| |
Home Page
اتوار 27 ذیقعدہ 1438ھ 20 اگست 2017ء
March 20, 2017 | 12:00 am
نیب کے پنجاب اور سندھ میں الگ الگ قوانین ہیں،سینیٹر سعید غنی

Todays Print

کراچی(ٹی وی رپورٹ)پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما سینیٹرسعید غنی نے کہا ہے کہ نیب کا قانون پنجاب میں کچھ اور اور سندھ میں کچھ اور ہے،سپریم کورٹ میں نیب نے ایک لسٹ فراہم کی ہے ، اس فہرست  میں ان لوگوں کے نام شامل ہیں جن پر میگا کرپشن کے چارجز ہیں،اس لسٹ میں میاں نواز شریف ، شہباز شریف اور اسحاق ڈار کے نام بھی شام ہیں ، لیکن ان میں سے کسی کا نام بھی ای سی ایل میں شامل نہیں ہے،یہ امتیاز ہے کہ پی پی پی کیخلاف نیب کا رویہ کچھ اور ہے اور پی ایم ایل ن کے خلاف نیب کا رویہ الگ ہے۔وہ جیو نیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان طلعت حسین کے ساتھ‘ میں میزبان طلعت حسین سے گفتگو کررہے تھے۔پروگرام میں مسلم لیگ ن کے طارق فضل چوہدری اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما شیخ صلاح الدین بھی شریک ہوئے۔ پروگرام میں پنجاب پولیس میں اصلاحات سے متعلق آئی جی پنجاب مشتاق احمد سکھیرا سے خصوصی گفتگو کی گئی۔شیخ صلاح الدین نے کہا کہ فاروق ستار کے اوپر سیاسی مقدمات بنائے گئے ہیں ، 23اگست کو ہم نے پورے پاکستان کیلئے اسٹینڈ لیا ہے اس کے باوجود جو رویہ حکومت سندھ کا ہے اور دیگر اداروں کا ہے وہ آپ کے سامنے ہے ، ہماری رابطہ کمیٹی کے رکن عامر خان اور سینئر رہنما ؤ ں کو جنگی قیدیوں کی عدالت میں پیش کیا جاتا تھا۔طارق فضل چوہدری نے کہا کہ جس شخص کو کرپشن کی بنیاد پر گرفتار کیا جارہا ہو اس کو بھی سندھ اور پنجاب کا معاملہ بنادیا جاتا ہے، نیب کے پاس شرجیل میمن کے خلاف ثبوت موجود ہیں تبھی نیب نے شرجیل میمن کو گرفتار کرنے کی کوشش کی ہے ، شرجیل میمن نے غلط کام نہیں کیا تو کس ڈر سے وہ دو سال سے ملک سے باہر تھے، سیاستدانوں کی کرپشن کو خود سیاستدان ہی بے نقاب کرتا ہے ، کوئی ایک دوسرے کی کرپشن پر پردہ نہیں ڈالتا ، ہمارے اداروں کی کارکردگی پر آوازیں اٹھتی رہی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم ان اداروں کو ختم کردیں ، تمام پارٹیوں کو یہ بات ماننی چاہئے کہ جب بھی کسی کے خلاف کوئی الزام ہو اس کا فیئر ٹرائل ہونا چاہئے ۔آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے کہا کہ پنجاب پولیس کی نفری بڑھانا ایک اہم ایشو ہے ،ہم نے پولیس سسٹم کو ڈیجیٹل کرکے ادارے کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا ہے ، آج پنجاب کے تمام پولیس اسٹیشن آئی ٹی کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں ، اب پنجاب کے پولیس اسٹیشنز میں ایف آئی آر کمپیوٹر پر درج کی جارہی ہیں ، پولیس کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کیا جارہا ہے ، ہم نے مجرمان کے ریکارڈ کو بھی ڈیجیٹل کرنا شروع کردیا ہے اور ساتھ لاکھ کے قریب مجرمان کی مکمل تفصیلات ڈیجیٹل ریکارڈ میں آچکی ہے، عوام کی طرف سے ہمیں شکایات آتی تھیں کہ پولیس اہلکاروں کا رویہ ان کے ساتھ ٹھیک نہیں ہے ، ہم نے اس مسئلے کا تدارک کرتے ہوئے پڑھا لکھا اسٹاف رپورٹ رومز میں تعینات کردیا ہے ، پنجاب پولیس کا سیاسی ہونے کا تاثر اتنا زیادہ نہیں ہے جتنا اسے بتایا جاتا ہے ، ہم پولیس اہلکاروں کی تقرریاں میرٹ پر کررہے ہیں اور تبادلے اور تعیناتیاں بھی میرٹ پر ہورہی ہیں توآہستہ آہستہ آپ دیکھیں گے پولیس کے تمام شعبوں میں تبدیلی آتی جائے گی ۔