| |
Home Page
منگل23 ربیع الاوّل 1439ھ 12 دسمبر2017ء
March 21, 2017 | 12:00 am
اسلام آبادہائیکورٹ، شرجیل میمن کی 5اپریل تک حفاظتی ضمانت منظور

Todays Print

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) اسلام آباد  ہائیکورٹ نے شرجیل میمن کی 5اپریل تک حفاظتی ضمانت منظور کرلی ہے، جبکہ شرجیل میمن کا کہناہے کہ میری غیر موجودگی میں میرے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا اور یہ کام چوہدری نثار اینڈ کمپنی کا ہے، وہ اپنا کام کرتے رہیں۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے 5 ارب کے کرپشن کیس میں سندھ کے سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن کی 20 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض 5 اپریل تک حفاظتی ضمانت منظور کر لی ہے۔ شرجیل میمن پر بطور صوبائی وزیر اطلاعات میڈیا میں پی پی پی کی تشہیری مہم چلا کر سرکاری خزانے کو پانچ ارب روپے نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔  عدالت عالیہ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سماعت کی۔گزشتہ روز سماعت کے موقع پر شرجیل میمن کی جانب سے فاروق ایچ نائیک نے موقف اپنایا کہ عدالت نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور خالد لانگو کی حفاظتی ضمانتیں منظور کیں لہٰذا شرجیل میمن کی حفاظتی ضمانت بھی منظور کی جائے کیونکہ یہ مذکورہ کیس میں عدالت کے روبرو پیش ہو کر اپنی صفائی پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر نیب کے پراسیکیوٹر سردار مظفر نے شرجیل میمن کی حفاظتی ضمانت درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل بھی شرجیل میمن کو سندھ ہائیکورٹ نے حفاظتی ضمانت دیتے ہوئے ہدایت کی تھی کی پاکستان آکر خود کو عدالت کے سامنے پیش کریں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالت سے حقائق چھپائے گئے، کراچی کی عدالت شرجیل میمن کو مفرور قرار دے چکی ہے۔ اس پر جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ کوئی بھی مفرور  عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا چاہے تو حفاظتی ضمانت دینے میں کوئی قباحت نہیں، ہمارے سامنے صرف حفاظتی ضمانت کا کیس ہے ہم میرٹ پر نہیں جائیں گے، اگر کیس ضمانت قبل از گرفتاری کا ہوتا تو نیب کے دلائل کو درست تسلیم کیا جاتا۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ حفاظتی ضمانت عدالت کے سامنے سرنڈر ہونے کے لئے دی جاتی ہے، تاہم شرجیل میمن کی زندگی کو خطرہ ہے، ان کو سکیورٹی میں عدالت میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ فیصلے کے بعد کمرہ عدالت سے باہر نکلتے ہوئے شرجیل میمن نے اپنے وکیل فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے استفسار کیا کہ اب تو مجھے گرفتار نہیں کیا جائے گا جس پر انہوں نے نفی میں جواب دیا۔  شرجیل میمن نے کہا کہ یہاں جنگل کا قانون ہے اور چوہدری نثار ان مقدمات کے پیچھے ہیں۔ بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ  میرے لئے یہ چیز آسان تھی کہ باہر رہ کر مقدمات کا سامنا ہی نہ کرتا، میرے خلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمات قائم کئے گئے ہیں اور عدالت میں پیش ہو کر میں اپنا دفاع کروں گا۔ اس موقع پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ یہاں بھی انصاف ہوا ہے اور کراچی میں بھی انصاف ملے گا۔  مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ ثابت ہوگیا ہے کہ پیپلزپارٹی کے جیالے جھوٹے کیسز پر عدالت سے فرار ہونے کے بجائے سامنا کرتے ہیں۔ آج عدالت سے انصاف ملا ہے اب نیب بھی سیاسی کارکنان کو سیاسی نشانہ بنانا چھوڑ دے۔اس موقع پر شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ میری غیر موجود گی میں میرے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا اور یہ کام چوہدری نثار اینڈ کمپنی کا ہے، وہ اپنا کام کرتے رہیں ہم خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے لئے عدالت کا سامنا کرتے رہیں گے۔