پاناماکیس فیصلے پر اپوزیشن جماعتوں کا کہناہےکہ عدالتی فیصلے کے بعدوزیراعظم میاں نوازشریف اخلاقی طورپر مستعفی ہوجائیں
| |
Home Page
منگل یکم ذیقعدہ 1438ھ 25 جولائی 2017ء
April 21, 2017 | 12:00 am
پاناماکیس فیصلے پر اپوزیشن جماعتوں کا کہناہےکہ عدالتی فیصلے کے بعدوزیراعظم میاں نوازشریف اخلاقی طورپر مستعفی ہوجائیں

Todays Print

اسلام آباد(ایجنسیاں)پاناماکیس فیصلے پر اپوزیشن جماعتوں کا کہناہے کہ عدالتی فیصلے کے بعدوزیراعظم میاں نوازشریف اخلاقی طورپر مستعفی ہوجائیں‘اب ان کی مزیدتلاشی ہوگی‘چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہناہے کہ فیصلہ قبول کرتے ہیں ‘60دن بعد جشن منائیں گے‘پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے فیصلہ مستردکرتے ہوئے کہاہے کہ 9ماہ تک قوم سے مذاق کیاگیا‘شیخ رشیدکاکہناہے کہ مٹھائیاں  بانٹنے والے کچھ دیرمیں شام غریباں منائیں گے جبکہ امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے کہاہے کہ فیصلہ حکومت کے منہ پر تھپڑہے۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پاناما کیس کے فیصلے کے بعدوزیراعظم نوازشریف سے مستعفی ہونے کامطالبہ دہراتے ہوئے کہاہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول کرتے ہیں‘ نواز شریف جھوٹ بولنے کی خوشیاں منا رہے ہیں اور مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں‘جے آئی ٹی کی تشکیل کے اعلان سے ثابت ہوا کہ ججوں نے وزیراعظم کے شواہد مسترد کردئیے ‘ صرف 60 دن کی بات ہے اس کے بعد جشن منائیں گے ۔ پاناما کیس کے فیصلے کے بعد بنی گالا میں پارٹی کے خصوصی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کافیصلہ مجھے قبول ہے‘ملکی تاریخ میں ایسا فیصلہ نہیں آیا‘سپریم کورٹ کے ججز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں‘مستقبل کے دو چیف جسٹس صاحبان نے کہا ہے کہ ان کو گھر بھیج دو‘2سینئرججزکی جانب سے نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے بعد وہ اخلاقی جواز کھو بیٹھے ہیں جبکہ پانچوں ججوں نے نواز شریف کا موقف مسترد کردیا ہے جے آئی ٹی بنانے کا پانچوں ججز کا متفق فیصلہ سامنے آیا ہے، اس کا مطلب نوازشریف کی منی ٹریل مسترد کردی گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جب جے آئی ٹی پوچھ گچھ کے لئے بلائے گی تو کیا نواز شریف بطور وزیراعظم ایک سرکاری افسر کو بیان دیں گے ؟ وزیر اعظم نے اگر استعفیٰ نہ دیا تو وہ جے آئی ٹی کو بھی کام کرنے نہیں دیں گے‘مجھے انتہائی خوشی ہے کہ اب ملک کے سب سے طاقتور شخص کو اداروں کے سامنے پیش ہونا پڑے گا‘اب انہیں لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کی طرح ایک سرکاری افسر کے سامنے پیش ہو کر سوالات کے جوابات دینا پڑیں گے جو ملک کے وزیراعظم کےلئے باعث شرم ہے چنانچہ جب تک جے آئی ٹی اپنا فیصلہ نہیں کرتی نواز شریف کو چاہیے کہ وہ اپنے منصب سے الگ ہوجائیں کیوں کہ ان کے وزیراعظم ہوتے ہوئے کوئی بھی ادارہ ماسوائے فوج کےان سے سوال نہیں کرسکتا اورنہ ہی ان کے خلاف کوئی فیصلہ دے سکتا ہے ‘مسلم لیگ( ن) کی جانب سے خوشیاں منائے جانے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ کس چیز کی مٹھائی تقسیم کی جارہی ہیں اس لیے کہ سپریم کورٹ کے دو جج نے کہا ہے کہ وزیراعظم جھوٹا ہے جبکہ تین ججوں نے بھی ایک چیز قطری خط نہیں مانا اس لیے جے آئی ٹی بنی ہے اس لیے خوشیاں منائی جارہی ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے کارکنوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ʼاب وزیراعظم اور ان کے بچوں سے تفتیش ہوگی اور اگر ہمارے کارکن جدوجہد نہیں کرتے تو آج یہ نہیں ہونا تھا‘60روزمیںوزیراعظم کی مزید تلاشی ہو گی‘قطری خط مسترد ہوا، اب حدیبیہ پیپر کیس بھی کھلے گا،اسحاق ڈار کے اعترافی بیان پر بھی پوچھ گچھ ہو گی۔ دریں اثناءمیڈیارپورٹس کے مطابق عمران خان نے آج  قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کا اعلان کیا ہے ‘چیئرمین پی ٹی آئی ایوان میں خطاب کریں گے۔