| |
Home Page
بدھ 30 ذیقعدہ 1438ھ 23 اگست 2017ء
سلیم صافی
March 21, 2017 | 12:00 am
کمیشن نہیں قریشی

Comission Naheen Qureshi

یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب آصف علی زرداری صدر پاکستان اور جناب مخدوم شاہ محمود قریشی وزیر خارجہ تھے۔ تب حسین حقانی امریکہ میں پاکستان کے سفیر تھے۔ پاکستان میں مشکوک امریکیوں کی پراسرارسر گرمیاں حد سے بڑھ گئی تھیں۔ تب دبئی میں پاکستان کے ایک فرض شناس قونصل جنرل نے شاہ محمود قریشی اور ان کے سیکرٹری خارجہ کو خط لکھا کہ ان کی مرضی اورقواعد کے خلاف امریکیوں اور بھارتیوں کو پاکستان کے ویزے صدر آصف علی زرداری اور ان کے منہ بولے بھائی اویس مظفر ٹپی کی ہدایت پر دئیے گئے ہیں۔ یہ معاملہ شواہد کے ساتھ میرے نوٹس میں آیا تو میں نے اس کی تفصیلات پر مبنی خبر ’’جنگ‘‘ اور ’’دی نیوز میں شائع کرادی۔ کئی دن گزرنے کے بعد کوئی ٹس سے مس نہ ہوا تو میں نے روزنامہ جنگ میں اس حوالے سے ’’پاکستان یا شہر ناپرسان ‘‘ کے زیرعنوان تفصیلی کالم لکھ ڈالاجو 4ستمبر 2010 ء کے ادارتی صفحہ پر شائع ہوا۔ اس کالم کا اختتام ان الفاظ کے ساتھ ہوا تھا کہ :
’’دوسری طرف جب پاکستان میں بعض امریکیوں کی غیرقانونی سرگرمیاں حد سے بڑھ گئیں تو مجبور ہوکر ہماری وزرات خارجہ نے پاکستان کا ویزہ طلب کرنے والے غیرملکیوں کے لئے ویزے کے اجرا کی شرائط تبدیل کیں۔ 23فروری 2010 کو بیرون ملک تمام پاکستانی سفارتخانوں کو نئی پالیسی کی وضاحت پر مبنی ایک نوٹی فکیشن ارسال کیا گیا۔ اس نوٹی فکیشن کے سیکشن میں واضح الفاظ میں تحریر ہے کہ کسی بھی غیرملکی کو کسی بھی تیسرے ملک سے ویزہ جاری نہیں کیا جائے گا لیکن دبئی میں پاکستانی قونصل خانے کے دفتر خارجہ کے نام ایک وضاحتی خط (جس کی کاپی میرے پاس موجود ہے)کے مطابق چار ماہ کے مختصر عرصہ (یکم مارچ تا جون )میں صرف دبئی سے ایک سو پچاس ہندوستانیوں اور چھیاسی امریکیوں کو غیرقانونی طور پر پاکستان کے ویزے جاری کئے گئے۔ اس خط کی رو سے ایسی چھ امریکی خواتین کو بھی پاکستان کے تین ماہ کے ملٹی پل انٹری ویزے دیئے گئے جنہوں نے اپنے ویزہ فارم میں دورہ پاکستان کا مقصد ایوان صدر کی زیارت قرار دیا ہے بلکہ ایک نے تو زرداری ہائوس اسلام آباد کو اپنے قیام کا مقام ظاہر کیا ہے۔ ان میں سے کسی کے ویزہ فارم کو حسب قانون وزارت داخلہ اور متعلقہ اداروں کے پاس کلیئرنس کے لئے نہیں بھجوایا گیا۔ جس دن انہوں نے ویزے کیلئے درخواست دی، اسی دن ان کو ویزے جاری کئے گئے جبکہ بعض کے پاسپورٹوں پر ویزے چھٹی والے دن قونصل خانہ کھول کر لگائے گئے۔ اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تمام ویزے زرداری ہائوس دبئی کے انچارج محمد اویس ٹپی (جن کا وزارت خارجہ سے کوئی تعلق ہے اور نہ وزارت داخلہ سے اس کا کوئی سروکار ہے۔ وہ صدر مملکت زرداری صاحب کے دوست ہیں اور ان کے سوتیلے بھائی کے طور پر مشہور ہیں)کے حکم پر جاری کئے گئے۔
