| |
Home Page
ہفتہ 30 محرم الحرام 1439ھ 21 اکتوبر 2017ء
پرو فیسر سید اسرار بخاری
March 20, 2017 | 12:00 am
سر رہ گزر

Sar E Rehguzar

پنجاب، تاتارستان کے درمیان تعاون
وزیر اعلیٰ پنجاب اور تاتارستان کے صدر کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لئے مشترکہ کمیٹی قائم، ایک زمانہ تھا کہ تاتاریوں نے بغداد کو تار تار کر دیا تھا تب ان کا سربراہ ہلاکو خان تھا، اگر بغداد میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ہوتے تو ہلاکو باہمی تعاون کے معاہدے پر دستخط کر کے پُر امن طریقے سے واپس چلا جاتا مگر افسوس کہ تب خاندان شریفاں کا وجود نہ تھا، ورنہ آج دنیا کا منظر ہی کچھ اور ہوتا بیت الحکمت جیسا خزانہ علم دجلہ کی نذر نہ ہوتا، اور عالم اسلام ہی واحد سپر پاور ہوتا، خدا کی شان دیکھیں کہ بغداد کے نا اہل حکمرانوں کو اپنے کئے کی سزا مل گئی اور بعد میں ہلاکو و چنگیز کی اولاد کو جب اسلام کا پیوند لگا تو عظیم مغلیہ سلطنت وجود میں آئی اور ایک ہزار سال ہندوستان پر وج گج کے حکومت کی، ممکن ہے تب شہباز شریف کے آبائو اجداد بھی مغلوں کی رعایا میں شامل ہوں، اور آج وقت نے ایسی کروٹ لے لی کہ تاتارستان کے صدر رستم اور شہباز پنجاب ایک مقامی ہوٹل میں مصافحہ کرتے نظر آئے، ماورا النہر کے تمام علاقے مردم خیز تھے مگر ان میں تاتاری بھی پیدا ہوئے، اور انہوں نے اپنی فیلڈ میں کھوپڑیوں کے مینار کھڑے کر دیئے، اسلام دین فطرت ہے، تاتاری مسلمان ہو گئے، اور آج شہباز شریف کے ساتھ ہریسہ کھا رہے ہیں، وزیر اعلیٰ پنجاب اپنے صوبے کی بہبود کے لئے کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، تاتارستان کا کئی پاکستانیوں نے نام نہیں سنا ہو گا لیکن پہنچ دیکھئے وزیر اعلیٰ پنجاب کی کہ تاتاری صدر کو بھی کھینچ لائے، اور باہمی تعاون کا پہچان باندھ لیا، ہلاکو خان کی روح کو قدرے تکلیف تو ہوئی ہو گی، اور ممکن ہے پچھتایا ہو کہ وہ بھی بغداد سے باہمی تعاون کا کوئی معاہدہ طے کر کے لوٹ آتا، یا کلمہ ہی پڑھ لیتا، مگر وہ بھی کیا کرتا نا اہلی ہر دور میں کسی ہلاکو کو دعوت تباہی دیتی ہے، ہم وزیر اعلیٰ پنجاب کو مان گئے کہ وہ پنجاب کی خوشحالی کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں، یہ سارا قصور خوشحالی کا ہے، کہ تاتارستان کا صدر آ گیا خوشحالی نہ آئی۔
٭٭٭٭
کھسیانا کھتری کنٹرول لائن نوچ
کنٹرول لائن پر بھارتی فائرنگ، عورت شہید، پاکستان کا بھرپور جواب، جب سے پاکستان ایٹمی قوت بنا ہے، دونوں جانب سے کمزور سوال اور بھرپور جواب کا سلسلہ کنٹرول لائن پر شروع ہے، اور بنیا کرے بھی کیا کہ اس نے اپنی ہٹی بھی چالو رکھنی ہے، اور چاہتا ہے کہ کوئی گاہک پاکستان نہ چلا جائے، مگر پاکستان آگے بڑھ رہا ہے، اور بھارت اپنے ہی فوجیوں کی زبانی بیچ چوراہے کے بھی عریاں نکلا، بھارت کو اس بات کا خوف دامن گیر ہونا چاہئے کہ؎
تھوڑے تھوڑے بکھدے آں
کدی بھانبھڑ مچ ویسی
مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی ’’اخیر‘‘ کرنے کے باوجود بھارتی نیتائوں کو کامیابی نہیں مل رہی اس لئے تنگ آ کر کنٹرول لائن نوچنے لگتا ہے، یہ جو منہ توڑ جواب ملتا ہے اس کا آخری نتیجہ یہ ہو گا کہ ایک روز یہ چوری چھپے کا وار کرنے سے بھی بھارتی فوجی انکار کر دیں گے اس لئے کہ ہر بار بھارتی فوجی گھرانوں میں یتیموں بیوائوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے، جو بھی رات کے اندھیرے میں فائرنگ کرتے ہیں صبح کے اجالے میں ترنگے سمیت زمین پر ہمیشہ کے لئے لیٹے دکھائی دیتے ہیں، اور یوں کنٹرول لائن پر مسلسل فائرنگ کر کے بھارت اپنی فوج کی خاندانی منصوبہ بندی کر رہا ہے، یہ نہ ہو کہ ہتھیاروں کے ڈھیر رہ جائیں، ہتھیار اٹھانے والی کوئی ویر سپاہی نہ ہو، کنٹرول لائن پر زیادہ تر بھارت اپنے نچلے رینکوں کے فوجی کٹواتا ہے، اور مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق جن کو پہلے ہی روٹی پوری نہیں ملتی وہ پاک فوج کی گولیاں پہنچنے اور لگنے سے پہلے آنجہانی ہو چکے ہوتے ہیں، کیونکہ اعلیٰ افسران تو گلچھڑے اڑاتے ہیں اور نچلے درجے کے بھارتی فوجیوں کا یہ حال پورا کھانا نہ ملنے کے باعث کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔
٭٭٭٭
سوشل میڈیا محبت کا دشمن!
بھارت:نوجوان جوڑے کو سڑک کے بیچ اظہار محبت مہنگا پڑ گیا، قصہ یہ ہے کہ نوجوان عاشق اپنی محبوبہ کے گھٹنوں میں بیٹھ گیا، اور پھر دونوں گلے لگے، موجود عوام نے سراہا اور دونوں اپنے اپنے گھر چلے گئے، کوئی تھا جو اس منظر کی وڈیو بنا رہا تھا، اور اس نے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی جو وائرل ہو گئی، محبت کرنے والوں میں اکثر عقل استعمال نہیں کی جاتی کیونکہ عشق میں جنوں ہی کام آتا ہے، مگر اس کا محفوظ استعمال کسی کسی عاشق کو آتا ہے، سڑک کے بیچ دھرنوں کا کیا انجام ہوا اسی طرح بیچ سڑک پیار کی بیل کیسے منڈے چڑھ سکتی ہے، جس بھارتی نے چھپ کر دو پیار کرنے والوں کی وڈیو بنا کر اپ لوڈ کی اچھا نہیں کیا، ظاہر ہے ایسے مناظر جنگل کی آگ بن کر وائرل ہو جاتے ہیں، اور یوں پیار کے امکانات محدود، ایسے مناظر پر پردہ ڈالنا ہی بہتر ہوتا ہے، کیونکہ جب پیار کھلم کھلا ہو اور ہر نوجوان لڑکا لڑکی اس کی وڈیو بار بار دیکھے گا تو پھر اس کے خلاف حق کی آواز کیسے چپ رہ سکتی ہے، ماں باپ کو جونہی علم ہوتا ہے وہ اسے فوجداری کیس بنا کر اپنی کارروائی شروع کر دیتے ہیں، اس طرح دشمنی کو فروغ اور دوستی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے اس طرح کے واقعات کہیںبھی ہو سکتے ہیں، مغرب، یورپ میں تو یہ معمولات زندگی میں شامل ہیں کیونکہ وہ محبت کرتے نہیں فقط دکھاتے ہیں، مگر برصغیر کا مزاج ہی جداگانہ ہے، یہاں محبت نام ہی چوری کا ہے، اور چوری چوری پیار کرنے ہی میں یہاں کے عشاق کو ثواب یا عذاب ملتا ہے، ریشماں نے سچ ہی تو کہا تھا؎
وے میں چوری چوری
تیرے نال لالئیاں اکھاں
وے میں چوری چوری
ایک پیار بچا تھا، وہ بھی وائرل ہو گیا اب اس کی ویکسین کہاں سے لائیں؟
٭٭٭٭
پاک چین دوستی امر ہو گئی!
....Oمشرف کو ملک چھوڑے ایک سال ہو گیا،
سب کہہ رہے ہیں
آ جا تینوں اکھیاں اڈیکدیاں دل واجاں مار دا
....Oحقانی کے بیان پر 3آپشنز
اور اب ہمیں چبانے کو حقانی ہاتھ آ گئے ہیں چلو حکومت کا کچھ ٹائم تو اس طرح پاس ہو جائے گا، میڈیا ٹائم پاس خبریں دیتا ہے اور حکمرانوں کی آٹے کی ناک سیدھی ہو جاتی ہے۔ حقانی مضمون چبانے سے سنا ہے پیٹ کے پرانے مرض بھی جاتے رہتے ہیں، ہاضمہ تیز ہو جاتا ہے۔
....Oپاکستان امریکہ سے دور چین سے قریب، دور کرنے کی کوششیں ناکام، کسی زمانے میں پاک امریکہ تعلقات کی شہرت تھی، اب پاک چین دوستی سمندر سے گہری اور آسمان سے اونچی ہو گئی ہے، امریکہ کی کوئی آبدوز اس تک پہنچ سکتی ہے نہ کوئی ڈرون!

.