دریں اثناء پیپلز پارٹی نے پاناما کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کومسترد کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف سے فوری طورپر مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا‘ سابق صدر آصف علی زرداری نے کہاکہ وزیراعظم نااہل ہوچکے ہیں‘ اخلاقی طورپر انہیں مستعفی ہوجاناچاہیے ‘جو کام سپریم کورٹ نہ کرسکی وہ گریڈ19کا افسرکیسے کرے گا ؟ سپریم کورٹ کے فیصلے سے جمہوریت اور انصاف کو نقصان پہنچا‘نوماہ عوام سے دھوکا اور مذاق کیاگیا‘پیپلز پارٹی اورقوم کو ججز سے کبھی انصاف نہیںملا، مٹھائیاں تقسیم کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے ۔ جمعرات کو پیپلزپارٹی کے اعلیٰ سطح اجلاس کے بعدپریس کانفرنس کرتے ہوئےپیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نوازشریف نااہل ہوچکے ہیں ،سپریم کورٹ کے دو سینئر ججوں کو سلام پیش کرتا ہوں‘دو سینئر ججوں نے کہہ دیا ہے کہ نوازشریف صادق اورامین نہیں رہے‘ سینئرججز کافیصلہ جونیئر ججز پر فوقیت رکھتا ہے‘ وزیراعظم کو اخلاقی طورپر استعفیٰ دے دیناچاہیے لیکن میں جانتاہوں وہ یہ قدم نہیں اٹھائیں گے‘ سپریم کورٹ کے فیصلے کی مذمت کرتاہوں‘ سپریم کورٹ کے ججزجو کام نہ کرسکے وہ انیس گریڈ کاافسرکیاکریگا‘ کیا وزیراعظم تھانے جاکراپنابیان دیں گے یاان سے بیان وزیراعظم ہائوس میں لیاجائے گا‘سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں ‘جونیئرججز کی اکثریت نے عوام سے مذاق کیاہے سینئرججز نے بہترین فیصلہ دیا‘یہ نااہل حکومت ہے‘مذاق کے علاوہ کوئی کام نہیں کرتے ان کو شرم آنی چاہیے کس بات کی مٹھائی تقسیم کررہے ہیں‘ ججز نے کہہ دیا کہ یہ صادق اور امین نہیں رہے کیا اس بات کی مٹھائی کھارہے ہیں‘عمران خان سے کہاتھا کہ پہلے آئین سازی کریں پھر سپریم کورٹ جائیں لیکن وہ ناتجربہ کار سیاستدان ہیں نہ کبھی جیل گئے ہیں وہ اس کو نہ سمجھ سکے عمران خان نے اپنی سیاست چمکانے کیلئے ڈرامہ کیا جس سے نوازشریف کو فائدہ ہوا‘فیصلے کو مکمل پڑھ کراپنا باقی رد عمل دیں گے‘اگر پاکستان نواز شریف کے ہاتھ میں محفوظ نہیں تو عمران خان کے ہاتھ میں بھی محفوظ نہیں ‘ایک سوال کے جواب میں زرداری نے کہاکہ مجھے پی ٹی آئی کی کوئی ضرورت نہیں ‘اختلافی نوٹ لکھنے والے اور وزیر اعظم کو نااہل قرار دینے والے دو ججوں کو سلام پیش کرتا ہوں ‘ان ججوں نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ نواز شریف صادق اور امین نہیں ہیں‘اگر کوئی سیاستدان 50 ہزار افراد لے کر سڑکوں پر آ جائے تو حکومت اس کے ہاتھ میں نہیں دی جا سکتی‘عمران خان کے ڈرامے کا سب سے زیادہ فائدہ وزیراعظم کو پہنچا‘پیپلز پارٹی کا پہلے روز سے موقف تھا کہ پاناما کیس سپریم کورٹ میں نہیں جانا چاہیے لیکن چند نا اہل سیاستدان اپنی سیاست چمکانے کے لئے اس کیس کو سپریم کورٹ میں لے گئے‘اعتزازاحسن عدالت میںاس کیس کو لڑتے توفیصلہ کچھ اورہوتا‘عمران خان کو نہیں پتہ یہاں ججزکیسے چلتے ہیں‘عدالتیں کس طرح کام کرتی ہیں‘آصف زرداری نے کہا کہ اب دنیا کو پتہ چل گیا ہے کہ نواز شریف کا چہرہ وہ نہیں ہے جو آج تک دکھاتے رہے ہیں کہ وہ شریف ہیں آپ کسی بھی لسی والے یا دودھ والے کے پاس چلے جائیں تو وہ کہے گا کہ گلی گلی میں شور ہے، نواز شریف چور ہے۔اس موقع پر اعتزاز احسن نے کہا کہ تین ججز کا فیصلہ ناقص ہے اور جے آئی ٹی بنانا نواز شریف کو راہ فرار دینے کے مترادف ہے، اکثریتی فیصلے سے نظریہ ضرورت کی بو آ رہی ہے‘ دو سینئر ججز کا فیصلہ تین ججز پر حاوی ہے کیونکہ 2 ججز نے نواز شریف کو نااہل قرار دیا ہے جبکہ باقی تین ججز نے اس رائے کی نفی نہیں کی ہے بلکہ ایک مختلف رائے دی ہے‘سپریم کورٹ نے نوازشریف کے حوالے سے ہمیشہ نرم رویہ رکھا‘مسلم لیگ (ن)سپریم کورٹ پر حملہ کرتی ہے، چیف جسٹس اور ججز کو پچھلے دروازے سے بھاگنا پڑتا ہے لیکن آج تک ان کے خلاف کچھ نہیں ہوا۔ادھرعوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ حکومت کا ستیاناس ہوگیا ، مٹھائیاں تقسیم کرنیوالے کچھ دیر میں شام غریباں منائیں گے ، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں شیخ رشید نے کہا کہ نواز لیگ کی حکومت کا ستیاناس ہوگیا ہے آج دو ججز نے وزیراعظم کو نااہل قرار دے دیاہے ‘جو لوگ ابھی مٹھائی تقسیم کررہے ہیں کچھ دیر بعد یہ شام غریباں منائیں گے۔