| |
Home Page
جمعہ 25 ذیقعدہ 1438ھ 18 اگست 2017ء
مظہر بر لاس
March 21, 2017 | 12:00 am
مردم نہیں فردم شماری

Mardum Naheen Fardum Shumari

ڈاکٹر فرزانہ باری قائداعظم یونیورسٹی میں پڑھاتی ہیں مگر پڑھانے کے علاوہ ان کا ایک اور تعارف بہت اہم ہے۔ وہ انسانی حقوق کے لئے آوازبلند کرنے والی توانا آواز ہیں۔ عورتوں، مزدوروں، بچوں، معذوروں، اقلیتوں اور طالبعلموں کے حقوق پر جب بھی بولنے کی ضرورت پڑتی ہے تو فرزانہ باری پیش پیش ہوتی ہیں۔ ویسے تو وہ بین الاقوامی شہرت کی حامل سماجی کارکن ہیں مگر اسلام آباد ان سے زیادہ واقف ہے۔ انسانی حقوق کے لئے کوئی بھی مظاہرہ ہو، جلسہ ہو، جلوس ہو، سیمینار ہو یا پھر پریس کانفرنس ہو، ڈاکٹر فرزانہ باری سب سے زیادہ متحرک ہوتی ہیں۔ اب وہ درست مردم شماری کی خواہاں ہیں۔
ملک میں آج کل مردم شماری کا عمل جاری ہے۔ اس کے طریقہ کار پر بہت سے حلقوں کو اعتراض ہے۔ یہ بات واضح رہے کہ بلدیاتی الیکشن کی طرح مردم شماری بھی سپریم کورٹ کے حکم پر ہو رہی ہے۔ پاکستان میں قائم نام نہاد جمہوری حکومتیں بلدیاتی الیکشن کروانے سے ڈرتی تھیں۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے سبب یہ الیکشن ہوگئے مگر ایسا لگتا ہے کہ بلدیاتی اداروں کو اختیارات کے حصول کے لئے بھی سپریم کورٹ جانا پڑے گا کیونکہ بنیادی جمہوریت کے ان اداروں پر ابھی تک اختیارات کا نزول نہیں ہوا۔ یہ نام نہاد جمہوری حکومتیں بلدیاتی الیکشن کی طرح مردم شماری کو بھی ایک عرصے سے ٹرخا رہی تھیں بالآخر یہ خیال بھی سپریم کورٹ آف پاکستان کو آیا کہ ملک میں مردم شماری بہت ضروری ہے۔ اب خیر سے 19سال بعد یہ نیک فریضہ اداکرنے کاعمل شروع ہواہے لیکن قابل افسوس بات یہ ہے کہ اس عمل کو ادھورا کیاجارہا ہے، پورا نہیںکیا جارہا ہے۔ اس کی نشاندہی کے لئے اسلام آباد میں انسانی حقوق کی تنظیمیں سرگرم ہیں۔ گزشتہ دنوں ان تنظیموں کا اجلاس اسلام آباد کے ایک نجی ہوٹل میں ہوا۔ اس اجلاس کے لئے ڈاکٹر فرزانہ باری بہت سرگرم تھیں۔ اس اجلاس میں ان تمام پہلوئوں کی نشاندہی کی گئی جو مردم شماری کے ادھورا ہونے کی علامت ہیں۔ مجھے اس اجلاس میں خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ جونہی میں اجلاس میں داخل ہوا تو سب سے پہلے ڈاکٹر فرزانہ باری نے اعتراض کیا کہ کیا عورتیں اور خواجہ سرا معاشرے کا حصہ نہیں ہیں؟ ہمیں تو اس نام پر ہی اعتراض ہے جب افراد کا شمار کیاجارہا ہے تو پھر مردم شماری کیوں؟افراد شماری کیوں نہیں؟ ان کی بات درست تھی لہٰذا میں نے گفتگو کے آغاز ہی میں کہا کہ اس افراد شماری کو ’’فردم شماری‘‘ کا نام دیاجائےتاکہ معاشرے کے ایک بڑے طبقے یعنی عورت کااعتراض ختم ہوجائے۔ ویسے بھی یہ کام کوئی مشکل نہیں ہے جس ملک میں سی بی آر کو لمحوں میں ایف بی آر کردیا گیا تھا وہاں مردم شماری سے فردم شماری تک جانے میں کیا دشواری ہے لہٰذا اگر ادارہ ٔ شماریات اس طرف توجہ نہیں بھی دیتا تو پارلیمنٹ کو ضرور توجہ دینی چاہئے، جہاں اچھی خاصی تعداد میں خواتین ممبران ہیں اور ان ممبران میں شیری رحمٰن جیسی ذہین ترین خاتون بھی شامل ہے۔
اجلاس میں ڈاکٹر فرزانہ باری جیسی دانشو ر سماجی کارکن نے کئی چشم کشاانکشافات کئے۔ مثلاً عوام کے ٹیکسوں سے اربوں روپے لگانے والے ادارہ ٔ شماریات نے پرانے فارموں ہی پر کام شروع کر دیاہے۔ یہ فارم 2007 میں چھپوائے گئے تھے۔ اس سے بداعتمادی کی فضا قائم ہے کیونکہ ان فارموں کے حوالے سے کئی مفید اور اہم تجاویز سامنے آئی تھیں مگر ادارہ ٔ شماریات نے ان تمام تجاویز کو فارم کا حصہ نہیں بنایا۔ کہا جارہا ہے کہ فردم شماری پر 20ارب روپے خرچ ہوںگے۔ اگر قوم کااتنا ہی سرمایہ لگانا ہے تو پھر اہم اور مفید تجاویز کےساتھ نئے فارم پرنٹ کئے جائیں تاکہ ایک ہی مرتبہ ادھورا کام مکمل ہوسکے۔ اس سلسلے میں اگر دو ہفتوں کی تاخیر بھی ہوتی ہے تو کوئی بات نہیں، موجودہ فارم تضادات کا مجموعہ ہے۔ اب اگر 19,18سال کی تاخیر کے بعد فردم شماری کا خیال آ ہی گیا ہے تو پھر تحفظات دور ہو نے چاہئیں۔ جب ایک مرتبہ ڈیٹا بیس مرتب ہو جائے تو اسے ہر سال اپ گریڈ کردیا جائے تاکہ اتنی لمبی چوڑی ایکسرسائز کی ضرورت نہ رہے۔
