پنجاب اور سندھ کیلئے احتساب کے الگ پیمانے کیوں،شرجیل میمن، رویہ نہ بدلا تو وفاق اداروں کا بوریا بستر گول کردینگے، وزیراعلیٰ سندھ
| |
Home Page
اتوار 29 رمضان المبارک 1438ھ 25 جون 2017ء
March 20, 2017 | 12:00 am
پنجاب اور سندھ کیلئے احتساب کے الگ پیمانے کیوں،شرجیل میمن، رویہ نہ بدلا تو وفاق اداروں کا بوریا بستر گول کردینگے، وزیراعلیٰ سندھ

Todays Print

اسلام آباد(ایجنسیاں)پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما و سابق وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن نے خودپر لگائے کرپشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں بھاگنے والانہیں‘ تمام جھوٹے الزامات کا سامنا کرنے پاکستان آیا ہوں ٗاگرمیرے گھر سے دو ارب روپے برآمد ہوئے تو کہاں ہیں؟ کس ادارے کے پاس ہیں؟جرم ثابت ہوجائے توبیشک مجھے پھانسی پر چڑھا دیں ‘رحم کی اپیل بھی نہیں کروں گا‘ نیب صرف سندھ اورپیپلزپارٹی کیلئے بنا ہے ٗ مجھے گرفتار نہیں اغواء کیا گیا ٗ کیا پاکستان میں جنگل کا قانون ہے؟میری گرفتاری سے شاید نیب والوں کا کلیجہ ٹھنڈاہوگیا‘اللہ انہیں خوش رکھے ‘ پاکستان میں ہر شخص کیلئے الگ قانون ہے ٗپاناما کیلئے الگ اور پیپلز پارٹی کیلئے الگ قانون ہے‘ پنجاب اور سندھ کیلئے احتساب کے الگ الگ پیمانے کیوںہیں‘ نیب نے سب کارروائیاں سندھ میں کیں‘کیا پنجاب پاکستان میں نہیں آتا‘نیب کی کیا مجال کہ پنجاب میں گھس کر دکھائے ‘ پیپلز پارٹی کے لوگوں کا احتساب تو کیا جاتا ہے مگر شریف فیملی کیخلاف کیوں ایکشن نہیں لیا جاتا‘ میرا نام ای سی ایل میں پہلے ڈالا گیا ‘ ریفرنس بعد میں بنایا گیا‘ اگر میرا نام بغیر کسی نوٹس کے ای سی ایل میں ڈالا جا سکتا ہے تو پاناما کیس میں شریف خاندان کانام ای سی ایل میں  کیوںنہیں ڈالاجاتا‘ چیئرمین نیب میں ہمت ہے تو وزیراعظم کا نام ای سی ایل میں ڈالیں‘نواز شریف اور چوہدری نثار کی نگری میں آیا ہوں ان کی مہمان نوازی کاشکریہ ۔ وہ اتوار کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ قبل ازیں شرجیل میمن کو ہفتہ اتوارکی درمیانی شب دبئی سے وطن واپسی پر نیب نے اسلام آباد ایئر پور ٹ پر حراست میں لیا تاہم ضمانتی دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا‘اپنی رہائی کے بعد شرجیل میمن نے سب سے پہلے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور اہل خانہ سے فون پر گفتگو کی اورصورتحال سے آگاہ کیا‘ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ نے ان کی خیریت دریافت کی ۔دریں اثناءاپنے ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا ہے کہ وطن واپس آکر بہت خوش ہوں‘آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوں گا۔