارانہ نظام کے قتل سے نمو دار ہوتی ہیں۔جاگیر داری کی قبر سے نکلتی ہیں اور ملائیت کی راکھ سے جنم لیتی ہیں۔سرمایہ دار جنہیں اقبال نے فرزندِ ابلیس کہا۔تری حریف ہے یارب سیاست افرنگ… مگر ہیں اس کے پجاری فقط امیر و رئیس…بنایا ایک ہی ابلیس آگ سے تُونے…بنائے خاک سے اس نے دوصد ہزار ابلیس
زرداریوں جیسے امیروں اورشریفوں جیسے رئیسوں کا شمار انہی دو صد ہزار میں ہوتا ہے۔خداوند قدوس نے نظام زر کے انہی نگہبانوں کو شداد اور قارون کے نام سے یاد کیاہے۔ شداد اور قارون کی تباہی کے پریڈ میں اقبالیات کی کلاس میں داخل ہواتو وہاں مسئلہ ملکیتِ زمین چھیڑا ہوا تھا۔اقبال لغاریوں، مزاریوں، بھٹوئوں، جتوئیوں اورپگاڑوں سے پوچھ رہے تھے
پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون۔۔۔۔کون دریاؤں کی موجوں سے اٹھا تا ہے سحاب
کون لایا کھینچ کر پچھم سے بادِ سازگار…خاک یہ کس کی ہے کس کا ہے یہ نورِ آفتاب
کس نے بھر دی موتیوں سے خوشۂ گندم کی جیب… موسموں کو کس نے سکھلائی ہے خُوئے انقلاب
اور پھرنواب آف کالاباغ کو مخاطب ہو کر کہتے ہیں
دہ خدایا یہ زمیں تیری نہیں تیری نہیں۔۔۔تیرے آباء کی نہیں تیری نہیں میری نہیں
اقبال نے اس نظم کا سرنامہ بھی الارض للہ رکھا ہے۔ الارض للہ قرآن حکیم کی ایک اصطلاح ہے جس کا مفہوم ہے
کہ زمین اللہ کی ہے اور تمام مخلوق کے لئے برابر ہے۔
پک کے تیار جوہوتی ہیں کنواری فصلیں ان کو زردار پہ ہی وار دیا جاتا ہے
جس نے کھیتوں کو پلایا تھا لہو چھاتی کا جیسے کتا ہے کہ دھتکار دیا جاتا ہے
انقلابِ اقبال کی تیسری کرن ملائیت کی راکھ سے نکلتی ہے۔بعض دینی مراکزکی فیکٹریوں میں بنانے جانے والے روبوٹس کے متعلق اقبال کو یقین ہے کہ ان کی آنکھیں نہیں بنائی جاتیں، یہ لوگ پیدائشی اندھے ہوتے ہیں اور قران حکیم کے اسرار ورموز،سورج کی زرتار شعاعوں کی طرح ہیں سومولوی کا دین، دینِ محمدنہیں رہتا فساد فی سبیل اللہ بن جاتا ہے۔
اقبال فرماتے ہیں۔۔مکتب و ملا واسرارِ کتاب۔۔کورِ مادر زاد و نورِ آفتاب
دینِ کافر، فکر و تدبیرو جہاد…دینِ ملافی سبیل اللہ فساد…اور پاکستان پچھلی تین دہائیوں سے اسی فسادِ فی سبیل اللہ کے نرغے میں ہے۔دینِ مصطفیٰ ؐکے نام پر ظلم و بربریت کی داستان لکھی جارہی ہے۔کئی مذہبی پیشواچند ٹکڑوں کیلئے فتوی بھی جڑتے ہیں قبائے زہدو تقوی میں کئی شیطان بستے ہیں
یہاں روحیں بھی بکتی ہیں بدن کے بھاؤپڑتے ہیں یہاں انسان سستے ہیں یہاں ایماں سستے ہیں
یہ کاروبارِ دینِ مصطفیٰ ؐ کے دیکھ نظارے یہ پاکستان ہے پیارے یہ پاکستان ہے پیارے
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی تبدیلی آئی تو اس کے بعد کونسا نظام ہو گا اس سلسلے میں علامہ اقبال نے اپنے خطبات میں فرمایاہے کہ حریتِ سا لمیت اور مساوات کی حقیقی اقدار کواز سر نو زندہ کیا جائے اور
ان کی روشنی میں اخلاقی معاشی، سیاسی نظام کی نئی تشکیل کی جائے جو حقیقی اسلام کی سادگی اور افادیت کی آئینہ دار ہو۔سو ہمیں اسلام کے تنا ظر میں ایک نئے سیاسی، معاشی اور اخلاقی نظام کو تشکیل دینا ہوگااور اگر تبدیلی لانے والے یہ کام نہ کر سکے توپھر اسی بات کو درست سمجھ لیا جائے کہ ’’ہاں یہ اقبال کا پاکستان نہیں‘‘۔

.