| |
Home Page
بدھ 30 ذیقعدہ 1438ھ 23 اگست 2017ء
March 20, 2017 | 12:00 am
آبی مذاکرات بحال، بھارتی وفد پاکستان پہنچ گیا

Todays Print

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان اور بھارت کے تعطل کا شکار ہونے والے مذاکرات بحال ہوگئے ہیں اوردونوں ملکوں کے درمیان آبی تنازع پر دو روزہ مذاکرات کیلئے بھارتی وفد اتوار کو براستہ واہگہ بارڈر لاہور سے اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔ سندھ طاس کمیشن کا اجلاس جو آج (پیر) کو اسلام آباد میں ہو رہا ہے اس میں شرکت کیلئے بھارت کے 10 رکنی وفد کی قیادت بھارت کے انڈس واٹر کمشنر پی کے سکسینا کر رہے جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت انڈس واٹر کمشنر مرزا آصف بیگ کرینگے۔ مذاکرات میں دریائے چناب پر بننے والے تین متنازع  منصوبے زیر بحث آ ئینگے۔دونوں ملکوں کے درمیان شیڈوکل کے مطابق طے شدہ بھارت کی جانب سے اس وقت منسوخ کر دیئے گئے تھے جب مقبوضہ کشمیر میں ستمبر2016 میں ہونے والے دہشت گردی کے ایک حملے میں بھارتی سکیورٹی کے 19 اہلکار مارے گئے تھے اور بھارت کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس حملے میں حصہ لینے والے دہشت گرد پاکستان سے آئے تھے اس الزام کی بنیاد پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کے تحت ہونے والے مذاکرات کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جبکہ بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ 1960 میں ہونے والے 57سالہ اس معاہدے کو ختم کرنے کی بھی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان پانی کے تنازعے پر یہ 113 ویں مذاکرات ہونگے ان مذاکرات میں دریائے چناب پر بننے والے تین منصوبے زیر بحث آنے کا امکان ہے جن کی حیثیت متنازعہ ہے ان میں مایار ڈیم، لوئر کلنائی ڈیم اور پاکل دل ڈیم شامل ہے اس کے علاوہ انڈیا کی طرف سے پاکستان کی جانب چھوڑے جانے والا بارش کا پانی اور اس کی صحیح مقدار اور معلومات پر بھی بات چیت ہوگی جبکہ فریقین متنازع امور کے حل کیلئے ثالثی کے قیام پر بھی بات چیت کرسکتے ہیں کم وبیش دو سال کے بعد ہونے والے ان مذاکرات میں پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر ان منصوبوں کی تفصیلات بھی طلب کرینگے اور اسکے بعد ہی اپنے موقف کا اظہار کرینگے۔ یاد رہے کہ انڈیا کی طرف سے دریائے نیلم کے پانی پر 330میگاواٹ، کشن گنگا اور دریائے چناب کے پانی پر 850 میگاواٹ رتلے پن بجلی منصوبے تعمیر کر رہا ہے ان دونوں منصوبوں پر پاکستان نے اعتر اضا ت اٹھائے ہیں اور ان منصوبوں پر پاکستان کی طرف سے ورلڈ بینک کو ثالثی کرنے کیلئے بھی رجوع کیا جاچکا ہے۔