ملکی سلامتی کے ساتھ سنگین مذاق کی یہ روداد خبر کی صورت میں دو ہفتے قبل میں نے روزنامہ جنگ اور روزنامہ دی نیوز میں شائع کرائی جس میں پراسرار اور مشکوک سرگرمیوں کیلئے آنیوالے ان امریکیوں کے پاسپورٹ نمبرز تک دیئے گئے تھے لیکن تماشا یہ ہے کہ دو ہفتے گزر جانے کے باوجود حکومت پاکستان کی طرف سے کوئی کارروائی سامنے نہیں آئی۔ میری خبر کی تردید ہوئی اور نہ ایوان صدر یا وزارت خارجہ نے کوئی وضاحت جاری کی۔ خبر کی اشاعت کے بعد سلامتی کے اداروں میں ہلچل مچ گئی اور ایک طاقتور خفیہ ایجنسی کے حکام خبر کی تفصیلات اور متعلقہ دستاویزات دیکھنے کے لئے میرے پاس آئے اور ایسی بھی اطلاعات مل رہی ہیں کہ اسی ادارے نے اگلے دن دبئی کے قونصل خانے میں ویزہ سیکشن کا سارا ریکارڈ بھی قبضے میں لے لیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جب یہ سب کچھ ہوتا رہا تو یہ ایجنسیاں کہاں سوئی ہوئی تھیں۔ جو خبر ہم جیسے رپورٹروں تک پہنچ گئی،وہ ان تک کیوں نہ پہنچ سکی؟ سوال یہ ہے کہ یہ ایجنسیاں کیا صرف ہم جیسوں کے ٹیلی فون ٹیپ کرتی اور بیڈروموں تک ہماری نگرانی کرتی رہیں گی یا کہ پھر مذکورہ نوعیت کے اقدامات کا تدارک بھی ان کے فرائض میں شامل ہے؟ سوال یہ ہے کہ مذکورہ ایک سوپچاس ہندوستانی اور چھیاسی امریکی اگر قانونی سرگرمیوں کے لئے پاکستان آرہے تھے تو پھر انہوں نے قانون کے مطابق دہلی اور واشنگٹن میں ہمارے سفارتخانوں سے ویزے کیوں نہیں لئے؟ سرکاری سطح پر امریکہ جانے والے پاکستان کے فوجی افسران کو بے عزت کرنیوالے امریکیوں یا پھر ہندوستانیوں پر ہمارے حکمران اس قدر مہربان کیوں ہیں؟قوم جاننا چاہتی ہے کہ یہ ہندوستانی اور امریکی کون تھے، کیا کرنے آئے تھے، کیا کرکے گئے ہیں اور واپس گئے بھی ہیں یا نہیں۔ ادھر کچھ اور کاموں میں مصروف ہیں ؟سوال یہ ہے کہ کیا ہم افغانستان سے بھی زیادہ کمزور اور بے بس ہیں اور اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے یا پھر شہرناپرسان؟‘‘