سینیٹر سعید غنی نے مزید کہا کہ شرجیل میمن کیخلاف ایک عجیب سا کیس ہے ، جب وہ ملک سے باہر گئے تو ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا اور جب ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا تو کوئی ان کے خلاف ریفرنس نہیں ہے اور نہ ان کو کوئی نوٹس ایشو ہوا ہے ، ایسی بھی مثال کم ہی ملے گی کہ کوئی شخص جس کے خلاف نیب نے ریفرنس فائل کردیا ہواور وہ شخص خود پاکستان آرہا ہے کہ میں ان کیسز کا سامنا کرنا چاہتا ہوں ، یہ ساری چیزیں طے ہیں کہ شرجیل میمن پاکستان آئیں گے اور کورٹ میں بھی جائیں گے لیکن جس بھونڈے انداز سے انہیں گرفتار کیا گیا وہ ٹھیک نہیں تھا، نیب کی پنجاب کی طرف نگاہ جاتی بھی نہیں ہے ،اگر ہماری پارٹی کے کسی رکن کے خلاف کسی بھی قسم کے الزامات ہیں تو قانون کے مطابق اس کے خلاف کاروائی کریں لیکن اس ملک میں نیب کا قانون ایک ہی نافذ ہونا چاہئے ، ایف آئی اے نے وفاقی محکموں پرکتنے چھاپے مارے ، کتنے وفاقی افسران کو گرفتار کیا ، ایف آئی اے وفاقی اداروں پر ہاتھ نہیں ڈالتی ، ڈاکٹر فاروق ستار کے اوپر مقدمات ہیں ، اگر وہ مقدمات جھوٹے بھی ہیں تو وہ ان کا سامنا تو کریں ، وہ کورٹ میں پیشی پر نہیں جاتے ، ڈاکٹر فاروق ستار سے سندھ حکومت کو کوئی ذاتی پرخاش نہیں ہے ۔شیخ صلاح الدین نے کہا کہ شرجیل میمن کی جماعت کی سندھ میں حکومت ہے لیکن وہ سندھ میں کیوں نہیںآ ئے ، شرجیل میمن اور فاورق ستار کے مقدمات میں زمین آسمان کا فرق ہے ، اس وقت جیلوں میں ایم کیو ایم کے سات سو کے قریب کارکنان اسیر ہیں ، ان کی ضمانت کیلئے ہمیں ڈیڑھ ارب کے ضمانتی مچلکے جمع کرانا ہوں گے۔ فاروق ستار کے خلاف مقدمہ صرف ایک تقریر سننے کی بنیاد پر بنایا گیا ہے ۔آئی جی پنجاب پولیس مشتاق سکھیرا نے پروگرام میں مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹو گینگ سے نمٹنے کیلئے پنجاب پولیس نے مکمل منصوبہ بندی کی تھی لیکن بدقسمتی سے ہمیں وہاں کامیابی نہیں ملی اور ہمیں پاکستان آرمی کی مدد لینی پڑی ، اس کے باوجود جو چھوٹو گینگ سے منسلک جرائم پیشہ افراد جو آپریشن شروع ہوتے ہی وہاں سے بھاگ گئے تھے ان کو پنجاب پولیس نے ہی گرفت میں لیا ہے ، رینجرز کو پنجاب میں صرف اینٹی ٹیررسٹ آپریشنز کیلئے لایا گیا ہے ، رینجرز نے پنجاب پولیس کے ساتھ مل کر ہی سرچ آپریشنز کیے ہیں، پنجاب پولیس نے اب تک جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ آپ کے سامنے ہیں ، جن ملکوں میں پولیس کو زیادہ وسائل دیے گئے ہیں وہاں پولیس کی کارکردگی بھی اچھی ہے، حکومت ہمیں بہترین وسائل دینے کی کوشش کررہی ہے ، جو وسائل اس وقت ہمارے پاس ہیں اس میں شائد اس سے بھی زیادہ بہترین کارکردگی ممکن نہ ہو ، ہم نے پنجاب پولیس میں ویلفیئر کے حوالے سے جو کام کیے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی ، ہم ریٹائرڈ پولیس اہلکاروں کے بچوں کی تعلیم اور صحت کا خرچہ اپنے ویلفیئر فنڈ سے اٹھا تے ہیں ، جو سپاہی دوران ڈیوٹی فوت ہوجائے اس کیلئے ہمارا ویلفیئر پیکج کا موازنہ دنیا کے کسی بھی بہترین پیکج کے ساتھ موازانہ کرسکتے ہیں ،شہید پولیس اہلکاروں کیلئے حکومت نے دو کروڑ 35لاکھ کے پیکج کی منظوری دی ہے ۔پروگرام کے اہم نقطے میں میزبان طلعت حسین نے کہا کہ پاکستان بھر میں 13 سال کے بچوں کی لیگ کا بندوبست کیا گیا ہے جو کہ بہت اچھا اقدام ہے ، اس اقدام کے نتیجے میں بہت گہرے اور اچھے نتائج مرتب ہوسکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ بچوں کیلئے حفاظتی اقدام کرنے کی ضرورت ہے ، پاکستان میں بچوں کے ساتھ استحصال کے حوالے سے جو بھی اعدادو شمار ہیں اور جو بھی ادارے کام کررہے ہیں ان کو بچوں کو استحصال سے بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ، اس کے علاوہ ایسا شیڈول بنانا چاہئے کہ کھیل کے ساتھ ساتھ بچوں کی تعلیم متاثر نہ ہو ۔