معذو ر عورتوں کے لئے ایک عرصے سے کام کرنے والی ڈاکٹر رخشندہ پروین کا کہنا تھا کہ مجوزہ فردم شماری میں معذور افراد بھی گن لئے جائیں تاکہ ہمیں یہ تو پتہ ہو کہ ہمارے ملک میں کتنے لوگ معذور یا اسپیشل افراد ہیں۔ ڈاکٹر رخشندہ پروین نے ایک اور بات بہت اہم کی کہ ملک کی ہر یونین کونسل کو نادرا کے ساتھ جوڑ دیا جائے تاکہ فردم شماری کاعمل خودبخود ہوتارہے۔ ہمیں ہر آٹھ دس سال بعداتنے بڑے پیمانے پر کام نہیں کرنا پڑے گابلکہ فردم شماری خودبخود اپ گریڈ ہوا کرے گی۔ اس طرح ہمارے ملکی وسائل کا زیاں نہیں ہوگا۔
تقریب میں موجود خواجہ سرا کشش نے کہا کہ حالیہ فردم شماری میں ہمیں شمار ہی نہیں کیا جارہا۔ موجودہ فردم شماری میں ایک انڈین بل کی نقل کی گئی ہے۔ اب جب ہمیں شمار کرنے کی باری آئی ہے تو کہا جارہا ہے کہ یہ فارم 2007میں چھپ گئے تھے۔ کبھی کہا جارہا ہے کہ یہ فارم 2012میں چھپ گئے تھے۔ اگر 20سال بعد بھی ہمیں شمار نہیں کیا جارہا تو یہ ہمارے ساتھ ظلم ہوگا۔ اس سلسلے میں ایک بات بڑی اہم اور قابل غور ہے کہ جب بھی کسی گھرانے میں کوئی خواجہ سرا پیدا ہوتا ہے تو گھر والے اندراج کے وقت خواجہ سرا کو لڑکا یا لڑکی لکھوا دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں بھی تحقیق ہونی چاہئے۔
فاطمہ عاطف نے اس جانب توجہ مرکوز کروائی کہ بلوچستان کے دیہاتوں میں یہ کام خاصا مشکل ہے۔ جب تک وہاں کے مقامی افراد کو شامل نہیں کیا جاتا۔ کم از کم فردم شماری تو درست ہونی چاہئے۔ پروین اشرف نے اس بات کویوں آگے بڑھایا کہ اس سلسلے میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کے علاوہ مقامی سماجی ورکرز خواتین کو بھی شماری کے اس عمل میں معاون بنایا جائے۔ زبانوں کے حوالے سے بھی شماری اہم ہے۔ مقامی افرادکا عمل دخل اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ وہ مقامی زبان میں بات کرسکیں گے۔ نجیب احمد کو اعتراض تھا کہ اس سلسلے میں انفارمیشن نہیں پہنچی لیکن ہمارے ملک میں عجیب دستور ہے کہ اچھے کا اجر نہیں ملتا اور برے کی سزا نہیں ملتی۔
ایک اور اہم ترین گفتگو پتن کے سرور باری نے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ طریق کار کے تحت خواتین کی درست شماری نہیں ہوسکے گی۔ کیونکہ ہمارے قبائلی علاقوں اور دیہاتوں میں خواتین کس طرح مردوں کا سامنا کریں گی کیونکہ ہماری روایات بہت سی باتوں کی اجازت نہیں دیتیں۔ ادارہ ٔ شماریات کے حالیہ طریقہ کار کے تحت کس طرح ایک عورت کسی غیرمحرم مردکے ساتھ د ومہینے جگہ جگہ جائے گی۔اس مقصد کے حصول کے لئے مقامی سکولوں کی اساتذہ کو شامل کیا جائے۔ فردم شماری میں خاص طور پر خواتین کے شمارکے لئے مقامی خواتین ٹیچرز کو اس عمل کاحصہ بنایا جائے۔ صرف پنجاب میں ایک لاکھ 60ہزار خواتین اساتذہ ہیں۔
اسی طرح باقی صوبوں میں خواتین اساتذہ کی تعداد ہے۔ یہ خواتین اساتذہ مقامی خواتین سےبہتر انفارمیشن حاصل کرسکتی ہیں۔ ادارۂ شماریات دو ماہ میں فردم شماری کرنے کے بعد بھی ادھورا کام کرےگا۔ اس سلسلے میں ادارہ ٔ شماریات کا کہناہے کہ باقی کام اکتوبر میں کریں گے۔ یہ تو ایک اسکینڈل ہے اسی لئے اداروں پر اعتماد کافقدان ہے کہ وہ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔ جس طرح دھاندلی کے عمل کا حصہ بننے والوں کے لئے کوئی سزا نہیں، کیا اسی طرح درست شماری نہ کرنے والوں کے لئے بھی کوئی سزا نہیں ہوگی؟ لہٰذا اس عمل کو شفاف بنایا جائے اور درست فردم شماری کی جائے۔ بقول اقبالؒ؎
جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

.