کیا بھارت سخت گیر ہندو ریاست بننے جا رہا ہے؟
| |
Home Page
اتوار 29 رمضان المبارک 1438ھ 25 جون 2017ء
March 20, 2017 | 12:00 am
کیا بھارت سخت گیر ہندو ریاست بننے جا رہا ہے؟

Todays Print

اسلام آباد (امتیاز عالم) زرد رنگ کا چوغا پہنے یوگی آدیتیہ ناتھ گورکھ پور میں گورکھ ناتھ مندر کے پُجاری اور سخت گیر ہندو ہیں اور اب وہ ریاست اُتر پردیش کے وزیراعلیٰ بن چکے ہیں۔ اس نئی پیشرفت سے ریاست کی تنوع سے بھرپور سیاست پر ہندوتوا کا رنگ چھا گیا ہے، وزیراعظم نریندر مودی کے ’’ترقی سب کیلئے‘‘ کے ایجنڈ ے پر پانی پھر گیا ہے اور ساتھ ہی بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست میں ہندو راشٹر کیلئے راہ ہموار ہوتی نظر آ رہی ہے۔ نئے وزیراعلیٰ کی تقریب حلف برداری میں وزیراعظم مودی، کابینہ کے سینئر ارکان، بی جے پی کے کئی رہنما، بشمول امیت شاہ، ایڈوانی اور جوشی، اور 11؍ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ شامل تھے۔ اس سے کٹر ہندو پنڈت سیوک یوگی کے انتخابی لحاظ سے اہم ترین سمجھی جانے والی ریاست کا وزیراعلیٰ بننے کا واقعہ غیر معمولی ہونے کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کی کامیابی کو ہزاروں لاکھوں لوگوں نے ہندوتوا کے نظریے کو تقویت قرار دیا اور ان کے حامیوں نے ان کا استقبال اس نعرے سے کیا: یو پی میں رہنا ہے تو یوگی یوگی کہنا ہے۔ پرجوش، خوش نظر آنی والی اور شعلہ بیان رہنما اُوما بھارتی نے بھی زرد رنگ کا چوغا پہنا ہوا تھا، وہ بھی نسل پرست شخصیت ہیں۔ انہوں نے یوگی کی کامیابی کو اپنی مذہبی زندگی کا دوسرا اہم ترین واقعہ قرار دیا۔ یوگی آدیتیہ ناتھ کون ہے اور ان کی کامیابی پر ہندوتوا پَری وار کے لوگ جشن اور سیکولر طبقہ سوگ کیوں منا رہا ہے؟ گور کھپور مندر کے سینئر پنڈت نے اپنی تطہیر (پیور ی فکیشن) یعنی ’’گھر کو واپسی کے نام سے شروع کی جانے والی مہم کے حوالے سے مشہور ہیں۔ اس مہم کا مقصد مسلمانوں اور مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی واپس ہندو مذہب میں واپسی ہے۔ انہوں نے 2007ء میں نسلی فسادات کو ہوا دی، ایک ہندو کی موت کا بدلہ 100؍ مسلمانوں کو مارنے کی دھمکیاں دیں، ایک ہندو خاتون کو مسلمان بنانے کا بدلہ لینے کیلئے 100؍ مسلمان خواتین کی ہندوئوں سے شادی کرانے کی دھمکیاں دیں، بابری مسجد کی جگہ پر رام جنم بھومی تعمیر کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ یہ مسجد ہندئوں نے مغل بادشاہ اورنگزیب کے ہندو ئو ں کے مذہبی مقامات تباہ کرنے کا بدلہ لینے کیلئے شہید کر دی تھی۔ سخت گیر کارکنوں میں یوگی آدیتیہ اس قدر مشہور ہیں کہ کارکنوں نے یہ نعرہ ’’ہر ہر مودی، گھر گھر مودی‘‘ تبدیل کرکے ’’دلی میں مودی، یو پی میں یوگی‘‘۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے یو پی کے ریاستی انتخابات میں بھاری کامیابی حاصل کی اور اس نعرے کے ساتھ تین چوتھائی (403؍ میں سے 325؍) نشستیں جیت لیں: ’’سب کا ساتھ، سب کا وِکاس۔‘‘ مودی نے کنٹرول لائن کے پار سرجیکل اسٹرائیک اور پانی کا بہائو روکنے کا ذکر کر کے پاکستان مخالف جذبات پھیلائے، لیکن ان کے پاکستان مخالف بیانات کا کوئی اثر نہ ہوا۔ تاہم، انہوں نے نسلی لحاظ سے پائی جانے والی خلیج کو استعمال کیا اور وزیراعلیٰ اکھیلیشن یادیو کی سماج وادی پارٹی پر مسلمانوں کو خوش کرنے کا الزام عائد کیا۔ مودی، امیت شاہ اور یوگی نے مل کر ہندو مسلم نسلی اختلاف کے جذبات کو ہوا دی تاکہ ہندوئوں کو ایک ساتھ جمع کر کے ووٹ حاصل کیا جا سکے۔ ذات پات کی بنیاد پر کام کرنے والی سماج وادی پارٹی اور مایا وتی کی (مسلمانوں اور دلت برادری کی جماعت) بہوجن سماج پارٹی کے مقابلے میں مودی نے مسلمانوں کو علیحدہ کرکے ہر ذات سے تعلق رکھنے والے ہندوئوں سے ووٹ کی اپیل کی۔ انہوں نے ایسے ہندوئوں سے بھی رابطہ کیا جو اکھیلیش یادیو کی جماعت کے اتحادی نہیں تھے۔ مودی اپنی مہم میں کامیاب رہے اور ساتھ ہی ترقی سب کیلئے کے نعرے کے پیچھے چھپے رہے اور موجودہ حکمرانوں کی حکمرانی کو غنڈہ راج اور ظلم کی حکومت قرار دیا۔ پُر امید تجزیہ کار یہ دیکھنے میں ناکام رہے کہ آر ایس ایس کے لوگ بھارت کو سیکولر، جمہوری اور تکثیری ملک سے تبدیل کرکے ہندو ملک بنانا چاہتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے رہے کہ مودی نرم رویہ رکھنے والے ہندوتوا کا پرچار کرنے والے کارکن ہیں۔ لیکن انتہاپسند یوگی آدیتیہ کی بطور وزیراعلیٰ نامزدگی سے یہ لوگ اب غلط ثابت ہوچکے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی کی حکومت 2019ء کے عام انتخابات سے قبل اُتر پردیش میں ہندو ازم کو مزید پھیلائے گی اور ساتھ ہی ریاست کے پسماندہ حصوں میں ترقی کا تڑکا بھی لگائے گی۔ اس ریاست میں ملک کی آبادی کا چھٹا حصہ ہے اور یہیں سے لوک سبھا کی مجموعی نشستوں کا پانچواں حصہ منتخب ہوتا ہے۔ درحقیقت مودی نے ذات پات، موروثیت اور محدود مسلم پہلو کی بنیاد پر کی جانے والی سیاست کو شکست دی ہے۔ لیکن پاکستان میں مذہبی اقلیتوں، جن کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کیا جاتا، کے مقابلے میں دیکھا جائے تو بھارت میں مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بھارت میں بہت زیادہ تنوع پایا جاتا ہے۔ لیکن یو پی میں مسلمانوں کو بری شکست ہوئی ہے حالانکہ ریاست کے 130؍ حلقوں میں ان کا اثر رسوخ پایا جاتا ہے۔ بی جے پی نے بی ایس پی کے مقابلے میں مسلمانوں کو ایک بھی نشست نہیں دی جس نے مسلمانوں کو 97؍ نشستیں دی تھیں جبکہ ایس پی اور کانگریس کے اتحاد سے مسلمان امیدواروں کو 70 ٹکٹ ملے تھے۔ مسلم امیدوار بمشکل ہی 24؍ حلقوں میں جیت پائے، اس سے قبل 2012ء میں انہوں نے ریاستی الیکشن میں 69؍ نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اپنی انتہاپسند جماعت یووا واہینی چلانے والے یوگی آدیتیہ کو یو پی کا وزیراعلی منتخب ہونے سے بھارت بھر میں حیرانی و پریشانی کی ایک لہر پھیل گئی ہے۔ ریاست کے مشرقی حصوں میں ممکنہ طور پر فرقہ ورانہ تنازع بڑھے گا جس سے مسلمان مختلف سمت میں پیچھے ہٹتے جائیں گے اور ساتھ ہی مدرسوں کے قیام میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ توقع ہے کہ یوگی آدیتیہ شرارت انگیز رویہ اختیار کریں گے اور ہندوتوا کے نرم چہرے کیخلاف اقدام کریں گے۔ ہندو راشٹرا کے قیام اور ترقی سب کیلئے کے نعرے میں اس قدر اختلاف پایا جاتا ہے کہ سیکولر قوتوں کو موقع مل سکتا ہے کہ وہ یوگی جیسے لوگوں کو جمہوریت کو پٹری سے اتارنے سے روک سکتے ہیں۔ بھارت میں ہندوتوا کی لہر میں اضافہ پاکستان میں پرتشدد انتہاپسندی کیخلاف جاری جنگ کیلئے اچھا شگون ثابت نہیں ہوگا کیونکہ ہندو انتہاپسندی اس میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