| |
Home Page
منگل 03 صفر المظفر 1439ھ 24 اکتوبر 2017ء
March 21, 2017 | 12:00 am
کرکٹرز نے غلطیاں کیں ہیں پھانسی چڑھا کر مسئلہ حل نہیں ہوگا، علی محمدخان

Todays Print

کراچی(ٹی وی رپورٹ)پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر تاج حیدرنے کہا ہے کہ شرجیل میمن عدالتوں میں پیش ہونے کیلئے پاکستان واپس آئے،ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنا عجیب بات ہے،فوجی عدالتوں کے پچھلے قانون میں کئی ترامیم کی ہیں، پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے فوجی عدالتوں کو کڑوا گھونٹ قرار دیا ہے،ہم ہر چیز فوج سے کرواناچاہتے ہیں،اب اہل سیاست کو اپنی ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر عبدالقیوم اور پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان بھی شریک تھے۔علی محمد خان نے کہا کہ اسپاٹ فکسنگ میں ملوث کرکٹرز نے غلطیاں کی ہیں لیکن انہیں کوڑے مار کر یا پھانسی پر چڑھا کر مسئلہ حل نہیں ہوگا سینیٹر عبدالقیوم نے کہا کہ ہمارا عدالتی اور احتساب کا نظام فرسودہ اورغیرفعال ہے،قیادت کے خلاء اور بڑے عہدوں پر چھوٹے لوگ آنے کی وجہ سے ہم اخلاقی پستی کا شکار ہوئے ہیں۔علی محمد خان نے کہا کہ اسپاٹ فکسنگ میں ملوث کرکٹرز کو پھانسی پر چڑھا کر مسئلہ حل نہیں ہوگا،اسد قیصر کی عزت اچھالنے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے،عوام کو کسی صورت غلط آدمی کو ووٹ نہیں دینا چاہئے۔سینیٹر تاج حیدر نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں کرپشن کا اصل مسئلہ نظام اقدار کا ہے، ہمیں اپنے کھلاڑیوں کو اخلاقیات کی تربیت بھی دینا ہوگی، مختلف شعبوں میں ایمانداری سے کام کرنے والے لوگوں کو نمایاں کرنا ہوگا، ہمارے لوگوں میں صلاحیت تو ہے مگر ان کی تربیت نہیں ہے، ہمیں اپنے کھلاڑیوں کو اخلاقیات کی تربیت بھی دینا ہوگی، اخلاقی قدروں کو دوبارہ پروان چڑھانا اہل سیاست کا کام ہے، سیاستدان سوئنگ کنٹرول نہیں کررہے تو گیند لیگ امپائر کے لگ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو قائداعظم، محترمہ فاطمہ جناح، لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو جیسے بڑے قائدین ملے لیکن ہم انہیں صفحہ ہستی سے مٹادیتے ہیں، جو لیڈر جمہوریت کی بات کرے اسے ریاست کا دشمن سمجھ کر ہٹادیا جاتا ہے۔سینیٹر عبدالقیوم نے کہا کہ اسپاٹ فکسنگ کرنے والے کرکٹرز کی غلطی کی ذمہ دار ملکی قیادت بھی ہے، ہمارا نظام ایسا ہوناچاہئے کہ ہمارے باصلاحیت کھلاڑی کرپشن کی طرف نہ جائیں،ہمارے کچھ کھلاڑی بدقسمتی سے تعلیمی اداروں میں نہیں گئے، کھلاڑیوں کو صلاحیت کی بنیاد پر قومی ٹیم میں منتخب کرنے کے بعد چھ مہینے کا تربیتی کورس ضروری ہے جس میں انہیں بتایا جائے کہ انہیں کیا خطرات ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کرپشن کی کئی جہتیں ہیں یہ نیچے سے نہیں اوپر سے ختم ہوگی، ایان علی کیس کی طرح بہت سے ایسے کیسز ہیں جنہیں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے جس سے لوگ کنفیوژ ہوتے ہیں۔علی محمد خان نے کہا کہ اسپاٹ فکسنگ میں ملوث کرکٹرز نے غلطیاں کی ہیں لیکن انہیں کوڑے مار کر یا پھانسی پر چڑھا کر مسئلہ حل نہیں ہوگا، جسٹس قیوم کی رپورٹ پر کرکٹ میں کرپشن کے ذمہ داروں کو پکڑنا چاہئے تھا لیکن اس وقت آنکھیں بند کرلی گئیں،جب پہلی مرتبہ جرم پر آنکھیں بند کی جائیں تو پھر جرم عادت بن جاتا ہے،قومی کھلاڑیوں محمد عامر، سلمان بٹ اور محمد آصف نے اسپاٹ فکسنگ کی اور دوسرے ملک میں جیل کاٹی یہ ہمارے لئے بڑی سبکی کی بات تھی۔