| |
Home Page
منگل 26 محرم الحرام 1439ھ 17 اکتوبر 2017ء
March 21, 2017 | 12:00 am
کراچی بجلی کے نرخوں میں ساڑھے تین روپے یونٹ کمی

Todays Print

اسلام آباد (خصوصی نمائندہ) کراچی کے لئے بجلی کے نرخوں میں ساڑھے تین روپے فی یونٹ کمی کردی گئی ہے اور بجلی کے نرخ سات سال کے لئے مقرر کیے گئے ہیں جبکہ کے الیکٹرک کو صارفین سے بینک چارجز اور میٹر رینٹ وصول کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق نیپرانےکے الیکٹرک  کے لئے 7 سال کے لئے ملٹی ٹیرف کا فیصلہ سنا دیا ہے یہ ٹیرف 2016ء سے 2023ء تک ہوگا۔  یہ فیصلہ کے الیکٹرک کے صارفین کے تحفظ کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ اتھارٹی نے موجودہ ٹیرف جو کہ 15 روپے 57 پیسے فی یونٹ ہے کو کم کر کے 12 روپے 7 پیسے کر دیا ہے اور کے الیکٹرک کے اس حوالے سے 16 روپے 23 پیسے  کے دعوی کو مسترد کر دیا ہے۔ نیپرا نے اس سلسلہ میں بجلی کی پیداوار ڈسٹری بیوشن اور ٹرانسمیشن کو بہتر بنانے کے لئے کے الیکٹرک  کو 237.6 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنے کا پابند بھی کیا ہے۔ کے الیکٹرک نے نرخوں کو دس برس کے لئے مقرر کرنے کی استدعا کی تھی تاہم اتھارٹی نے اس کو تسلیم نہیں کیا اور سات برس کے عرصے کو قابل قبول قرار دیا۔ نیپرا نے ٹیرف اور کاسٹ کو تین حصوں، پیداوار، تقسیم اور ترسیل پر مشتمل ٹکڑوں میں تقسیم کیا ہے۔ اس سلسلے میں کے الیکٹرک کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ بجلی کی پیداوار میں 48 اعشاریہ ایک ارب روپے، تقسیم پر 69 اعشاریہ 4 ارب روپے، ترسیل پر 115 اعشاریہ 7 ارب اور دیگر اخراجات پر 4 اعشاریہ دو ارب روپے کی سرمایہ کاری سات سال کے عرصے میں کرے۔ اتھارٹی نے کے الیکٹرک کو ماہانہ بلوں کے ذریعے صارفین سے بینک چارجز وصول کرنےکی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ صارفین کو ان کے بلوں کے ذریعے ان کے سیکورٹی ڈپازٹ پر سود ادا کیا جائے، مزید براں کے الیکٹرک کو اس کے موجودہ اور نئے صارفین سے میٹر کا کرایہ وصول کرنے سے بھی روک دیا  گیا ہے۔ کے الیکٹرک کو یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر ان صارفین سے بجلی استعمال کرنے کے وقت (ٹائم آف یوز، ٹی او یو) کے ریٹ سے بل بھیجنے کا آغاز کرے جن کے ہاں ٹی او یو میٹر نصب کیے جاچکے ہیں اور 31 دسمبر 2017 تک جن صارفین کے لئے پانچ کلوواٹ یا زائد لوڈ کی منظوری دی جاچکی ہے ان تمام صارفین کو ٹی او یو میٹرز فراہم کیے جائیں جبکہ مستقبل میں تمام نئے صارفین کو جن کے لئے پانچ کلوواٹ یا زائد لوڈ کی منظوری دی جاچکی ہے انہیں مذکورہ میٹرز ٹی او یو میٹرنگ کی سہولت کے ساتھ فراہم  کیے جائیں۔نئے کنکشن کے چارجز اتھارٹی الگ سے ہونے والی کاروائی میں طے کرے گی اور اس وقت تک کے الیکٹرک کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متوقع صارفین سے نئے کنکشن چارجز دیگر DISCOʼs کے مطابق وصول کریں۔ اتھارٹی نے 2002 میں کے الیکٹرک کو کئی برسوں پر محیط (ملٹی ایئر) ٹیرف کی اجازت دی تھی، 2005 میں کے الیکٹرک کی نجکاری کے بعد ملٹی ایئر (Multiyear)ٹیرف کو 2012 میں ختم ہونا تھا تاہم کے الیکٹرک کی نئی انتظامیہ کی جانب سے وزارت پانی و بجلی کے ساتھ ترمیم شدہ عملدرآمد کے معاہدے پر دستخط کے بعد 2009 میں کے الیکٹرک ٹیرف میں مخصوص ترامیم کے لئے ٹیرف پٹیشن فائل کی۔ ان مجوزہ ترامیم پر فیصلہ کرتے ہوئے اتھارٹی نے آئندہ سات برس یعنی جون 2016 تک کے لئے ملٹی ایئر ٹیرف میں توسیع کردی۔ مذکورہ بالا ٹیرف کی مدت ختم ہونے پر کے الیکٹرک نے 31 مارچ 2016 کو ایک درخواست دائر کی جس میں دس برس کے لئے انٹی گریٹیڈ ملٹی ایئر ٹیرف کی استدعا کی گئی تھی۔