علماء پارلیمانی رویہ اپنائیں،مخالف ثابت کریں بندوق سےا سلامی نظام نافذ ہوجائے گا، فضل الرحمٰن
| |
Home Page
اتوار 29 رمضان المبارک 1438ھ 25 جون 2017ء
March 20, 2017 | 12:00 am
علماء پارلیمانی رویہ اپنائیں،مخالف ثابت کریں بندوق سےا سلامی نظام نافذ ہوجائے گا، فضل الرحمٰن

Todays Print

 فیصل آباد(نیوز ایجنسیاں)جمعیت علما ءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ علماء کو پارلیمانی رویہ اپنانا ہوگا ،ایسا ہوگا تو وہ لوگوں کے مسائل حل کرسکیں گے ورنہ لوگ صرف دم درود کروانے ہی علماء کے پاس آئیں گے، جمہوری اورپارلیمانی سیاست سے اسلامی نظام کیلئے کوششیں کررہے ہیں،مخالف جن کو پارلیمانی جدوجہد پر یقین نہیں وہ ثابت کریں کہ بندوق سے اسلامی نظام نافذ ہوجائیگا، اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان میں ناموس رسالتؐ کاتحفظ نہ کرسکے تو ہمیں جینے کا کوئی حق نہیں۔ فیصل آباد میں علماء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ علماء کو پارلیمانی نظام کو اپنانا ہوگا ایسا ہوگا تو وہ لوگوں کے مسائل حل کرسکیں گے ورنہ لوگ صرف دم درود کروانے ہی علماء کے پاس آئینگے ۔انہوں نے کہاکہ پارلیمانی نظام میں فیصلہ عوام نے کرنا ہوتا ہے ان کا اعتماد حاصل کریں، پارلیمنٹ کی سیاست کرینگے تولوگ اپنی ضرورتوں کیلئے آپ کے پاس آئینگے ہم نے پوری قوم اور امت کی آواز بننا ہے۔انہوں نے کہاکہ مخالف جن کو پارلیمانی جدوجہد پر یقین نہیں وہ ثابت کریں کہ بندوق سے اسلامی نظام نافذ ہوجائیگا۔ مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا ہے کہ تحفظ ختم نبوت ورسالتؐ ہر مسلمان کا عقیدہ ہے ان کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔ مسلمان اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ اپنے تحفظ کیلئے علماکرام کو سیاسی طور پر منظم ہونا ضروری ہے،طاقتور بنیں گے تو مدارس کے چھاپوں سے جان چھوٹے گی ،بنگلہ دیش میں دینی مدارس اور تحریکوں کو اس لئے کچل کر ریاست کو سیکولر قرار دے دیا گیا کہ ان کے پیچھے کوئی سیاسی قوت نہیں تھی۔علماء بچوں کے کان میں اذان، نکاح، جنازہ کی طرح عوام کی انفرادی واجتماعی زندگی میں پبلک کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے سیاست میں حصہ لیں۔ بندوق کے ذریعے اسلامی نظام نہیں آسکتا۔ اسلحہ کی طاقت حاصل کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اسلامی نظام ہی انسانی حقوق کا ضامن ہے۔ فضل الرحمٰن نے بعد ازاں عشائیہ میں صنعتکاروں اور تاجروں کے اجتماعات سے بھی خطاب کیا۔