پریس کانفرنس میں شرجیل میمن کا کہناتھاکہ ملک میں دوقانون ہیں‘شریف برادران سمیت میگااسکینڈل والوں کے نام ای سی ایل میں نہیں  ڈالے گئے‘ 2015ءمیں اس وقت کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کی اجازت سے علاج کیلئےبیرون ملک گیا تھا ‘پھر اچانک میرا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں بغیرنوٹیفکیشن کے ڈال دیاگیا‘کسی محکمے نے مجھے نوٹس نہیں بھیجا نہ یہ بتایا کہ میرے خلاف انکوائری ہورہی ہے‘نیب نے اکتوبر 2016ءمیں میرے خلاف ریفرنس بنایا جس پر میں نے پہلی عبوری ضمانت حاصل کی‘ڈاکٹروں نے مجھے سفر کی اجازت نہیں دی اس لئے لندن میں رہا‘مجھ پر الزامات لگائے جا رہے ہیں اس لئے اپنی صحت کی پروا کئے بغیر تمام کیسز کا سامنا کرنے واپس پاکستان آیا ہوں‘ میں دوبئی میں تھا تو ایک روز خبر چلی کہ میرے گھر پر چھاپہ پڑا اور 2 ارب روپے برآمد ہوئے ہیں جس ٹی وی نے خبر چلائی اس کو نوٹس دیا پھر پیمرا کو درخواست دی مگر اس غلط خبر کا کسی نے کوئی نوٹس نہیں لیا‘میں نے سب کچھ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا ہے‘ اللہ تعالیٰ کے بعد عدلیہ پر اعتماد ہے‘پیپلز پارٹی سے تعلق ہے اس لئے قانون ہمارے لئے مختلف ہے‘نیب کے ریفرنس میں جو الزامات لگائے گئے ہیں ان میں اشتہاروں کا ریٹ زیادہ ہونے کا الزام ہے اور جو طریقہ کار وضع کیا گیا ہے اس کو فالو نہ کرنے کا بھی الزام ہے‘ شرجیل میمن نے کہا کہ اخباروں کے ریٹس وفاقی حکومت طے کرتی ہے ٹی وی چینلز کے ریٹس ابھی تک وفاق نے طے نہیں کئے آج بھی وفاق کے اخباروں کے ریٹ ہمارے دور کے ریٹ سے زیادہ ہیں‘انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں نیب نے میگا کرپشن کیسز کی فہرست جمع کروائی جس میں نوا زشریف ‘ شہباز شریف ‘ اسحاق ڈار اور پنجاب کے لوگوں کے نام تھے مگر ان کے نام ای سی ایل میں نہیں ڈالے گئے‘ رانا مشہور کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا گیا‘ ریفرنس فائل ہونے سے پہلے میرا نام ای سی ایل میں کیسے ڈالا گیا‘اگر میرا نام ڈالا گیا ہے تو وزیر اعظم سمیت ان کے پورے خاندان کے نام پاناما کیس کے حوالے سے ای سی ایل میں ڈالے جائیں‘گزشتہ رات جب جہاز سے اترا تو سادہ کپڑوں میں 8 سے 10 لوگ آ گئے اور میرے ساتھ بد سلوکی شروع کر دی‘میں نے ان سے پوچھا آپ کون ہیں تو انہوں نے کچھ نہیں بتایا‘ مجھے پہلے ایک پھر دوسری گاڑ ی میں بٹھایاگیا‘میں اسے گرفتاری نہیں اغواءکہوں گا‘ اگر کل میری ضمانت میں توسیع ہو جاتی ہے تو روزانہ نیب دفتر جاؤں گا اور کیس میں شامل تفتیش ہوں گا‘ نیب نے مجھے گرفتار کرکے توہین عدالت کی‘ایک سوال کے جواب میں سابق صوبائی وزیر نے کہا کہ اگر میں کراچی لینڈ کرتا تو زیادہ الزامات لگتے کیونکہ وہاں صوبے میں ہماری حکومت ہے۔ قبل ازیں پیپلزپارٹی کے رہنما کو دبئی سے وطن واپسی پر اسلام آباد ایئر پورٹ پر نیب اہل کار وں نے حراست میں لیاتھا‘اس دوران ہاتھا پائی بھی ہوئی‘شرجیل میمن کو نیب کرائم ونگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر سمیت 6 اہلکار ساتھ لے گئے‘نیب ذرائع کے مطابق شرجیل میمن کو گرفتار نہیں کیا گیا صرف پوچھ گچھ کیلئے لے جا یا گیا ۔