روزنامہ جنگ میں اس کالم کی اشاعت کے بعد بھی ریاستی اداروں اور قومی سیاست میں اس حوالے سے کوئی حرکت نہیں ہوئی تو میں نے انگریزی روزنامہ دی نیوز کے لئے قومی سلامتی کے ساتھ اس مذاق سے متعلق تفصیلی کالم لکھا جو اس کے ادارتی صفحہ پر ’’Visit by Shadowy Foreigners‘‘ کے زیرعنوان شائع ہوا۔ افسوس کہ اس کے بعد بھی کوئی ٹس سے مس نہیں ہوا۔نہ تو اپوزیشن لیڈر میاں نوازشریف نے اس ایشو کو اٹھایا اور نہ قومی سلامتی کے محافظ اداروں کا کوئی ردعمل دیکھنے کو ملا۔ الٹا شاہ محمود قریشی کی وزارت خارجہ سے دبئی سے اس افسر کوسزا دی جو اس معاملے پر احتجاج کرکے معاملے کو اپنے اعلیٰ حکام کے نوٹس میں لائے تھے۔تاہم جب 2مئی کو ایبٹ آبادآپریشن میں امریکی اسامہ بن لادن کو مارکر پوری دنیا میں پاکستان کی سبکی کر بیٹھے تو ہمارے ادارے حرکت میں آگئے لیکن پھر بھی کسی سے کوئی بازپرس نہیں ہوئی۔ اب جب حسین حقانی نے واشنگٹن پوسٹ میں اس معاملے کا کسی اور حوالے سے ذکر کیا تو پاکستانی سیاست اور میڈیا میں ایک طوفان برپا ہوا۔ اور تو اور وزیراعظم کے دست راست اور وزیردفاع خواجہ آصف نے تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا۔ سوال یہ ہے کہ یہ پاکستان ہے یا کمیشنستان؟ جب یہ سب کچھ ہورہا تھا اور جب ہم جیسے بے بس اور بے خبر لوگ بھی تفصیلات دے کر چیخ رہے تھے تو کسی نے نوٹس کیوں نہیں لیا اور اب ماضی کو کریدنے اور گڑے مردوں کو اکھاڑنے کی کیا ضرورت ہے؟نئے کمیشن پر وقت اور وسائل ضائع کرنے کی بجائے ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کو منظر عام پر کیوں نہیں لایا جاتا؟ کمیشن سے بھی زیادہ آسان طریقہ یہ ہے کہ مخدوم شاہ محمود قریشی کو ایوان کی کسی کمیٹی میں طلب کیا جائے۔ وہ اس وقت وزیرخارجہ تھے۔ایبٹ آباد کا واقعہ بعد میں ہوا لیکن امریکیوں کو قواعد کے خلاف ویزے 2009ء اور 2010ء میں دئیے گئے اور اس عرصہ میں قریشی صاحب ہی وزیر خارجہ تھے۔ اصولی طور پر حسین حقانی بھی ان کے ماتحت اور ان کی وزارت خارجہ کا حصہ تھے۔ اس وقت کی امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کے ساتھ ان کے خصوصی ذاتی روابط بھی تھے اور اس بنیاد پر اپنے بیٹے کو امریکی وزارت خارجہ میں بطور ٹرینی بھی لگا رکھا تھا۔ اس وقت وہ آصف علی زرداری کے نہیں بلکہ عمران خان کے دست راست ہیں۔ قریشی صاحب آکر قوم کو بتائیں کہ اس معاملے میں کس کا کیا کردار تھا اور خود وہ کیوں اس حوالے سے مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اپنے قائد کی طرح شاید وہ اپنے بارے میں اور اس وقت کی عسکری قیادت کے بارے میں تو سچ نہ بول سکیں لیکن یقینا آصف علی زرداری، یوسف رضا گیلانی اور حسین حقانی سے متعلق تو سچ بتاسکیں گے۔ قریشی صاحب قوم کو بتائیں کہ اس وقت امریکیوں اور انڈین پر جو خصوصی عنایتیں ہوئیں، وہ قوم کے وسیع تر مفاد میں تھیں یا کہ ملکی سلامتی کے ساتھ مذاق تھا۔ مذاق تھا تو پھر کون کون اس مذاق میں شریک تھا؟

.