| |
Home Page
جمعہ 25 ذیقعدہ 1438ھ 18 اگست 2017ء
March 21, 2017 | 12:00 am
سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے، خواجہ آصف

Todays Print

اسلام آباد (نمائندہ جنگ) وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے، بھارت سے متنازع ڈیموں پر بات چیت ہوگی، رتلے ڈیم پر سیکرٹریز سطح کے مذاکرات آئندہ ماہ امریکا میں ہونگے،پاک بھارت انڈس واٹر کمشنرز کے درمیان مذاکرات میں تین متنازع ڈیموں کی تعمیر اور سیلابی پانی کا ڈیٹا فراہم کرنے کے حوالے بات ہو گی۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے پر مذاکرات 2015 سے تعطل کا شکار تھے، حکومتی کوششوں سے سندھ طاس معاہدے پر مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہوا، ہم نے عالمی ثالثی عدالت اور امریکا کی مدد سے تعطل کا شکار مذاکرات کو دوبارہ شروع کرانے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت انڈس واٹر کمشنرز مذاکرات میں بھارت میں زیر تعمیر 3 متنازع ڈیموں پکل دل، لوئر کلنائی اور مایار کے ڈیزائنوں پر بات چیت ہو گی، اس کے علاوہ مذاکرات میں سیلابی پانی کی پیشگی اطلاع اور اس حوالے سے ڈیٹا فراہم کرنے سے متعلق امور بھی زیر بحث آئیں گے جب کہ مذاکرات میں زیر تعمیر منصوبوں کے دوروں اور آئندہ کے اجلاسوں کی تاریخوں پر بھی بات چیت ہوگی۔ وزیر پانی و بجلی نے بتایا کہ ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان کشن گنگا سمیت دیگر مسائل کے حل میں بہت زیادہ تاخیر کی گئی جس سے ہمارے مفادات کونقصان پہنچا، اس تاخیر کی وجہ سے جب معاملے کو عالمی ثالتی عدالت میں اٹھایا تو ہماری پوزیشن اتنی مضبوط نہیں تھی جتنی ہونی چاہیے تھی، سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، کشن گنگا ڈیم کے حوالے سے ثالثی عدالت کے فیصلے پر زور دے رہے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت کے رتلے ڈیم کے ڈیزائن کے حوالے سے ڈیڑھ سال کے دوران بہت بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور اب ہم اس متنازع ڈیم کا ڈیزائن تبدیل کروانے کی پوزیشن میں ہیں۔ رتلے ڈیم کے حوالے سے ہمارا موقف بڑا واضح ہے کہ ڈیم کی تعمیر سندھ طاس معاہدے کے مطابق ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ رتلے ڈیم کے حوالے سے سیکرٹری سطح پر مذاکرات آئندہ ماہ امریکا میں ہوں گے جس میں ہم اپنے مفادات کا بھرپور تحفظ کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے کیونکہ ہمارے تحفظات اور مطالبات سندھ طاس معاہدے کے عین مطابق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 116 وفد بھارتی ڈیموں کے ڈیزائن کے معائنہ کے لیے جا چکے ہیں رتلے منصوبہ میں بھی ہم اس چیز پر عملدرآمد کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشن گنگا پاور پراجیکٹ میں ہم نے سندھ طاس معاہدہ کے تحت اپنے حقوق کا کامیابی سے دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیلم جہلم پاور پراجیکٹ مارچ 2018ء میں کام شروع کر دے گا۔